خارجہ بن حذافہ سہمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خارجہ بن حذافہ سہمی
معلومات شخصیت
عملی زندگی
پیشہ عسکری قائد  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نام ونسب[ترمیم]

خارجہ نام، باپ کا نام حذافہ تھا، نسب نامہ یہ ہے، خارجة بن حذافة بن غانم بن عامر بن عبد الله بن عبيد بن عويج بن عدي بن كعب بن لؤي، القرشي العدوي ، خارجہ زمانۂ جاہلیت کے مشہور شہ سواروں میں تھے اور تنہا ہزار پر بھاری تھے۔ [1]

اسلام[ترمیم]

فتح مکہ میں مشرف باسلام ہوئے۔ [2]

فتح مصر[ترمیم]

عہد فاروقی میں جب مصر پر فوج کشی ہوئی اوراس کی تسخیر میں زیادہ عرصہ لگا، تو عمروبن العاص نے دار الخلافہ سے مزید امداد طلب کی، حضرت عمرؓ نے خارجہ ،زبیر بن عوام اورمقداد ؓبن اسود کو فوج دیکر روانہ کیا، [3] ان میں سے ہر ایک ہزار پر بھاری تھا، ان لوگوں کے پہنچنے کے بعد نہایت آسانی کے ساتھ فتح ہو گیا، فتح کے بعد عمرو بن العاص حذیفہ کو مصر کا حاکم بنا کر خود اسکندریہ کی طرف بڑھے [4] اسکندریہ لینے کے بعد لوٹے تو حذیفہ کو مصر کے عہدۂ قضا پر مامور کیا۔ [5]

شہادت[ترمیم]

جنگِ صفین وغیرہ کے بعد جب خارجیوں نے حضرت علیؓ ،امیر معاویہ اورعمرو بن العاصؓ کا خاتمہ کرنا چاہا تو تین خارجیوں نے تینوں کے قتل کرنے کا بیڑا اٹھایا،عمروبن العاصؓ کا قاتل مصر پہنچا اورپچھلے پہر مسجد میں چھپ کر بیٹھ گیا تاکہ جب عمرو ؓبن العاص نماز پڑہنے کے لیے نکلیں تو ان کا کام تمام کر دے،مگر اس دن عمرو بن العاصؓ کی طبیعت کچھ ناساز تھی، اس لیے ان کی بجائے حذافہ نماز پڑھانے کے لیے آئے، قاتل کو اندھیرے میں شناخت نہ ہو سکی اوراس نے حذافہ کو عمرو بن العاص سمجھ کر قتل کر دیا ،یہ واقعہ رمضان 40ھ کا ہے۔ [6]

فضل و کمال[ترمیم]

فضل وکمال کے لیے مصر کے عہدۂ قضا کی سند کافی ہے،عبد اللہ بن ابی مرہ اورعبداللہ بن جبیر نے ان سے روایت کی ہے۔ [7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (اسد الغابہ:2/79)
  2. (اصابہ:2/84)
  3. (اسد الغابہ:2/79)
  4. (فتوح البلدان بلاذری:32)
  5. (ابن سعد،4،ق1:138)
  6. (تہذیب التہذیب)
  7. (تہذیب الکمال:99)