لبید بن ربیعہ عامری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
لبید بن ربیعہ عامری
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 560[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات سنہ 661 (100–101 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر،مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں لبید بن ابی ربیعہ عامری کا معلقہ قصیدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

ابو عقیل بن ربیعہ عامری کی پیدائش 104 قبل ہوئی۔ لبید عہد جاہلیت کا ممتاز شاعر تھا۔

نسب[ترمیم]

ان کا نسب لبيد بن ربيعة بن مالك بن جعفر بن كلاب بن ربيعة بن عامر بن صعصعة ہے۔

قبول اسلام[ترمیم]

وفد بنو کلاب میں 13 افراد آئے ان میں لبید عامری بھی تھے یہ رملہ بنت حارث کے گھر میں ٹھہرے سب وفد کے لوگ اسلام لائے اور واپس ہوئے۔[2]

حالات زندگی[ترمیم]

لبید نے سخاوت اور بہادری کی آغوش میں پرورش پائی۔ اس کا باپ ربیعہ پریشان حال لوگوں کی امید گاہ تھا، اس کا چچا مضر اور ملاعب الاسنہ (نیزوں سے کھیلنے والا) تھا۔ اس کے اشعار کہنے کا سبب یہ تھا کہ اس کا ماموں عبس کا امیر ربیعہ بن زیاد نعمان بن منذر کے پاس گیا اور بنو عامر کے متعلق غلط قسم کی باتیں کیں۔ جب بنو عامر کا وفد ملاعب الا سنۃ کی قیادت میں نعمان بن منذر کے پاس پہنچا تو اس نے وفد کو اہمیت نہ دی اور بے رخی برتی۔ اس ناروا سلوک سے بنو عامر کو بہت دکھ ہوا اور انہوں نے اپنی بے عزتی محسوس کی۔ لبید ان دنوں بہت چھوٹا سا ہے۔ اس لیے اس نے کہا مجھے بھی اپنے معاملے میں شریک کر لیں۔ لیکن انہوں نے اسے چھوٹا سمجھتے ہوے اسے نظر انداز کر دیا۔ جب اس نے با رہا اصرار کیا تو انہوں نے اس کی درخواست قبول کرلی اور اس نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ انتقام میں ربیعہ کی ایسی ہجو کہے گا بادشاہ اسے اپنی مجلس سے اٹھا دے گا۔ اس کے قبیلے کے لوگ کہنے لگے ہم پہلے تیری آزمائش کرتے ہیں۔ اس نے کہا وہ کیسے؟ انھوں نے کہا،کہ اس انگوری (بوٹی) کی حقارت بیان کرو۔ اس وقت ان کے سامنے باریک شاخوں والی کم پتوں والی اور زمین پر بچھی ہوئی ’تربہ ‘ کی بوٹی پڑی ہوئی تھی تو لبید کہنے لگا۔ ’’اس تربہ (بوٹی) سے نہ تو آگ جل سکتی ہے اور نہ وہ گھر میں لگانے کے کام آتی ہے، نہ ہی کسی پڑوسی یا دوست کے لیے خوشی کا سامان بن سکتی ہے، اس کی لکڑی کمزور ہے اس کا فائدہ کم ہے، اس کی شاخیں چھوٹی ہیں، چراگاہ میں سب سے گھٹیا چارا ہے اور بہت مشکل سے اکھڑنے والی ہے‘‘۔ تو قوم نے اسے ہجو گوئی کی اجازت دے دی۔ چناں چہ اس نے نہایت چبھتی ہوئی ہجو کہی، جس کا پہلا مصرع یہ۔

بادشاہ سلامت ؛ ذرا ٹھہریئے، خدا آپ کے اقبال کو بلند کرے، اس کے ساتھ کھانا نہ کھایئے۔

