تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے سربراہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی ہیں یہ جماعت جنرل ضیاء الحق کی جانب سے پاکستان کو فرقہ وارانہ سٹیٹ بنانے کے رد عمل میں 1979میں وجود میں آئی اور مفتی جعفر حسین اس کے پہلے سربراہ منتخب ہوئے۔[1]

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ میں تفریق[ترمیم]

مفتی جعفر حسین اگست 1983 کو انتقال کرگئے تو دسمبر 1983 میں آغا سید حامد علی شاہ موسوی کو علامہ ساجد علی نقوی نے قائد نامزد کر دیا جن کی قیادت کی توثیق کے لیے 9 اور 10 فروری 1984 کو دینہ کے مقام پر آل پاکستان شیعہ کنونشن میں کی گئی۔

کنونشن میں پاکستان بھر سے شیعہ علما عزاداروں اور ذاکرین و خطباء نے شرکت کی۔ کنونشن کی صدارت برصغیر کے سب سے بڑے خطیب علامہ اظہر حسن زیدی اور استاذ الفقھا حضرت آیت اللہ علامہ ضمیر الحسن نجفی اعلیٰ اللہ مقامہ نے کی۔(جو معروف خطیب علامہ نسیم عباس رضوی کے چچا تھے )۔

آغا سید حامد علی شاہ موسوی کو 1967 میں مرجع شیعیان جہاں آیۃ اللہ العظمی سید محسن الحکیم طباطبائی نے اہل راولپنڈی کی درخواست پر نجف اشرف سے اپنے نمائندہ کے طور پر پاکستان بھجوایا تھا۔ آغا حامد موسوی کو دنیائے شیعیت میں اہم مقام حاصل تھا جب جنرل ضیاء الحق نے پاکستان میں فرقہ وارانہ نظام رائج کرنے کا فیصلی کیا تو اسلامی دنیا کے عظیم فلسفی اور مرجع آیۃ اللہ العظمی سید محمد باقر الصدر شہید نے تاریخی مراسلہ بھی بھیجا تھا ۔ آیۃ اللہ شاہرودی ، آیۃ اللہ سید مھدی الحکیم ، آیت اللہ العظمی عبد اللہ شیرازی ، آیت اللہ سید محمد شیرازی وغیرہ تمام بزرگ مراجع کے نمائندگان اور خاندان کے افراد ہمیشہ آغا حامد علی شاہ موسوی سے مربوط رہتے۔آغا حامد موسوی ایرانی انقلاب سے پہلے بھی آیۃ اللہ روح اللہ موسوی ی الخمینی کے وکیل مطلق تھے۔ [2]

دوسری جانب مولانا محمد حسین ڈھکو سے تعلق رکھنے والے گروہ میں آغا حامد علی شاہ موسوی کی نامزدگی پر بے چینی پیدا ہو گئی محمد حسین ڈھکو پاکستان میں خالصی عقائد(شیعیت میں وہابیت کے مثل عقیدہ) کے مبلغ تھے اور اہل تشیع میں تقصیر کے حوالے سے مشہور تھے لہذا انہوں نے مولانا صفدر نجفی کے ساتھ مل کر بھکر میں ایک اجلاس رکھا اور اس میں مولانا عارف الحسینی کو اس گروپ کا سربراہ بنا لیا گیا۔[3]

دونوں گروپوں کی پالیسی میں واضح فرق:[ترمیم]

آغا حامد موسوی فرقے کے نام پر سیاست میں حصہ لینے کے خلاف تھے اسی طرح وہ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کو ملنے والی بیرونی مالی امداد کو بھی پسند نہیں کرتے تھے۔[4] یہی وجہ ہے کہ انہوں نے آیۃ اللہ خمینی کا شاگرد اور وکیل مطلق ہونے کے باوجود حکومت ایران سے مدد لینے سے گریز کیا۔

دوسری جانب مولانا عارف الحسینی سیاست میں فعالیت کے خواہاں تھے اسی لیے انہوں نے ایم آر ڈی میں شمولیت بھی اختیار کی ۔ اور جولائی 1987 کی قرآن و سنت کانفرنس میں اپنی جماعت کے انتخابات میں حصہ لینے کا بھی اعلان کیا۔

