ابو فضالہ انصاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ابو فضالہ انصاری غزوہ بدر میں شامل ہونے والے انصار صحابہ میں شامل ہیں۔

  • ان کا نسب الحارث بن ربعی بن بلدمہ بن خناس بن سنان بن عبيد بن عدی بن غنم بن كعب بن سلمہ بن سعد بن علی بن راشد بن ساردة بن تزيد بن جشم بن الخزرج، ابو قتادة الانصاري الخزرجی، ثم من بنی سلمہ، ہے۔[1]
  • مسند احمد:جلد اول:حدیث نمبر 763 میں ہے

فضالہ جن کے والد ابو فضالہ انصاری بدری صحابہ کرام میں سے تھے کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ علی المرتضی کی بیمار پرسی کے لیے گیا، وہ کچھ بیمار ہو گئے تھے اور اس سے ان کی طبیعت بوجھل ہو رہی تھی، میرے والد صاحب نے ان سے کہا کہ بیماری نے آپ کا کیا حال کر رکھا ہے؟ اگر آپ کا آخری وقت آپہنچا تو آپ کے پاس جہینہ کے دیہاتیوں کے علاوہ کوئی نہیں آئے گا جو آپ کو مدینہ منورہ لے جائیں گے، اس لیے اگر آپ کا آخری وقت قریب آجائے تو آپ کے ساتھیوں کو آپ کا خیال کرنا چاہیے اور آپ کی نماز جنازہ پڑھنی چاہیے، علی المرتضی نے فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یہ بات بتا رکھی ہے کہ میں اس وقت تک نہیں مروں گا جب تک کہ میں خلیفہ نہ بن جاؤں، اس کے بعد یہ داڑھی اس سر کے خون سے رنگین ہو جائے گی چنانچہ ایسا ہی ہوا اور علی المرتضی اپنے دور خلافت میں شہید ہوئے، جبکہ ابوفضالہ علی المرتضی کے ساتھ جہاد میں شریک ہو کر جنگ صفین کے موقع پر شہید ہو گئے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ ،مؤلف: أبو الحسن عز الدين ابن الاثير الناشر: دار الفكر بيروت
  2. اصحاب بدر،صفحہ 211،قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور