عبد الحمید خان بھاشانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبد الحمید خان بھاشانی
(بنگالی میں: আবদুল হামিদ খান ভাসানী ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تفصیل= مولانا عبدالحمید خان بھاشانی شہر ہوانا، کیوبا میں

رکن پارلیمنٹ پاکستان
مدت منصب
1954ء – 14 اکتوبر 1955ء
گورنر
رکن پارلیمنٹ بنگلہ دیش
مدت منصب
10 جنوری 1973ء – 15 اگست 1975ء
صدر شیخ مجیب الرحمن
معلومات شخصیت
پیدائش 12 دسمبر 1880  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سراج گنج ضلع  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 17 نومبر 1976 (96 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈھاکہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان
Flag of Bangladesh.svg بنگلہ دیش  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت بنگلہ دیش عوامی لیگ  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان بنگلہ  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
Independence Day Award Ribbon.jpg اعزاز یوم آزادی  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عبد الحمید خان بھاشانی۔ برصغیر کے ممتاز سیاست دان۔ سراج گنج ضلع پٹنہ ’’بہار، بھارت‘‘ میں پیدا ہوئے۔ 12 سال کی عمر میں مشرقی بنگال کے علاوہ تانگیل میں سکونت اختیار کی۔ کچھ عرصہ بعد آسام منتقل ہو گئے اور جدوجہد آزادی میں سرگرم حصہ لینا شروع کیا۔ 1919ء میں تحریک خلافت میں شامل ہو گئے اور 18 ماہ قید و بند میں گزارے۔

شروع میں مولانا کی ہمدردیاں کانگرس کے ساتھ تھیں لیکن جلد ہی کانگریسی لیڈروں سے مایوس ہو گئے اور مسلم لیگ کے مطالبۂ پاکستان کی پرجوش حمایت کرنے لگے۔ پاکستان کے قیام کے وقت آسام مسلم لیگ کے صدر تھے۔ انھی کی کوششوں سے آسام کے ضلع سلہٹ ’’جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی‘‘ کے مسلمانوں نے 1947ء کے ریفرنڈم میں پاکستان میں شمولیت کے حق میں ووٹ دیا۔

قیام پاکستان کے بعد مولانا نے لیگی لیڈروں سے بد دل ہو کرعوامی لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ 1949ء میں عوامی لیگ سے بھی علاحدہ ہو گئے اور اپنی ایک جماعت نیشنل عوامی پارٹی قائم کی۔ 1970ء میں مشرقی پاکستان کے علیحدگی پسندوں کے ساتھ مل گئے اور بنگلہ دیش کی تشکیل میں شیخ مجیب الرحمن کی بھرپور مدد کی۔ مشرقی پاکستان میں باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی کے نتیجے میں باغیوں کا جو پہلا جتھا فرار ہو کر بھارت پہنچا اس میں بھاشانی بھی شامل تھے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد واپس آ گئے اور ملکی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ اکتوبر 1976ء میں پیرانہ سالی کے سبب عملی سیاست سے کنارہ کش ہو گئے۔ شعلہ نفس اور سیماب طبع بزرگ تھے۔