عبد اللہ بن مسعود

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(عبداللہ بن مسعود سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
عبد اللہ بن مسعود
(عربی میں: عبد الله بن مسعود خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
عبد الله بن مسعود.png،  وAbdullah ibn Masud verliest vor den Quraisch in Mekka den Heiligen Qur'an (Miniatur aus Siyer-i-Nebi 1595 n.Chr.).jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش صدی 6  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 650 (49–50 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن جنت البقیع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ زینب بنت ابو معاویہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
نمایاں شاگرد انس بن مالک  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ قاضی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل فقہ،  وتفسیر قرآن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوۂ بدر،  وغزوہ احد،  وغزوہ خندق،  وغزوہ خیبر،  وغزوہ حنین،  وفتح مکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

عبد اللہ بن مسعود (عربی: عَبْدُ اللهِ بنُ مَسْعُوْدِ بنِ غَافِلِ بنِ حَبِيْبٍ الهُذَلِيُّ ) حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جلیل القدر اصحاب میں سے تھے۔ براویتے آپ سے پہلے صرف پانچ افراد نے اسلام قبول کیا اس لیے آپ سابقون الاولون میں شامل ہیں۔ آپ نے غزوہ بدر سمیت ہر بڑے غزوہ میں شرکت کی۔

حلیہ[ترمیم]

جسم لاغر، قد کوتاہ، رنگ گندم گوں اور سر پر کانوں تک نہایت نرم و خوبصورت زلف عبد اللہ ابن مسعود اس کو اس طرح سنوارتے تھے کہ ایک بال بھی نہ بکھرنے پاتا تھا۔[1] ان کی ٹانگیں نہایت پتلی تھیں عبد اللہ بن مسعود ان کو ہمیشہ چھپایا کرتے تھے ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے مسواک توڑنے کے لیے پیلو کے درخت پر چڑھے تو ان کی پتلی ٹانگیں دیکھ کر لوگوں کو بے اختیار ہنسی آ گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کی پتلی ٹانگوں پر ہنستے ہو حالانکہ یہ قیامت کے روز میزانِ عدل میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ بھاری ہوں گی۔[2]

حالات[ترمیم]

عبد اللہ بن مسعود نے اسلام کے اعلان کے فوراً بعد اسلام قبول کر لیا اور شروع سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رہے۔ آپ قرآن کا خوب علم رکھتے تھے اور آیات کے بارے میں جانتے تھے کہ وہ کب، کہاں اور کس چیز کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ آپ نے تمام غزوات میں شرکت کی اور 32ھ میں انتقال فرمایا۔ آخر عمر میں آپ کے حضرت عثمان اور حضرت سعد بن ابی وقاص سے شدید اختلافات ہو گئے تھے۔[3] آپ سے بے شمار احادیث مروی ہیں۔

وفات[ترمیم]

آپ کا انتقال 32ھ میں ہوا۔ آپ نے وصیت فرمائی تھی کہ جناب عثمان بن مظعون کے پہلو میں دفن کیا جائے اور کہا تھا کہ بے شک عثمان ابن مظعون فقیہہ تھے۔ آپ کی نمازِ جنازہ عمار بن یاسر نے پڑھائی اور مدینہ میں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. سیر اعلام النبلاء از شمس الدین ذہبی ج 3، ص 219
  2. سیر اعلام النبلاء از شمس الدین ذہبی ج 3، ص 211
  3. اسد الغابہ ابن اثیر