احمد سعید فاروقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شاہ احمد سعید فاروقی مجددیسلسلہ نقشبندیہ کے بہت معروف بزرگ اور امام العرفاء تھے۔

نام ونسب[ترمیم]

اسم گرامی: شاہ ابو سعید مجددی۔کنیت:ابوالمکارم۔لقب:مظہر یزداں،سند الاولیاء،امام العرفاء۔آپ کےنانا شاہ محمد صدیقی جونہایت ہی متقی وپرہیزگار اور جید عالم دین تھے۔انہوں نے بذریعہ مکاشفۂ باطنی آپ کانام ’’غلام غوث ‘‘ رکھا۔لیکن آپ شاہ احمد سعید مجددی کےنام سے معروف ہیں۔سلسلۂ نسب اس طرح ہے: شاہ احمد سعید مجددی بن شاہ ابو سعید مجددی بن شاہ صفی القدر بن شاہ عزیز القدر بن شاہ عیسیٰ بن خواجہ سیف الدین بن خواجہ محمد معصوم سرہندی بن امام ربانی مجدد الفِ ثانی ۔[1]

تاریخِ ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت باسعادت یکم ربیع الاول 1217ھ،مطابق جولائی 1802ء کوبمقام رام پور میں پیدا ہوئے۔تاریخِ ولادت مادہ ’’مظہر ِ یزداں‘‘ سے نکلتی ہے۔

تحصیلِ علم[ترمیم]

بچپن میں ہی حفظ قرآن کی دولت سے مالا مال ہو گئے تھے۔جب حفظ قرآن کریم میں مشغول تھے۔اس وقت صغر سنی میں شاہ درگاہی کی خدمت میں حاضر ہواکرتے تھے۔شاہ صاحب خوب عنایت فرماتے،اور اپنے قریب بٹھاکر قرآن شریف سنا کرتےتھے۔پھر دس سال کی عمر میں شاہ غلام علی دہلوی سےاکثر کتب تصوف جیسے رسالہ قشیریہ،احیاء العلوم،عوارف المعارف،نفحات الانس،رشحات،مکتوبات امام ربانی،مثنوی مولانا روم وغیرہ پڑھیں اور بعض کی سماعت کی،ترمذی اور مشکوٰۃ المصابیح پڑھیں،باقی کتب منقول ومعقول علمائے دہلی مولانا فضل امام خیر آبادی،شاہ رفیع الدین،شاہ عبدالقادر، مولانا نورفرنگی محلی،مولانا رشیدالدین۔رام پور میں مفتی شرف الدین اور مولانا سراج احمد بن محمد مرشد،لکھنؤ میں مولانا اشرف اور مولانا نور سے درسیات پڑھ کر شاہ عبد العزیزمحدث دہلوی سے حدیث کا دور کیا۔بیس سال کی عمر میں دستارِ فضیلت باندھی گئی۔[2]

بیعت وخلافت[ترمیم]

دس سال کی عمر میں خواجہ غلام علی دہلوی کےدستِ حق پرست پر بیعت ہوئے۔سلوک کی منازل طے کرنے کےبعد سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ میں صاحبِ مجاز ہوئے۔

سیرت وخصائص[ترمیم]