ضیاء الحق کی جانب سے عزاداری پر پابندی اور حسینی محاذ ایجی ٹیشن[ترمیم]

جنرل ضیاء الحق کی حکومت کی جانب سے جب 1984 میں جب پولیس ایکٹ کی دفعہ 30(3) میں ترمیم کرتے ہوئے میلاد النبی اور عزاداری امام حسین ؑ کے مذہبی جلوسوں پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا گیا تو اہل تشیع میں شدید اضطراب پیدا ہو گیا جس کے رد عمل میں آغا حامد موسوی نے جولائی 1984 میں ضیا ء الحق حکومت کو ترمیم کی واپسی کے لیے 90 دن کا الٹی میٹم دیا ۔ اکتوبر 1984 کو 10 محرم کے روز جب آغا حامد موسوی فوارہ چوک میں جلوس عاشورا کے دوران نماز کی امامت کر رہے تھے تو انہیں مختلف مقامات پر عزاداری کے جلوس روک دینے کی اطلاع موصول ہوئی جس کے رد عمل میں آغا حامد موسوی نے راولپنڈی اسلام آباد کا جلوس عاشورا روک دینے کا اعلان کیا ۔ 10 اور گیارہ محرم کی ساری رات عزاداروں پر شیلنگ کی جاتی رہی لیکن کوئی عزاداران کے پائے استقلا میں لغزش پیدا نہ کی جا سکی اور سحر کے قریب جب آیت اللہ نجم الحسن حیدری اذان فجر دے رہے تھے کہ لاٹھی چارج کرتے ہوئے آغا حامد موسوی اور ایک ہزار سے زائد عزاداروں کو گرفتار کر لیا گیا ۔ جیل سے ہی آغا حامد موسوی نے پولیس ایکٹ میں ترمیم کے خلاف حسینی محاذ ایجی ٹیشن کا اعلان کر تے ہوئے اپنے فرزندان کو گرف گرفتاری کے لیے پیش کرتے ہوئے رضاکارانہ گرفتاریاں دینے کا اعلان کر دیا جس کے نتیجے میں پاکستان کے مختلف مقامات سے گرفتاریوں کا آغاز ہوا۔ لیکن اس تحریک کا مرکز راولپنڈی کا امام بارگاہ قدیم تھا جو حسینی محاذ کے نام سے مشہور ہوا۔

ہر روز 5 ، جمعرات کو 12 اور جمعہ کو 14 عزادار گرفتاریاں پیش کرتے یہ ایجی ٹیشن 8 ماہ پرامن طریقے سے جاری رہا پاکستان کی جیلیں شیعہ عزاداروں سے بھر گئیں چودہ ہزار سے زائد عزاداروں نے گرفتاریاں پیش کیں جن میں سینکڑوں اہل سنت اور درجنوں عیسائی بھی شامل تھے ۔ اس دوران راولپنڈی کے سید صفدر علی نقوی اور میلسی سے تعلق رکھنے والے اشرف علی رضوی نے جام شہادت بھی نوش کیا۔ [5]

1985 کے غیر جماعتی انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی حکومت نے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ سے مذاکرات کا آغاز کیا اور بالآخر 21 مئی 85ء کو طے پانے والے موسوی جونیجو معاہدے کے تحت میلاد النبی اور عزاداری کے جلوسوں پولیس ایکٹ کی دفعہ 30(3) سے مستثنی قرار دے دیا گیا اور دیگر شیعہ مسائل کے حل کے لیے 16 رکنی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔

علامہ عارف الحسینی نے آغا حامد موسوی کی جانب سے عزاداری کی بحالی کے لیے شروع کی جانے والی تحریک میں شمولیت سے گریز کیا۔

افغان جہاد اور اہل تشیع[ترمیم]

پاکستان کے اہل تشیع نے اگرچہ افغانستان میں سوویت یونین کی مداخلت کی مخالفت کی لیکن آغا حامد موسوی کا یہ موقف تھا کہ پاکستانی سرزمین کو امریکا یا کسی بھی ملک کے جہادی کیمپوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے اور ملک کی مذۃبی جماعتوں کو بیرونی ممالک کی امداد کے شر سے بچایا جائے ۔

