سید جلال الدین عمری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مولانا سید جلال الدین عمری برصغیر ہندو پاک کے ان چند ممتاز علما میں سے ہیں جنھوں نے اسلام کے مختلف پہلوؤں کی تفہیم وتشریح کے لیے قابل قدر لٹریچر وجود بخشا ہے۔ اسلام کی دعوت، اسلام کے نظام عقائد ومعاملات اور اسلامی معاشرت پر آپ کی کتابیں سند کا درجہ رکھتی ہیں۔ آپ ہندوستان کی تحریک اسلامی کے چوٹی کے رہ نمائوں میں سے ہیں۔ دعوتی اور تحریکی سرگرمیوں میں انتہائی مصروف رہنے کے باوجود اسلام کے مختلف پہلوئوں پر آپ کی بیش قیمت تصانیف آپ کی عظمت وقابلیت کا زبردست ثبوت ہیں۔

پیدائش اور وطن[ترمیم]

نام : سید جلال الدین عمری والد : سید حسین ولادت : ١٩٣٥ء جائے ولادت : جنوبی ہند کے ضلع شمالی آرکاٹ کے ایک گاؤں پتّگرم میں ہوئی۔ وطن : شمالی آرکاٹ (تمل ناڈو)۔

تعلیم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم گاؤں ہی کے اسکول میں حاصل کی۔ پھر عربی تعلیم کے لیے جامعہ دارالسلام عمر آباد میں داخلہ لے کر 1954ء میں فضیلت کا کورس مکمل کیا۔ اسی دوران مدراس یونیورسٹی کے امتحانات بھی دیے اور فارسی زبان وادب کی ڈگری ’منشی فاضل‘ حاصل کی۔

اعلیٰ تعلیم[ترمیم]

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے (اونلی انگلش) پرائیوٹ سے پاس کیا۔

عہدے و رکنیت[ترمیم]

  • آپ جماعت اسلامی ہند کے صدر ہیں
  • آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے نائب صدر ہیں۔
  • الہیئۃ الخیریۃ العالمیۃ کے سابق رکن بھی رہ چکے ہیں۔
  • جامعۃ الفلاح بلریا گنج اعظم گڑھ کے شیخ الجمعہ ہیں۔

اس کے علاوہ درج ذیل عہدے آپ کے سپرد ہیں.

  • مینیجنگ ڈائرکٹر سراج العلوم نسواں کالج علی گڑھ۔
  • ممبر مسلم مجلس مشاورت
  • صدر اشاعت اسلام ٹرسٹ دہلی
  • صدر دعوت ٹرسٹ
  • رکن اسلامک پبلیکیشنز

وغیرہ۔

اسفار[ترمیم]

بیرون ملک کے مختلف دینی اداروں اور تنظیموں کی دعوت پر مولانا سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، ایران،ترکی، برطانیہ، پاکستان اور نیپال کے سفر کرچکے ہیں۔

تصنیف و تالیف[ترمیم]

جماعت اسلامی ہند کے شعبۂ تصنیف وتالیف (موجودہ ادارۂ تحقیق وتصنیف اسلامی) سے وابستہ ہوکر علمی وتصنیفی خدمات انجام دیں۔ اب تک شائع ہونے والی کتابوں کی تعداد تین درجن کے قریب ہے۔ مولانا کے بہت سے مضامین اور مقالات جرائد و رسائل کی زینت بنتے رہتے ہیں بعض مقالات تو اہل علم میں بطور خاص مقبول ہوئے اور ماہر القادری اور مولانا ابو الحسن علی ندوی جیسے بلند پائے عالم دین نے اس پر مبارک باد پیش کی اور اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