ابو دجانہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو دجانہ
(عربی میں: أبو دجانة ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائشی نام ابو دجانہ ( سماک بن خرشہ)
مقام پیدائش مدینہ منورہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 634  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جنگ یمامہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات لڑائی میں مارا گیا  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کنیت ابو دجانہ
زوجہ آمنة بنت عمرو
والد خرشہ
والدہ حزمة بنت حرملہ السُلميہ
رشتے دار
عملی زندگی
طبقہ الصحابہ
نسب اوس خزرج
پیشہ فوجی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوة بدر
غزوة أحد
غزوة خيبر
غزوة حنين حروب الردة دیگر غزوات

ابو دجانہ اصل نام سماک بن خرشہ ہے۔ انصاری ہیں۔

نام و کنیت[ترمیم]

ابو دجانہ کا نام سماك بن خرشہ بن لوذان بن عبد ود بن زيد الساعدی اور کنیت ابو دجانہ ہے جس سے معروف ہیں

غزوات میں شرکت[ترمیم]

بدر و احد اور دیگر غزوات میں رسول اللہ کے ساتھ شریک رہے۔ احد کے دن رسول اللہ نے انہیں اپنی تلوار دی تھی جب آپ نے فرمایا میری تلوار اس کے حق کے ساتھ کون لے گا ساری قوم خاموش رہی ابو دجانہ نے کہا میں اس کے حق کے ساتھ لیتا ہوں اور پھر مشرکین کی کھوپڑیاں اڑا دیں بعد میں رسول اللہ نے فرمایا آج ابو دجانہ لڑائی میں سچے نکلے۔ یہ مشہور بہادروں میں سے تھے ان کے پاس ایک سرخ پٹی تھی جس سے وہ لڑائی میں پہچانے جاتے تھے۔ احد میں انہوں نے بطور نشان لگا کر دونوں صفوں کے درمیاں اکڑ کر چلے تو رسول اللہ نے فرمایا یہ چال اللہ کو بہت ناپسند ہے سوائے اس مقام کے۔ یمامہ کی جنگ میں شہید ہوئے۔ بنی حنیفہ کا یمامہ میں ایک باغ تھا جس کی آڑ لے کر وہ لوگ لڑتے تھے مسلمانوں کی وہاں تک پہنچ نہیں تھی ابو دجانہ نے کہا مجھے اس باغ کے اندر پھینک دو ایسا ہی کیا گیا جس سے ان کا پاؤں ٹوٹ گیا لیکن اس کے باوجود انہوں نے مقابلہ کر کے ان لوگوں کو دروازے سے ہٹا دیا۔[1] جنگ میں ان کے سامنے ابو سفیان کی بیوی ہندہ آگئی اس نے لوگوں کو مدد کے لیے پکارا کوئی شخص مدد کرنے نہ آیا انہوں نے تلوار کو روک لیا کہ رسول اللہ کی تلوارکو ایک عورت پر چلاؤں [2]

وفات[ترمیم]

ابو دجانہ جنگ یمامہ میں شریک ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے مسیلمہ کو قتل کیا اسی روز شہید ہوئے یہ 12ھ تھی۔ ابن سعد[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ، علامہ ابن اثیر، جلد 1، صفحہ 980، ناشر المیزان اردو بازار، لاہور۔
  2. البدایہ والنہایہ
  3. طبقات ابن سعد جلد دوم صفحہ 421