طرفہ بن العبد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

طرفة بن العبد عہد جاہلیت کا ممتاز شاعر

حالات زندگی[ترمیم]

طرفہ بن سفیان بکری یتیم پیدا ہوا تھا۔ اس کے چچاؤں نے اس کی تربیت کی تھی۔ لیکن اس کی تربیت میں کوتاہی کی بلکہ اسے بے ادب بنادیا۔ جب یہ جوان ہواتو بے کار اور آرام پرست تھا، بلکہ یہ لہو و لہب اور مے نوشی کا عادی تھا۔ لوگوں کی عزتیں پامال کرکے انہیں زچ کرنے کا شوق رکھتا تھا۔ جوانی کی مستی میں آکر اس نے عمرو بن ہند بادشاہ کی ہجو کہہ ڈالی۔ حالانکہ اسے ابھی بادشاہ کی رضا کی ضرورت تھی اور وہ اس کے عطیات کا محتاج تھا۔ اس ہجو کی وجہ سے عمرو کے دل میں اس کے خلاف نفرت اور کینہ پیدا ہو گیا ۔

ایک مرتبہ وہ اپنے ماموں متلمس کے ساتھ بادشاہ کے پاس انعامات و بخشش کی غرض سے گیا ) متلمس نے بھی بادشاہ کی ہجو کہی تھی ( وہ دونوں سے بڑے پر تپاک انداز میں ملا کہ وہ دونوں کی اس کی طرف سے مطمئین ہوجائیں، بلکہ اس نے دونوں کو انعام دیا اور ساتھ ہی دو خط بحرین کے گورنر کے نام سے لکھ دیے اور کہا کہ وہاں جا کر مزید انعام وصول کر لیں۔ وہ ابھی بحرین کے راستہ میں ہی تھے کہ متلمس کو خط کے متعلق شک گزرا ،ا اس نے خط پڑھا تو اس میں لکھا تھا جونہی متلمس تیرے پاس خط لے کر پہہنچے اس کے دونوں ہاتھ اور پاؤں کاٹ کر زندہ دفن کردینا۔ اس نے وہ خط پھینک دیا اور طرفہ کو کہنے لگا تیرے خط میں بھی ایسا ہی لکھا ہوگا۔ اس نے کہا ہر گز میرے خط میں ایسا نہیں ہو سکتا۔ وہ سیدھا بحرین کے گورنر کے پاس پہنچا تو اس نے طرفہ کو قتل کر دیا۔ طرفہ کی عمر اس وقت چھبیس سال تھی اور یہ60ھ کا واقعہ ہے ۔

شاعری[ترمیم]

طرفہ بچپن سے ہی نہایت ذہین، انتہائی حساس اور تیز فہم تھا۔ ابھی اس کی عمر بیس سال ہوئی تھی کہ وہ بلند پایہ اور کامل شعرا میں شمار ہونے لگا۔ لیکن عمر بن کلثوم کی طرح طرفہ بھی صرف اپنے معلقہ کی وجہ سے مشہور ہوا۔ ہو سکتا ہے اس کے اشعار بہت زیادہ ہوں لیکن راویان شعر کی ان تک رسائی نہ ہو سکی ہو۔ طرفہ وصف میں راست گو اور مبالغہ میں غلو سے گریز کرنے میں امتیازی مقام رکھتا تھا۔ لیکن اس کے اشعار میں عمدہ ترکیبیں، غیر مانوس الفاظ اور مبہم مضامین پائے جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس کے معلقہ میں پایا جاتا ہے جس کی ابتدا غزل سے کی ہے پھر اس نے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے انوکھے اور منفرد انداز میں اپنی اونٹنی کی تعریف کی ہے، اس کے بعد اپنے ذاتی کمال کو فخریہ انداز میں پیش کیا ہے، جو نہایت پر مغز اور فصاحت و بلاغت سے بھرپور ہے ۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. احمد حسن زیات۔ تاریخ ادب عربی۔ ترجمہ، محمد نعیم صدیقی۔ شیخ محمد بشیر اینڈ سنز سرکلر روڈ چوک اردو بازار لاہور