دوسری جانب مولانا عارف الحسینی کئی تصاویر اور خطبات میں خود بھی افغان جنگ میں حصہ لیتے ہوئے نظر آئے افغان مہا جرین کو ٹل میں بسانے میں بھی انہوں نے کردار ادا کیا جس کا نتیجہ بعد میں شیعہ سنی فسادات کی صورت بھی برآمد ہوا۔ [6]

آغا حامد موسوی کا انتخابی سیاست سے گریز اور علامہ عارف الحسنی کا انتخابات میں شرکت کا اعلان[ترمیم]

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے دونوں گروپوں میں اختلاف اس وقت مزید بڑھ گئے جب مولانا عارف الحسینی نے لاہور میں منعقدہ قرآن و سنت کانفرنس انتخابات میں ھصہ لینے کا اعلان کیا[7] انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ وہ اپنی جماعت کو عوام میں زیادہ قابل قبول بنانے کے لیے نفاذ فقہ کے مطالبے سے دستبردار ہو جائیں گے ۔ انتخابات سے قبل ہی ایک دہشت گردی میں مولانا عارف الحسینی کو 5 اگست 1988ء کو پشاور میں شہید کر دیا گیا اور عارف الحسینی گروپ کی قیادت مولانا ساجد نقوی کے ہاتھ میں آگئی جو شروع میں ہی آغا حامد موسوی سے علاحدہ ہو کر اپنے چچا مرھوم مولانا گلاب علی شاہ کے تمام متعلقین کے ساتھ مولانا عارف الحسینی کے ساتھ شامل ہو گئے تھے ۔

پاکستان میں اہل تشیع پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکولر رویے اور اہلبیت ؑ سے محبت کی وجہ سے آغاز ہی سے اس کی جانب مائل رہے ذو الفقار علی بھٹو کے انتخابی نشان ذو الفقار اور انتخابی نعروں کی وجہ سے اس وابستگی میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اسی وجہ سے مولانا عارف الحسینی کی جانب سے سیاست میں آنے کے اعلان کو ضیاء الحق کی جانب سے بھی پزیرائی ملی کیونکہ اس سے پیپلز پارٹی کے ووٹ تقسیم کی امید قائم ہو گئی تھی۔

دوسری جانب آغا سید حامد علی شاہ موسوی نے اہل تشیع ہی نہیں کسی بھی پاکستانی کے لیے مسلک زبان اور برادری کی بنیاد پرانتخابات میں حصہ لینے اور ووٹ مانگنے کو قوم وملک کے لیے زہر قاتل قرار دیا اور عوام سے اپیل کی کہ اتخابات میں قومی پالیسیوں کی بنیاد پر سیاسی جماعتوں کو ووٹ دینے کی ہدایت کی اور کہا کہ ملکی سیاست کو برادریوں، مسلکوں ، قومیتوں میں بانٹنا مارشل لائی حکومت کا ایجنڈا ہے ۔

16 نومبر 1988 کے انتخابات میں عارف الحسینی گروپ نے تختی کے نشان پر انتخابات میں حصہ لیا اور پورے ملک سے محض 42216 (بیالیس ہزار دو سو سولہ ) ووٹ حاصل کر سکے ۔ سوائے ڈیرہ اسماعیل خان عارف الحسینی گروپ کے تمام امیدواروں کی ضمانت ضبط ہو گئی ۔[8]

جلد ہی مولانا ساجد علی نقوی نے علامہ عارف الحسینی کی خواہش کے مطابق عارف الحسینی گروپ کا نام تحریک جعفریہ میں تبدیل کر لیا۔لیکن آغاحامد علی موسوی کی قیادت میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اپنے نام کے ساتھ آج بھی کام کررہی ہے ۔

  1. http://tnfj.org/
  2. https://walayat.net/4962/
  3. کتاب سفیر نور
  4. https://www.thenews.com.pk/print/354615-moosavi-urges-politicians-to-exercise-wisdom
  5. کتاب آئینہ عمل https://walayat.net/4962/
  6. کتاب سفیر نور×صفحہ 194
  7. کتاب سفیر نور صفحہ 256
  8. الیکشن کمیشن نتائج https://en.wikipedia.org/wiki/1988_Pakistani_general_election