یہ رجز سننے کے بعد بادشاہ اس سے متنفر ہو گیا اور اتنا ناراض ہوا کہ اس کو اپنے دربار سے نکال دیا اور عامریوں کو اعزاز و اکرام دیا اور اپنا مقرب بنالیا۔ کہتے ہیں کہ لبید کی یہ پہلی رجز تھی جس کے ساتھ لبید کی شہرت ہوئی تو یہ اپنی قوم کا وفد لے کر رسول اکرام کی خدمت میں آیا اور629ء مسلمان ہو گیا پھر اس نے قرآن کریم کو حفظ کیا اورشاعری کو ترک کر دیا۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ اسلام لانے کے اس نے صرف ایک ہی شعر کہا۔

خدا کا شکر ہے اللہ نے مجھے موت آنے سے پہلے اسلام کا لباس پہنا دیا۔

وفات[ترمیم]

اس وجہ سے اسے جاہلی شعراء میں شمار کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ اسلام لانے کے بعد طویل عرصہ تک زندہ رہا۔ جب کوفہ شہر بسایا گیا تو یہ خلافت فاروقی میں وہاں چلا گیا اور وہیں مقیم ہو گیا اورمعاویہؓ کی خلافت کے اوائل میں 41 ھ 661ء میں ایک سو پینتالیس (145)کی عمر میں فوت ہوا۔ خود اس کا شعر ہے ’میں زندگی اور اس کی طوالت سے اکتا گیا ہوں اور لوگوں کے یہ بار بار پوچھنے سے تنگ آگیا ہوں کہ لبید کا کیا حال ہے۔[3]

شاعری[ترمیم]

ملاحظہ ہو: لبید بن ابی ربیعہ عامری کا معلقہ قصیدہ

لبید بڑا فیاض، عقلمند شریف النفس، مروت کا پیکر اور بہادر دل کا مالک تھا۔ یہی اس کے اخلاق و جذبات ہیں جو اس کے کلام میں نظر آتے ہیں۔ اس شاعری میں فخریہ لہجہ اور شرافت و کرم کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کے قصیدے کے الفاظ پر شوکت عبارت کی ترتیب خوشنما، جو حکمت عالیہ سے بھرپور، موعظہ حسنہ کا مرقع اور جامع کلمات سے مزین ہے۔ ہمارے خیال کے مطابق صابر اور غمزدی کے جذبات و احساسات کی ترجمانی کے لیے جو مناسب الفاظ اور پر اثر بیان وہ اختیار کرتا ہے اور اس میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔

جہاں تک اس کے قصائد کا تعلق ہے تو اس کے الفاظ پر زور اور اسلوب متین ہے، وہ بدوی زندگی اور دیہاتی اخلاق و عادات کی منہ بولتی تصویر ہے، نیز اس میں عاشقوں کے ناز و انداز، شوخیوں اور باہمت لوگوں کے اعلیٰ مقاصد کی تعریف کی ہے۔

اس نے اپنے قصائد کی ابتدا کھنڈر کے وصف اور محبوبہ کی یاد سے کی ہے، پھر طرفہ کی طرح اپنی اونٹنی کا طویل وصف بیان کیا، پھر چلتے چلتے اپنی زندگی اس کی لذتوں، جود و سخاوت اور جنگ و حرب کا ذکر کرتے ہوئے قومی فخر کے اظہار پر اس کا قصیدہ کا اختتام کرتا ہے۔ لیکن اس تمام طویل قصیدے میں سچائی، خلوص اور اعتدال کے دامن کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 جی این ڈی- آئی ڈی: http://d-nb.info/gnd/118568469 — اخذ شدہ بتاریخ: 16 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. اسد الغابہ المؤلف: عز الدين ابن الأثير ،الناشر: دار الفكر - بيروت
  3. الطبقات الكبرى المؤلف: أبو عبد اللہ محمد بن سعد المعروف بابن سعد الناشر: دار الكتب العلمية - بيروت
  4. احمد حسن زیات۔ تاریخ ادب عربی۔ ترجمہ، محمد نعیم صدیقی۔ شیخ محمد بشیر اینڈ سنز سرکلر روڈ چوک اردو بازار لاہور

بیرونی روابط[ترمیم]