عالم،عارف،فاضل، کامل،فقیہ،محدث،مفسر،جامع علوم عقلیہ ونقلیہ،جامع شریعت وطریقت،عارف بااللہ،واصل بااللہ،عاشق رسول اللہﷺ،غیظ المنافقین،مہلک الوہابیین،حامی دین متین،صاحبِ اخلاق محمدی شاہ احمد سعید مجددی۔آپ امام ربانی مجدد الفِ ثانی شیخ احمد سرہندی کےعظیم خانوادے،اور علمی وروحانی امانتوں کے وارث ِ کامل اور دینِ مصطفٰی علیہ التحیۃ والثناءﷺ کےعظیم داعی تھے۔تمام علوم کےجامع،اوراسرار و معرفت کےبحرِ بے کنارتھے۔درس وتدریس وعظ ونصیحت اور تربیت ِ سالکین میں ہمہ وقت مشغول رہتے تھے۔آپ شاہ غلام علی کے خلیفہ اور امورِ الطافِ خاص تھے شاہ غلام علی آپ کوعلو استعداد میں آپ کے والد شاہ ابو سعید مجددی سے افضل فرماتے تھے۔ایک مرتبہ دونوں باپ بیٹے شاہ غلام علی دہلوی کی خدمت میں حاضر ہوئے،حاضرین سے ارشاد ہوا کون افضل ہےسب لوگ خاموش رہے۔پھر خود ہی فرمایا:بیٹا باپ سے افضل ہے۔ بعد نمازِفجر،ظہر،مغرب تین وقت حلقہ مراقبہ قائم فرماتے،اس کے بعد حدیث وتفسیر و فقہ کا درس دیتے،فتاویٰ بھی لکھا کرتے تھے،فرماتے تھے: فتویٰ نویسی میرا کام نہیں،مگر کیا کروں جاہل عالم بن گئے ہیں۔رات کے پچھلے حصے میں نماز تہجد اہتمام کےساتھ اداکرتے تھے۔نمازِ فجر طویل قرأت کےساتھ ادافرماتے۔مسجد شریف میں ہی تشریف فرمارہتے،اشراق،چاشت پڑھ کر جلسہ عام میں بیٹھ جاتے،حاجت مندوں کی حاجت روائی فرماتے،پھر طلبہ کو منقول ومعقول کی کتب کا درس دیتے۔معقول قطبی تک پڑھاتے،زیادہ نہیں پڑھاتے تھے،فرماتے اگرچہ میں معقولات پر قادر ہوں مگر اس کی تعلیم پسند نہیں ہے۔علوم تفسیر وحدیث فقہ واصول فقہ میں بڑی فصاحت وبلاغت کے ساتھ تقریر فرماتے۔اسی طرح کتب تصوف میں حقائق ومعارف کےدریا بہادیتے۔ 1249ھ میں والد کی جگہ پر خانقاہ شاہ غلام علی کے سجادہ نشین ہوئے،مریدوں کے حال پر بہت شفیق تھے،مریدین کا ہجوم ہو گیا،لوگوں کو آپ کی ذات سےبہت فائدہ پہنچا

عازم مکہ[ترمیم]

ارادۂ ہجرت عازم ِمکہ ہوئے۔ دورانِ سفر پنجاب میں داخل ہوئے،جس علاقے سے گزر ہوتا لوگ جوق در جو ق قدم بوس ہوتے،اور داخلِ سلسلہ ہوتے،آپ اپنے مرید وخلیفہ خواجہ دوست محمد قندھاری کےہاں موسیٰ زئی ڈیرہ اسمعیل خان تشریف لے گئے،وہاں سے کراچی اورکراچی سے ممبئی،اور بذریعہ جہاز آخر شوال میں جدہ پہنچے،رمضان سمندر میں گزارا،تراویح میں قرآن پڑھا،معمولات میں کوئی فرق نہیں آیا۔حج کا شرف حاصل کیا،چار ماہ بعد مدینہ منورہ حاضر ہوئے،خالد پاشا محافظ مدینہ منورہ داخل سلسلہ ہوئے،اور ایک مکان کرایہ پر لےکر رہائش کے لیے پیش کیا،رجب کے مہینے میں اہل و عیال کو مکہ مکرمہ سے بلاکر اس مکان میں مقیم ہو گئے

فتویٰ جہاد[ترمیم]

آپ نےبھی انگریزوں کے خلاف فتویٰ جہاد پر دستخط کیے تھے،اور اس فتوے کی توثیق فرمائی تھی۔ آپ نےوصال سےقبل قیام دہلی میں وصیت فرمائی تھی کہ مجھے مرزا جان جاناں کےزیر قدم دفن کرنا۔مدینہ منورہ میں وصیت فرمائی تھی کہ عثمان غنی کےقرب میں دفن کرنا۔

تصنیفات[ترمیم]

  • حق المبین فی رد علی الوھابیین وہابیوں کے رد میں تصنیف فرمائی۔
  • الفوائد الضابطہ فی اثبات الرابطہ
  • الذکر الشریف فی دلائل مولد المنیف
  • اربع انہار

خلفاء[ترمیم]

حضرت کے خواجہ دوست محمد قندھاری سمیت اکسٹھ خلفاء تھے جو افغانستان بخارا وغیرہ میں پھیلے ہوئے تھے،مولوی رشید احمد گنگوہی نے آپ سے اکتساب علم کیا تھا مگر بد عقیدہ ہونے کی وجہ سے آپ کا تذکرہ اہانت آمیز کرتاتھا۔

تاریخِ وفات[ترمیم]

آپ کاوصال بروزمنگل 2/ربیع الاول 1277ھ،مطابق 18/ستمبر 1860ء کومدینۃ المنورہ میں ہوا۔ [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (تذکرہ کاملان رام پور:14)
  2. تذکرہ علمائے اہل سنت:23
  3. https://www.slideshare.net/drzahoorsolankirazviashhari/ss-49892047