سلمان فارسی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ (فارسی : سلمان پارسی , عربی  : سلمان الفارسی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشہور اصحاب میں سے تھے۔ ابتدائی طور پر ان کا تعلق زرتشتی مذ ہب سے تھا مگر حق کی تلاش ان کو اسلام کے دامن تک لے آئی۔ آپ کئی زبانیں جانتے تھے اور مختلف مذاہب کا علم رکھتے تھے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں مختلف مذاہب کی پیشینگوئیوں کی وجہ سے وہ اس انتظار میں تھے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ظہور ہو اور وہ حق کو اختیار کر سکیں۔

نام نسب[ترمیم]

نسبی تعلق اصفہان کے آب الملک کے خاندان سے تھا، مجوسی نام مابہ تھا، اسلام کے بعد سلمان رکھا گیا اور بارگاہِ نبوت سے سلمان الخیرلقب ملا، ابوعبداللہ، کنیت ہے، سلسلۂ نسب یہ ہے: مابہ ابن بوذخشان بن مورسلان بن یہوذان بن فیروز ابن سہرک۔[1]

حالات[ترمیم]

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ایران کے شہر اصفہان کے ایک گاؤں روزبہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا تعلق زرتشتی مذ ہب سے تھا۔ مگر حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا دل سچ کی تلاش میں تھا۔ پہلے آپ نے عیسائیت اختیار کی اور حق کی تلاش جاری رکھی۔ ایک عیسائی راہب نے انہیں بتانا کہ ایک سچے نبی کی آمد قریب ہے جس کی پیشینگوئی پرانی مذہبی کتابوں میں موجود ہے۔ اس باعلم راہب نے اس نبی کا حلیہ اور ان کے ظہور کی ممکنہ جگہ یعنی مدینہ کے بارے میں بھی بتایا جو اس وقت یثرب کہلاتا تھا ۔ یہ جاننے کے بعد حضرت سلمان فارسی نے مدینہ جانے کی کوشش شروع کر دی۔ مدینہ کے راستے میں ان کو ایک عرب بدوی گروہ نے دھوکے سے ایک یہودی کے ہاتھ غلام کے طور پر بیچ دیا۔ یہ یہودی مدینہ میں رہتا تھا چنانچہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مدینہ پہنچ گئے اور اس یہودی کے باغ میں سخت محنت پر مجبور ہو گئے۔ کچھ عرصے کے بعد انہوں نے سنا کہ ایک نبوت کے دعویدار مکہ شہر سے ہجرت کر کے مدینہ آئے ہیں۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ان کی خصوصیات سے فوراً پہچان لیاکہ یہی اللہ کے سچے نبی ہیں۔ انہوں نے مہر نبوت بھی ملاحظہ کی۔ اس وقت انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ان کو غلامی سے آزادی دلانے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے کھجور کے درخت بوئے جس کا مقصد یہودی کی شرط پوری کرنا تھا۔

مناقب[ترمیم]

ان کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اگر ایمان ثریا کے پاس بھی ہوگا تو اس کی قوم کے لوگ اس کو ضرور تلاش کر لیں گے[2] [3] غزوہ خندق کے موقع پر خندق کی کھدائی کے موقع پر حضرت سلمان سب سے زیادہ سرگرم تھے ۔ اس پر مہاجرین نے کہا کہ " سلمان ہمارا ہے" انصار نے یہ سنا تو کہا "سلمان ہمارا ہے"۔ رسوہ اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " سلمان ہمارے اہل بیت میں سے ہے " اس لۓ حضرت سلمان کو مہاجرین یا انصار کے بجاۓ اہل بیت میں شمار کیا گيا۔

زہد وتقویٰ[ترمیم]

ان کا زہد وورع اس حد تک پہنچ گیا تھا کہ جس کے بعد رہبانیت کی حد شروع ہوجاتی ہے، اس کی ادنی مثال یہ ہے کہ عمربھر گھر نہیں بنایا، جہاں کہیں دیواریادرخت کا سایہ ملتا پڑے رہتے، ایک شخص نے اجازت چاہی کہ میں آپ کے لیے مکان بنادوں؟ فرمایا: مجھ کواس کی حاجت نہیں، وہ پیہم اصرار کرتا رہا، یہ برابر انکار کرتے رہے، آخر میں اس نے کہا کہ آپ کی مرضی کے مطابق بناؤنگا، فرمایا: وہ کیسا؟ عرض کیا کہ اتنا مختصر کہ کھڑے ہوں توسرچھت سے مل جائے اور اگرلیٹیں توپیر دیواروں سے لگیں، فرمایا خیر اس میں کوئی مضائقہ نہیں؛ چنانچہ اس نے ایک جھونپڑی بنادی۔[4]

مواخاۃ[ترمیم]

غلامی سے آزادی کے بعد مسلمانوں کے ساتھ مستقل اقامت اختیار کی، اس وقت بالکل غریب الدیار تھے، کوئی شناسا نہ تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی مہاجرین کی طرح ان سے اور ابودرداء رضی اللہ عنہ سے مواخاۃ (مواخاۃ کے معنی بھائی چارہ کے ہیں)کرادی۔[5]

غزوہ خندق[ترمیم]

غزوہ خندق کے مقام پر مسجد سلمان فارسی

غزوہ خندق کے دوران جب مسلمان شدید خطرے میں تھے، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا کہ مدینہ کے ارد گرد خندق کھودی جائے چنانچہ خندق کھودی گئی جس نے مشرکین کو حیران کر دیا کیونکہ یہ طریقہ اس سے پہلے عرب میں استعمال نہیں ہوا تھا۔

گورنری[ترمیم]

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں مدائن کی حکومت پرسرفراز ہوئے، اس کی تفصیلات آئیندہ اخلاق وعادات میں آئیں گی؛ چونکہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ مقربین بارگاہِ نبوی میں سے تھے؛ اسی لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کا بہت احترام کرتے تھے، ایک دفعہ یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اس وقت آپ ایک گدے پرٹیک لگائے بیٹھے تھے، سلمان رضی اللہ عنہ کودیکھ کر گذا ان کی طرف بڑھادیا۔[6]

وفات[ترمیم]

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو656ء میں مدائن کا گورنر مقرر کیا مگر وہاں جانے کے چند ہفتے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔آپ کی وفات10 رجب المرجب33ہجری ہے۔[7] ان کا روضہ مدائن ہی میں ہے۔[8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ http://www.anwar-e-islam.org/node/5597#.VV6c1NKqqko
  2. ^ صحیح البخاری جلد ۶ شمارہ ۴۲۰
  3. ^ صحیح البخاری جلد 2 ص 727 قدیمی کتب خانہ کراچی
  4. ^ استیعاب:۲/۵۷۶
  5. ^ بخاری:۲/۸۹۸،
  6. ^ مستدرک حاکم:۳/۵۹۹
  7. ^ جہان امام ربانی،اقلیم ہشتم،صفحہ 377،امام ربانی فاؤنڈیشن کراچی
  8. ^ تذکرہ مشائخ نقشبندیہ نور بخش توکلی صفحہ53 ناشر مشتاق بک کارنر لاہور