سلمان فارسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سلمان فارسی
(عربی میں: سَلْمَان اَلْفَارِسِيّ‏ خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
سلمان فارسی
  -->

معلومات شخصیت
پیدائشی نام مابہ بن یوذخشان
مقام پیدائش بلاد فارس
وفات 33ھ
مدائن، عراق
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
کنیت ابو عبد اللہ
لقب سلمان الخیر
سلمان ابن الاسلام
عملی زندگی
طبقہ صحابہ
نسب فارسی
وجۂ شہرت: خندق کی نشاندہی کے لیے
نمایاں شاگرد انس بن مالک  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شاگرد (P802) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ واعظ،فوجی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں تمام بعد ایک کے
فتح اسلامی فارس

سلمان فارسی (فارسی : سلمان پارسی، عربی : سلمان الفارسی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشہور اصحاب میں سے تھے۔ ابتدائی طور پر ان کا تعلق زرتشتی مذ ہب سے تھا مگر حق کی تلاش ان کو اسلام کے دامن تک لے آئی۔ آپ کئی زبانیں جانتے تھے اور مختلف مذاہب کا علم رکھتے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں مختلف مذاہب کی پیشینگوئیوں کی وجہ سے وہ اس انتظار میں تھے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ظہور ہو اور وہ حق کو اختیار کر سکیں۔

نام نسب[ترمیم]

نسبی تعلق اصفہان کے آب الملک کے خاندان سے تھا، مجوسی نام مابہ تھا، اسلام کے بعد سلمان رکھا گیا اور بارگاہِ نبوت سے سلمان الخیرلقب ملا، ابوعبداللہ، کنیت ہے، سلسلۂ نسب یہ ہے: مابہ ابن بوذخشان بن مورسلان بن یہوذان بن فیروز ابن سہرک۔[1]

حالات[ترمیم]

سلمان فارسی ایران کے شہر اصفہان کے ایک گاؤں روزبہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا تعلق زرتشتی مذ ہب سے تھا۔ مگر سلمان فارسی کا دل سچ کی تلاش میں تھا۔ پہلے آپ نے مسیحیت اختیار کی اور حق کی تلاش جاری رکھی۔ ایک مسیحی راہب نے انہیں بتانا کہ ایک سچے نبی کی آمد قریب ہے جس کی پیشینگوئی پرانی مذہبی کتابوں میں موجود ہے۔ اس باعلم راہب نے اس نبی کا حلیہ اور ان کے ظہور کی ممکنہ جگہ یعنی مدینہ کے بارے میں بھی بتایا جو اس وقت یثرب کہلاتا تھا۔ یہ جاننے کے بعدسلمان فارسی نے مدینہ جانے کی کوشش شروع کر دی۔ مدینہ کے راستے میں ان کو ایک عرب بدوی گروہ نے دھوکے سے ایک یہودی کے ہاتھ غلام کے طور پر بیچ دیا۔ یہ یہودی مدینہ میں رہتا تھا چنانچہ سلمان فارسی مدینہ پہنچ گئے اور اس یہودی کے باغ میں سخت محنت پر مجبور ہو گئے۔ کچھ عرصے کے بعد انہوں نے سنا کہ ایک نبوت کے دعویدار مکہ شہر سے ہجرت کر کے مدینہ آئے ہیں۔ سلمان فارسی نے ان کی خصوصیات سے فوراً پہچان لیاکہ یہی اللہ کے سچے نبی ہیں۔ انہوں نے مہر نبوت بھی ملاحظہ کی۔ اس وقت انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ان کو غلامی سے آزادی دلانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے کھجور کے درخت بوئے جس کا مقصد یہودی کی شرط پوری کرنا تھا۔

مناقب[ترمیم]

