صہیب الرومی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(صہیب رومی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
صہیب الرومی
صهيب الرومي.png 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 587  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
عراق  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 1 مارچ 659 (71–72 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن جنت البقیع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Derafsh Kaviani flag of the late Sassanid Empire.svg ساسانی سلطنت
Byzantine imperial flag, 14th century, square.svg بازنطینی سلطنت
Black flag.svg خلافت راشدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ تاجر،  وفوجی،  وامام  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان عربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان یونانی زبان،  وعربی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

صہیب الرومی یا صہیب بن سنان الرومی (پیدائش: 587ء— وفات: مارچ 659ء) صحابی ہیں۔

حلیہ[ترمیم]

ان کا قد میانہ بلکہ ایک حد تک کوتاہ، چہرہ نہایت سرخ، سر کے بال گھنے تھے، زمانہ پیری میں مہندی کا خضاب لگاتے تھے، زبان میں لکنت (ہکلاہٹ) تھی ایک دفعہ وہ اپنے غلام یحنس کو باغ میں یاناس یاناس کہہ کر پکار رہے تھے عمر بن الخطاب نے سنا تو تعجب سے فرمایا ان کو کیا ہو گیا ہے کہ لوگوں کو پکار رہے ہیں؟ (ناس عربی میں لوگوں کو کہتے ہیں۔) ام سلمہ نے عرض کی کہ وہ لوگوں کو کب پکارتے ہیں وہ اپنے غلام یحنس کو بلاتے ہیں لیکن لکنت کی وجہ سے اس نام کو ادا نہیں کر سکتے۔[1]

نام و نسب[ترمیم]

ان کا نام عبد الملک اورصہیب، ابویحیی کنیت،والد کا نام سنان اور والدہ کانام سلمی بنت قعید تھا،پورا سلسلۂ نسب یہ ہے۔ صہیب بن سنان بن مالک بن عبد عمرو بن عقیل بن عامر بن جندلہ بن جذیمہ بن کعب بن سعد بن اسلم بن اوس مناۃ بن النمری بن قاسط بن ہنب بن افصی بن دعمی بن جدیلہ بن اسد بن ربیعہ بن نزار الربعی النمری۔[2]

ابتدائی حالات[ترمیم]

صہیب کا اصلی وطن ایک قریہ تھا جو باختلافِ روایات موصل کے قریب ،لب دجلہ یا الجزیرہ میں واقع تھا،ان کے والد اورچچا کسریٰ کی طرف سے اُبلہ کے عامل تھے، انہوں نے ابھی دنیا کی صرف چند بہاریں دیکھی تھیں کہ رومی فوجوں نے اُبلہ پر چڑھائی کی اور دوسرے مال واسباب کے ساتھ اس نونہال کو بھی ساتھ لے گئے، سنان کے چمن زار پر اس گلِ سرسبد کے فقدان سے خزاں آگئی، ان کی بہن امیمہ اورچچا لبید نے ان کی تلاش و جستجو میں دنیا کی خاک چھان ڈالی، تمام مجامع، میلوں اور موسمی بازاروں کا جائزہ لیا؛ لیکن اس یوسفِ گم گشتہ کا کہیں سراغ نہ لگا۔[3] وہ رومیوں ہی میں پرورش پاکر جوان ہوئے،بنی کلب نے ان کو خرید کر مکہ پہنچایا اوران سے عبد اللہ بن الجدعان نے لے کر آزاد کر دیا، لیکن ایک دوسری روایت ہے کہ وہ خودبھاگ کرآئے تھے اور عبد اللہ سے صرف حلیفانہ تعلق تھا، غرض وہ مکہ میں اس کی زندگی تک اس کے ساتھ رہے ۔ مکہ معظمہ لاکر انہوں نے ہی آپ کو آزاد کیا،آپ اور عمار ابن یاسر ایک ہی دن ایمان لائے جب کہ حضور انور دار ارقم میں پناہ گزین تھے۔ آپ نے کفار مکہ کے ہاتھوں اسلام لاکر بہت مصیبتیں اٹھائیں،آپ کے متعلق یہ آیت کریمہ نازل ہوئی"وَ مِنَ النَّاسِ مَنۡ یَّشْرِیۡ نَفْسَہُ"الخ۔ نوے سال عمر ہوئی، آپ کے فضائل بے شمار ہیں بدر وغیرہ تمام غزوات میں شریک رہے۔[4]

اسلام[ترمیم]

مکہ میں اسلام کا غلغلہ بلند ہوا تو تفتیش و تحقیق کے خیال سے آستانہ نبوت پر حاضر ہوئے،اتفاق سے عمار بن یاسر بھی اسی خیال سے آ رہے تھے، انہوں نے ان کو دیکھ کر پوچھا، تم کس ارادہ سے آئے ہو؟ بولے پہلے تم اپنا مقصد ظاہر کرو، انہوں نے کہا میں محمد ﷺ سے مل کر ان کی گفتگو سننا چاہتا ہوں، بولے میرا بھی یہی مقصد ہے، غرض دونوں ایک ساتھ حاضرِ خدمت ہوکر مشرف باسلام ہوئے۔[5] صہیب پہلے رومی تھے جنہوں نے صدائے توحید کو لبیک کہا، رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ صہیب روم کا پہلا پھل ہے،آپ اس وقت ارقم بن ابی ارقم کے مکان میں پناہ گزین تھے اور تیس سے زیادہ صحابہ کرام اس دائرہ میں داخل ہوچکے تھے،جن میں سے اکثروں نے مشرکین کے خوف سے اس کو ظاہر نہیں کیا تھا۔

مؤخات[ترمیم]

صہیب مدینہ میں سعد بن خثیمہ کے مہمان ہوئے اور حارث بن الصمہ انصاری سے مواخات ہوئی۔[6]

غزوات[ترمیم]

تیراندازی میں کمال رکھتے تھے،غزوۂ بدر، اُحد، خندق اور تمام دوسرے معرکوں میں رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب رہے، عالمِ پیری میں وہ لوگوں کو جمع کرکے نہایت لطف کے ساتھ اپنے جنگی کارناموں کی دلچسپ داستان سنایا کرتے تھے۔

وفات[ترمیم]

38ھ میں پیمانہ حیات لبریز ہو گیا، 72 برس کی عمر میں وفات پائی اوربقیع کے گورِ غریباں میں مدفون ہوئے۔[7][8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسد الغابہ، ج 3، ص 32
  2. اسدالغابہ :3/30
  3. اصابہ جلد 3 تذکرہ صہیب بن سنان
  4. مرآۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح مفتی احمد یار خان نعیمی جلد4صفحہ535نعیمی کتب خانہ گجرات
  5. اسد الغابہ جلد 4 تذکرہ عمار بن یاسر
  6. طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث: 161
  7. اسد الغابہ :3/33
  8. اصحاب بدر،صفحہ 96،قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور