سید جلال الدین عمری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سید جلال الدین عمری
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1935 (عمر 85–86 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تامل ناڈو  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت جماعتِ اسلامی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ علی گڑھ  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان،  مصنف،  فلسفی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو،  ہندی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سید جلال الدین عمری برصغیر ہندو پاک کے عالم دین اور مصنف تھے۔ 2007ء سے 2019ء تک آپ جماعت اسلامی ہند کے امیر رہے ۔ آپ ہندوستان کی تحریک اسلامی کے چوٹی کے رہ نمائوں میں سے ہیں۔ دعوتی اور تحریکی سرگرمیوں میں انتہائی مصروف رہنے کے باوجود اسلام کے مختلف پہلوئوں پر آپ کی بیش قیمت تصانیف آپ کی عظمت وقابلیت کا زبردست ثبوت ہیں۔ مولانا عمری جماعت اسلامی ہند کے سابق امیر رہے ہیں، اسی طرح جامعۃ الفلاح بلریا گنج کے سربراہ بھی ہیں، اس کے علاوہ بہت سی دینی وملی تنظیموں اور اداروں کے ذمہ دار ہیں۔[1][2][3]

پیدائش اور وطن[ترمیم]

سید جلال الدین عمری کی ولادت 1935ء میں جنوبی ہند تمل ناڈو کے ضلع شمالی آرکاٹ کے ایک گاؤں پتّگرم میں ہوئی، والد صاحب کا نام سید حسین تھا۔[4]

تعلیم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم گاؤں ہی کے اسکول میں حاصل کی۔ پھر عربی تعلیم کے لیے جامعہ دارالسلام عمر آباد میں داخلہ لے کر 1954ء میں فضیلت کا کورس مکمل کیا۔ اسی دوران مدراس یونیورسٹی کے امتحانات بھی دیے اور فارسی زبان وادب کی ڈگری ’منشی فاضل‘ حاصل کی۔

اعلیٰ تعلیم[ترمیم]

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے (اونلی انگلش) پرائیوٹ سے پاس کیا۔

عہدے و رکنیت[ترمیم]

اس کے علاوہ درج ذیل عہدے آپ کے سپرد ہیں.

  • مینیجنگ ڈائرکٹر سراج العلوم نسواں کالج علی گڑھ۔
  • ممبر مسلم مجلس مشاورت
  • صدر اشاعت اسلام ٹرسٹ دہلی
  • صدر دعوت ٹرسٹ
  • رکن اسلامک پبلیکیشنز

وغیرہ۔

اسفار[ترمیم]

بیرون ملک کے مختلف دینی اداروں اور تنظیموں کی دعوت پر مولانا سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، ایران،ترکی، برطانیہ، پاکستان اور نیپال کے سفر کرچکے ہیں۔

تصنیف و تالیف[ترمیم]

جماعت اسلامی ہند کے شعبۂ تصنیف وتالیف (موجودہ ادارۂ تحقیق وتصنیف اسلامی) سے وابستہ ہوکر علمی وتصنیفی خدمات انجام دیں۔ اب تک شائع ہونے والی کتابوں کی تعداد تین درجن کے قریب ہے۔ مولانا کے بہت سے مضامین اور مقالات جرائد و رسائل کی زینت بنتے رہتے ہیں بعض مقالات تو اہل علم میں بطور خاص مقبول ہوئے اور ماہر القادری اور مولانا ابو الحسن علی ندوی جیسے بلند پائے عالم دین نے اس پر مبارک باد پیش کی اور اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Mohammed Anas. "hardline jamaat may launch own party". The Sunday Guardian. اخذ شدہ بتاریخ 29 نومبر 2011. 
  2. Narendra Subramanian (9 April 2014). Nation and Family: Personal Law, Cultural Pluralism, and Gendered Citizenship in India. صفحہ 359. ISBN 9780804790901. اخذ شدہ بتاریخ 05 مارچ 2020. 
  3. Pavan (15 December 2015). "How can one go to paradise by killing others: Jamaat chief". Times of India-India Times. اخذ شدہ بتاریخ 05 مارچ 2020. 
  4. Jalaluddin Umri re-elected Ameer-e-Jamaat TwoCircles.net website, Published 5 April 2015, Retrieved 29 February 2020