ان کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوگا تو اس کی قوم کے لوگ اس کو ضرور تلاش کر لیں گے [2] غزوہ خندق کے موقع پر خندق کی کھدائی کے موقع پرسلمان سب سے زیادہ سرگرم تھے۔ اس پر مہاجرین نے کہا کہ " سلمان ہمارا ہے" انصار نے یہ سنا تو کہا "سلمان ہمارا ہے"۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " سلمان ہمارے اہل بیت میں سے ہے " اس لیے سلمان کو مہاجرین یا انصار کی بجائے اہل بیت میں شمار کیا گيا۔

زہد وتقویٰ[ترمیم]

ان کا زہد وورع اس حد تک پہنچ گیا تھا کہ جس کے بعد رہبانیت کی حد شروع ہوجاتی ہے، اس کی ادنی مثال یہ ہے کہ عمربھر گھر نہیں بنایا، جہاں کہیں دیواریادرخت کا سایہ ملتا پڑے رہتے، ایک شخص نے اجازت چاہی کہ میں آپ کے لیے مکان بنادوں؟ فرمایا: مجھ کواس کی حاجت نہیں، وہ پیہم اصرار کرتا رہا، یہ برابر انکار کرتے رہے، آخر میں اس نے کہا کہ آپ کی مرضی کے مطابق بناؤں گا، فرمایا: وہ کیسا؟ عرض کیا کہ اتنا مختصر کہ کھڑے ہوں توسرچھت سے مل جائے اور اگرلیٹیں توپیر دیواروں سے لگیں، فرمایا خیر اس میں کوئی مضائقہ نہیں؛ چنانچہ اس نے ایک جھونپڑی بنادی۔[3]

مواخاۃ[ترمیم]

غلامی سے آزادی کے بعد مسلمانوں کے ساتھ مستقل اقامت اختیار کی، اس وقت بالکل غریب الدیار تھے، کوئی شناسا نہ تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی مہاجرین کی طرح ان سے اور ابودرداء سے مواخاۃ (مواخاۃ کے معنی بھائی چارہ کے ہیں)کرادی۔[4]

غزوہ خندق[ترمیم]

غزوہ خندق کے مقام پر مسجد سلمان فارسی

غزوہ خندق کے دوران جب مسلمان شدید خطرے میں تھے، حضرت سلمان فارسی نے مشورہ دیا کہ مدینہ کے ارد گرد خندق کھودی جائے چنانچہ خندق کھودی گئی جس نے مشرکین کو حیران کر دیا کیونکہ یہ طریقہ اس سے پہلے عرب میں استعمال نہیں ہوا تھا۔

گورنری[ترمیم]

عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں مدائن کی حکومت پرسرفراز ہوئے، اس کی تفصیلات آئندہ اخلاق وعادات میں آئیں گی؛ چونکہ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مقربین بارگاہِ نبوی میں سے تھے؛ اسی لیے عمر رضی اللہ عنہ ان کا بہت احترام کرتے تھے، ایک دفعہ یہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اس وقت آپ ایک گدے پرٹیک لگائے بیٹھے تھے، سلمان رضی اللہ عنہ کودیکھ کر گدا ان کی طرف بڑھادیا۔[5]

وفات[ترمیم]

حضرت علی نے سلمان فارسی 656ء میں مدائن کا گورنر مقرر کیا مگر وہاں جانے کے چند ہفتے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔ آپ کی وفات10 رجب المرجب33ھ ہے۔[6] ان کا روضہ مدائن ہی میں ہے۔[7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. anwar-e-islam.org -&nbspThis website is for sale! -&nbspanwar-e-islam Resources and Information
  2. صحیح البخاری جلد 2 ص 727 قدیمی کتب خانہ کراچی
  3. استیعاب:2/576
  4. بخاری:2/898،
  5. مستدرک حاکم:3/599
  6. جہان امام ربانی،اقلیم ہشتم،صفحہ 377،امام ربانی فاؤنڈیشن کراچی
  7. تذکرہ مشائخ نقشبندیہ نور بخش توکلی صفحہ53 ناشر مشتاق بک کارنر لاہور