مجدد الف ثانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(احمد سرہندی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
امام ربانی

شیخ احمد الفاروقی السرہندی

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش جمعہ 14 شوال 971ھ/ 26 مئی 1564ء
موجودہ سرہند-فتح گڑھ، سلطنت مغلیہ، موجودہ بھارت
تاریخ وفات منگل 28 صفر 1034ھ/ 10 دسمبر 1624ء

(عمر: 60 سال 6 ماہ 14 دن شمسی)
روضہ شریف، نزد بستی پٹھاناں، گردوارہ فتح گڑھ صاحب سے مشرقی جانب۔ موجودہ سرہند-فتح گڑھ، ضلع فتح گڑھ صاحب، پنجاب، بھارت

مذہب اسلام  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مذہب (P140) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ امام  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی (مکمل نام:شیخ احمد سر ہندی ابن شیخ عبدالا حد فاروقی) دسویں صدی ہجری کے نہایت ہی مشہور عالم و صوفی تھے ۔جو مجدد الف ثانی اور قیوم اول سے معروف ہیں۔[1]

زندگی[ترمیم]

آپ کی ولادت جمعۃ المبارک 14 شوال 179؁ھ (یہی خواجہ باقی باللہ کا سال ولادت ہے عجیب اتصال روحانی)بمطابق 26 مئی 1564ء کو نصف شب کے بعد سرہند شریف ہندوستان میں ہوئی۔[2] آپ کے والد شیخ عبد الاحد ایک ممتاز عالم دین تھے اور صوفی تھے۔ صغر سنی میں ہی قرآن حفظ کر کے اپنے والد سے علوم متداولہ حاصل کیے پھر سیالکوٹ جا کر مولانا کمال الدیّن کشمیری سے معقولات کی تکمیل کی اور اکابر محدثّین سے فن حدیث حاصل کیا ۔ آپ سترہ سال کی عمر میں تمام مراحل تعلیم سے فارغ ہو کر درس و تدریس میں مشغول ہوگئے ۔

تصوف میں سلسلہ چشتیہ کی تعلیم اپنے والد سے پائی، سلسلہ قادریہ کی شیخ سکندر کیتھلی اور سلسلہ نقشبندیہ کی تعلیم دہلی جاکر خواجہ باقی باللہ سے حاصل کی۔ 1599ء میں آپ نے خواجہ باقی باللہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ آپ کے علم و بزرگی کی شہرت اس قدر پھیلی کہ روم، شام، ماوراء النہر اور افغانستان وغیرہ تمام عالم اسلام کے مشائخ علماء اور ارادتمند آکر آپ سے مستفیذ ہوتے۔ یہاں تک کہ وہ ’’مجدد الف ثانی ‘‘ کے خطاب سے یاد کیے جانے لگے ۔ یہ خطاب سب سے پہلے آپ کے لیے ’’عبدالحکیم سیالکوٹی‘‘ نے استعمال کیا ۔ طریقت کے ساتھ وہ شریعت کے بھی سخت پابند تھے۔آپ کو مرشد کی وفات (نومبر 1603ء) کے بعد سلسلہ نقشبندیہ کی سربراہی کا شرف حاصل ہوا اور آخری عمر تک دعوت وارشاد سے متعلق رہے سرہند میں بروز سہ شنبہ 28 صفرالمظفر 1034؁ھ بعمر 62 سال اور کچھ ماہ وفات پائی اور وہیں مدفون ہوئے۔ ‌[3]

مجدد کا لقب[ترمیم]

بعض روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر ہزار سال کے بعد تجدید دین کے لیے اللہ تعالیٰ ایک مجددمبعوث فرماتا ہے۔ چنانچہ علماء کا اتفاق ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے بعد دوسرے ہزار سال کے مجدد آپ ہی ہیں اسی لیے آپ کو مجدد الف ثانی کہتے ہیں۔

دیگر القابات[ترمیم]

بارگاہ فلک رفعت،آرام گاہ عالی مرتبت،دربار گوہر بار،مزار پر انوار،اعلیٰ حضرت عظیم البرکت،قیوم ملت،خزینۃ الرحمۃ،محدث رحمانی،غوث صمدانی،امام ربانی،المجدد المنور الف ثانی،حضرت ابو البرکات شیخ بد ر الدین احمد فاروقی،نقشبندی،سرہندی۔[4]

شریعت کی پابندی[ترمیم]

حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ مطلقاً تصوف کے مخالف نہیں تھے۔ آپ نے ایسے تصوف کی مخالفت کی جو شریعت کے تابع نہ ہو۔ قرآن و سنت کی پیروی اور ارکان اسلام پر عمل ہی آپ کے نزدیک کامیابی کا واحد راستہ ہے۔ آپ کے مرشد حضرت خواجہ رضی الدین محمد باقی با اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے ہندوستان میں تصوف کا نقشبندی سلسلہ متعارف کرایا اور آپ نے اس سلسلہ کو ترقی دی۔

بدعات کا رد[ترمیم]

مغل بادشاہ جلال الدین اکبر کے دور میں بہت سی ہندوانہ رسوم و رواج اور عقائد اسلام میں شامل ہو گئے تھے۔ اسلام کا تشخص ختم ہو چکا تھا اور اسلام اور ہندومت میں فرق کرنا مشکل ہو گیا تھا۔ ان کے مطابق دین میں ہر نئی بات بدعت ہے اور بدعت گمراہی ہے۔ آپ اپنے ایک مکتوب میں بدعات کی شدید مخالفت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

لوگوں نے کہا ہے کہ بدعت کی دو قسمیں ہیں: بدعت حسنہ اور بدعت سیئہ۔ بدعت دافع سنت ہے، اس فقیر کو ان بدعات میں سے کسی بدعت میں حسن و نورانیت نظر نہیں آتی اور سوائے ظلمت اور کدورت کے کچھ محسوس نہیں ہوتا۔

قید و بند کی صعوبت[ترمیم]

حضرت مجدد الف ثانی کو اپنے مشن کی تکمیل کے لیے دور ابتلا سے بھی گزرنا پڑا۔ بعض امراء نے مغل بادشاہ جہانگیر کو آپ کے خلاف بھڑکایا اور یقین دلایا کہ آپ باغی ہیں اور اس کی نشانی یہ بتائی کہ آپ بادشاہ کو تعظیمی سجدہ کرنے کے قائل نہیں ہیں، چنانچہ آپ کو دربار میں طلب کیا جائے۔ جہانگیر نے حضرت مجدد الف ثانی کو دربار میں طلب کر لیا۔ آپ نے بادشاہ کو تعظیمی سجدہ نہ کیا۔ جب بادشاہ نے وجہ پوچھی تو آپ نے کہا:

سجدہ اللہ کے علاوہ کسی اور کے لیے جائز نہیں ہے۔ یہ اللہ کا حق ہے جو اس کے کسی بندے کو نہیں دیا جا سکتا۔

بادشاہ نے ہر ممکن کوشش کی کہ شیخ جھک جائیں لیکن حضرت مجدد الف ثانی اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ بعض امراء نے بادشاہ کو آپ کے قتل کا مشورہ دیا۔ غیر معمولی اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تو نہ ہو سکا البتہ آپ کو گوالیار کے قلعے میں نظر بند کر دیا گیا۔ آپ نے قلعے کے اندر ہی تبلیغ شروع کر دی اور وہاں کئی غیر مسلم مسلمان ہو گئے۔ قلعہ میں متعین فوج میں بھی آپ کو کافی اثر و رسوخ حاصل ہو گیا۔ بالآخر جہانگیر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور آپ کو رہا کر دیا۔ رہائی کے بعد جہانگیر نے آپ کو اپنے لشکر کے ساتھ ہی رکھا۔

انتقال[ترمیم]

ایک دن بیماری کے دوران میں فرمایا:

  • آج ملاوی کنت سون سکھی سب جگ دیواں ہار (ترجمہ:آج دوست کا روز وصال ہےاے محبوب میں تمام دنیا کو اس نعمت پر قربان کرتا ہوں)۔بروز منگل 28 صفر 1034ھ مطابق 10 دسمبر 1624ء کو وصال فرمایا اورسر ہند میں طلوع ہونے والا سورج ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔آپ کامزار پرانوار سرہند شریف (انڈیا)میں مرکزِ انوار وتجلیات ہے۔[5][6]

اولاد و امجاد[ترمیم]

حضرت مجدد الف ثانی کے سات صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں تھیں جن کے نام یوں ہیں:

صاحبزادگان[ترمیم]

صاحبزادیاں[ترمیم]

  • بی بی رقیہ بانو
  • بی بی خدیجہ بانو
  • بی بی ام کلثوم

بيرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مختصر تذکرہ
  2. جہان امام ربانی،اقلیم اول،ص 328،امام ربانی فاؤنڈیشن،کراچی
  3. حضرت مجدد الف ثانی ص: 233، بحوالہ زبدۃالمقامات وحضرات القدس
  4. جہان امام ربانی،اقلیم اول،ص 389،امام ربانی فاؤنڈیشن،کراچی
  5. سیرت مجدد الف ثانی، ص262
  6. انتقالِ پرملال