عبد اللہ بن سہیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد اللہ بن سہیل
معلومات شخصیت
پیدائشی نام عبد الله بن سهيل
پیدائش سنہ 594 (عمر 1424–1425 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
مہ
مقام وفات بحرین
کنیت ابو سہیل
والد سہیل بن عمرو
والدہ فاختہ بنت عامر بن نوفل بن عبد مناف[1]
رشتے دار بھائی: ابو جندل بن سہیل
عملی زندگی
نسب العامری القرشی
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوات نبوی
جنگ یمامہ

عبد اللہ بن سہیل ابتدائی اسلام لانے والے صحابہ میں شامل ہیں۔

نام و نسب[ترمیم]

عبد اللہ نام، ابوسہیل کنیت ،والد کانام سہیل اوروالدہ کا نام فاختہ بنت عامر تھا شجرۂ نسب یہ ہے: عبد اللہ بن سہیل بن عمرو بن عبد شمس بن عبد ودبن نصربن مالک بن جبل بن عامر بن لوی۔

اسلام[ترمیم]

مکہ میں ایمان لائے اورسرزمین حبش کی دوسری ہجرت میں شریک ہوئے۔ حبش سے واپس آئے توان کے والد نے پکڑ کر مقید کر لیا اورسخت اذیت پہنچائی، عبد اللہ نے ظاہری طور پر اسلام کو خیر باد کہہ دیا غزوۂ بدر میں والد شرک کی حمایت پر اپنے ساتھ لے گئے، لیکن انہیں کیا خبر تھی کہ جو دل نورِ ایمان سے ایک دفعہ روشن ہوچکا ہے وہ کبھی تاریک نہیں ہو سکتا؟ غرض میدانِ بدر میں جب حق وباطل کے فدائی ایک دوسرے کے مقابل صف آرا ہوئے تو عبد اللہ شرک کاظاہری جامہ چاک کرکے آغاز جنگ سے پہلے لوائے توحید کے نیچے آکھڑے ہوئے۔

غزوہ بدر کی شرکت[ترمیم]

غزوہ بدر میں کفار کے ساتھ مل کر میدان جنگ میں آئے موقع پاکر کفار سے نکل گئے اور مسلمانوں کی طرف سے غزوہ میں حصہ لیا۔[2]

دیگر غزوات[ترمیم]

غزوۂ بدر سمیت تمام مشہور معرکوں میں جانبازی وپامردی کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب تھے، مکہ فتح ہوا تو انہوں نے دربارنبوت میں اپنے والد کے لیے امان طلب کی، آپﷺ نے امان دے کر حاضرین سے فرمایا: "سہیل بن عمرو کو کوئی نگاہِ حقارت سے نہ دیکھے، قسم ہے کہ وہ نہایت ذی عزت و دانشمند ہے، ایسا شخص محاسن اسلام سے ناواقف نہیں ہو سکتا اوراب تو اس نے دیکھ لیا ہے کہ وہ جس کا حامی تھا اس میں کوئی منفعت نہیں۔ عبد اللہ نے اپنے والد کے پاس آکر رسول اللہ ﷺ کا فرمان سنایا اورامان کی بشارت دی تو ان کا دل اپنے صاحبزادہ کی سعادت مندی پر تشکر آمیز شفقت سے لبریز ہو گیا، بولے، خداکی قسم یہ بچپن ہی سے سعادت مند ونیکو کار ہے۔[3]

شہادت[ترمیم]

عبد اللہ تقریباً 38 برس کی عمر پاکر 12ھ میں یمامہ کی جنگ میں شہید ہوئے۔ ابوبکر صدیق حج کے لیے مکہ آئے تو ان کے والد سہیل کے پاس تعزیت کے لیے گئے، صابروشاکر باپ نے کہا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ شہید اپنے 70 اہل خاندان کی شفاعت کرے گا، مجھ کو امید ہے کہ میرا لڑکا اس وقت مجھ کو فراموش نہ کرے گا۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الطبقات الكبرى لابن سعد - عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سهيل
  2. اصحاب بدر،صفحہ 103،قاضی محمد سلیمان منصور پوری، مکتبہ اسلامیہ اردو بازار لاہور
  3. استیعاب جلد1:394
  4. طبقات ابن سعد قسم اول جز 3 :296