آمنہ بنت شرید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
آمنہ بنت شرید
معلومات شخصیت
مقام پیدائش کوفہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 670  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حمص  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شریک حیات عمرو بن حمق  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

آمنہ بنت شرید، صحابی عمرو بن حمق خزاعی کی بیوی، کوفہ کی رہنے والی شیعان علی بن ابی طالب میں سے تھیں۔[1] نہایت حاضر جواب اور فصیح الکلام خاتون تھیں، جناب معاویہ بن ابو سفیان سے ان کا کلامی مباحثہ ہوا ہے۔[2]

حالاتِ زندگی[ترمیم]

آمنہ بنت شرید کی حالاتِ زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات موجود نہیں ہیں، بس مختصراً اتنا معلوم ہوتا ہے وہ اور ان کے شوہر عمرو بن حمق خزاعی، شیعان علی اور ان کے خاص حمایتی تھے، علی بن ابی طالب کی وفات (قتل) کے بعد معاویہ بن ابو سفیان نے شیعان علی کو گرفتار کرنے حکم دیا، لیکن ان کے شوہر کو گرفتار کرنے میں ناکام رہے۔ پھر ان کی بیوی جناب آمنہ کو دو سال تک دمشق کے قید خانہ میں رکھا اور اسی دوران ایک زبردست کلامی واقعہ پیش آیا جو تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے۔

اس کے علاوہ آمنہ نہایت حاضر جواب، فصیح الکلام اور بہادر خاتون تھیں۔ کوفہ سے جلا وطنی کے بعد حمص چلی گئیں اور وہیں طاعون کی وبا کی وجہ سے سنہ 50ہجری میں وفات ہوئی۔[3] بعض شیعہ روایات کے مطابق زہر کی وجہ سے وفات ہوئی تھی۔[4]

واقعہ کی تفصیل[ترمیم]

جب جناب علی بن ابی طالب کا قتل ہو گیا تو معاویہ بن ابو سفیان نے شیعان علی کی تلاش کا حکم دیا، مطلوبہ شیعان علی میں آمنہ کے شوہر عمر بن الحمق خزاعی بھی تھے، لیکن ان کو گرفتار نہیں کر سکے۔ پھر جناب معاویہ نے ان کی بیوی آمنہ بنت شرید کو گرفتار کرنے کا حکم دیا، انھیں دمشق کے قید خانہ میں دو سال تک قید کر دیا گیا۔ پھر کچھ عرصہ بعد عبد الرحمن بن حکم ان کو شوہر کو کسی جزیرہ میں پکڑنے میں کامیاب ہو گئے اور قتل کر دیا، ان کے سر کو جناب معاویہ کی خدمت میں بھیجا۔ جب قاصد سر کو لیکر ان پاس پہنچا تو انھوں نے اسے ان کی بیوی کے پاس جیل میں بھجوا دیا اور جیل کے محافظ کو کہلا بھیجا کہ: «اس سر کو آمنہ کی گود میں رکھنا پھر جو کچھ وہ کہتی ہے اسے دھیان سے سن کر مجھ تک پہنچانا»۔ چنانچہ ایسا ہی کہا۔ ایک لمحہ کے لیے تو آمنہ ہکا بکا ہو گئیں اور مقتول سر پر ہاتھ پھیرنے لگیں پھر کہا:

ہائے غم اس ذلت کی تنگ جگہ پر، پہلے تو تم لوگوں نے ان کو مجھ سے دور کیا اور اب قتل کرکے مجھے ہدیہ کر رہے ہو۔ بہت اچھا کیا، میں اس دن کو یاد رکھوں گی اور کبھی نہیں بھولوں گی۔ ائے قاصد اسے لے معاویہ کے پاس لے جا اور کہنا: اللہ تیری اولاد کو عبرت بنائے، تیرے اہل وعیال کو دور کر دے اور اللہ کبھی معاف نہ کرے۔

جب قاصد نے جناب معاویہ کو یہ سب بتایا تو انھوں نے آمنہ کو بلوایا اور پوچھا کیا تم نے یہ سب کہا ہے؟ انھوں نے کہا: «جی ہاں بالکل میں نے ہی کہا ہے اور میں اس پر مطمئن ہوں، مجھے اس پر کوئی ندامت نہیں ہے»۔ جناب معاویہ نے یہ سن کر منھ پھیر لیا، ان کے بعض مصاحبین کو بھی غصہ آیا اور قتل کرنے کی اجازت مانگی۔ لیکن آمنہ پوری بہادری کے ساتھ ڈٹی رہیں اور بہت کچھ سخت سست سنایا۔ جناب معاویہ نے حکم دیا: «اس خاتون کو شام سے ملک بدر کر دیا جائے» چنانچہ آمنہ بنت شرید کوفہ سے چلی گئیں، وہاں بھی وہ اپنی حق گوئی اور صاف بیانی میں مشہور رہیں، حکومت کے خلاف کھل کر بولا کرتی تھیں۔ ان کی زبان کو بند کرنے کے لیے حکومتی کارندوں کے ذریعہ کچھ تحفے تحائف بھیجے گئے۔ آمنہ نے کہا: «میرے شوہر کے قتل اور میری جلا وطنی کے بعد مجھے انعامات دیا جا رہا ہے، معاویہ پر تعجب ہوتا ہے»۔ پھر اسی جلا وطنی میں حمص میں وفات پائی۔[5][6][7][8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الديارات 114
  2. خير الدين الزركلى : الأعلام – قاموس تراجم لأشهر الرجال والنساء من العرب والمستعربين والمستشرقين -المجلد الأول – دار العلم للملايين – الطبعة السابعة مايو- أيار 1986 .
  3. الاعلام للزرکلی، ج1، ص26
  4. اعیان الشیعہ للامین، ج2، ص95
  5. أعلام النساء جزء 1 - صفحة 4
  6. الأمين، محسن. أعيان الشيعة - ج2. صفحہ 95. 08 دسمبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  7. أعلام النساء جزء 1 - صفحة 4
  8. الأمين، محسن. أعيان الشيعة - ج2. صفحہ 95. 08 دسمبر 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ.