ابو ثعلبہ الخشنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ابوثعلبہ خُشنیاصحابِ صفہ میں ان کا شمار ہوتاہے ۔ [1]۔ ابوثعلبہ کے نام اور ان کے والد کے نام کے سلسلے میں بہت اختلاف ہے ۔ امام احمدبن حنبل، یحیٰ بن معین، ابن سعداور ابن حبان کاکہنا ہے کہ ان کا نام ’’جُرہُم بن ناشم‘‘ ہے ۔[2] قبول اسلام : ابن سعد کی روایت ہے جس وقت رسول کریم غزوۂ خیبر کی تیاری فرما رہے تھے ، یہ خدمتِ نبوی میں حاضر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے اور رسول اللہ کے ساتھ غزوۂ خیبر میں شریک رہے۔پھرسات افرادپرمشتملوفدخُشین رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اوریہ سارے لوگ ابوثعلبۃ ہی کے پاس قیام کیے ۔[3] ابنِ کلبی کی روایت ہے کہ ابو ثعلبہ بیعتِ رضوان میں شریک رہے اورپیغمبراسلام نے غزوۂ خیبرکے موقع سے انہیں مالِ غنیمت میں شریک فرمایا اور ابوثعلبہ کوان ہی کی قوم’’خشین‘‘ کے پاس داعئ اسلام اور مبلغِ اسلام بناکربھیجا، جس کے نتیجہ میں پوری قوم شرفِ اسلام سے بہرہ ورہوگئی۔ ابوثعلبہ بہت زیادہ عبادت گذارتھے ، ان کا معمول تھاکہ روز انہ رات میں گھر سے باہر نکلتے اور کافی دیر تک اللہ تعالیٰ کی خلقت: آسمان، تارے وغیرہ میں غور و فکر کرتے ، پھر واپس لوٹ کر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ میں گرجاتے ۔ ان کا انتقال بھی سجدہ ہی کی حالت میں ہوا۔[4]۔ نبی اکرم سے ملکِ شام میں زمین کا مطالبہ ابوثعلبہ کا بیان ہے کہ میں نبی اکرم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول : آپ ملکِ شام میں میرے نام اتنی زمین الاٹ کردیجیے ۔ رسول اللہ نے اس وقت الاٹ نہیں کیا اور صحابۂ کرام کی جانب متوجہ ہوکر فرمایا: کیاتم لوگ اس کی بات نہیں سن رہے ہو؟ میں نے عرض کیا: اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے میں ضرور اس زمین کو حاصل کرکے رہوں گا۔ تونبی اقدس نے اس مطلوبہ زمین کو میرے نام الاٹ کر دیا۔[5]انہوں نے شام میں سکونت اختیار کرلی اور وہیں ان کی ذریت نے نشو و نما پائی ۔

وفات[ترمیم]

ابوثعلبہ اپنی وفات سے پہلے اپنے شاگرد وں اور متوسلین سے کہا کرتے تھے کہ مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے یہ امید ہے کہ میری موت تم لوگوں کی طرح نہیں ہوگی بلکہ عام لوگوں کی موت سے الگ تھلگ میری موت ہوگی اور ایسا ہی ہوا۔تہجدکی نماز پڑھ رہے تھے ، سجدہ کی حالت میں روح قبض ہو گئی 75ھ شام میں وفات پائی[6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. حلیۃ الأولیاء: 2/29۔ امام ابو نعیم اصبہانی
  2. طبقات ابنِ سعد : 7/416،الإ صابۃ : 4/30۔
  3. طبقات ابنِ سعد : 7/416،الإ صابۃ : 4/30۔
  4. الإصابۃ : 4/30
  5. مسند أحمد: 4/193-
  6. طبقات ابن سعد : 7/416۔