محمد اعزاز علی امروہوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

محمد اعزاز علی امروہوی دار العلوم دیوبند کے مایہ ناز فاضل ، مفسر محدث فقیہ اور ادیب تھے اور تمام ہی علوم میں انھیں یکساں کمال حاصل تھا ، صدر مفتی کے عہدے پر فائز ہویے ، قلم سے پھیلا فیضان آج تک جاری و فیض رساں ہے ، نہایت متواضع شخصیت کے حامل ، خلوص و للہیت کے پیکر اور علم پر خود کو فدا کرنے کی اپنی مثال آپ تھے ۔

ولادت[ترمیم]

30 ذی الحجہ 1299ھ کو ضلع بدایوں میں ولادت ہوئی ۔

حصول علم[ترمیم]

متوسطات کی تعلیم کے بعد 1316ھ میں دار العلموم دیوبند آیے ، 1321ھ میں دار العلوم سے فراغت پائی ـ

تدریسی خدمات[ترمیم]

فراغت کے بعد فورا ہی مدرسہ نعمانیہ پورینی ضلع بھاگلپور (بہار) بھیج دیا گیا ، جہاں 7 سال درس دیا ، وہاں سے شاہجہاں پور آکر ایک مسجد میں مدرسہ افضل المدارس کے نام سے ایک مدرسہ قائم کیا اور وہاں حسبۃ للہ درس دینے لگے ، یہاں تین سال نہایت کامیابی سے درس دیا ، 1330ھ میں دار العلوم دیوبند میں بحیثیت مدرس تقرر ہوا ،اور پہلے سال میں عربی کی ابتدائی کتابیں علم الصیغہ اور نور الایضاح وغیرہ پڑھانے کو دی گئیں ۔[1]

دار العلوم کا اعتماد اور سند[ترمیم]

حسن کار کردگی کا یہ عالم تھا کہ اس وقت کی روداد میں اعزاز علی امروہوی کی نسبت لکھا ہے :

مولوی اعزاز علی صاحب طقہ وسطیٰ و اخریٰ کے درمیانی فارغ التصحیل حضرات میں سے ہیں ، چند جگہ مدرس بنایے رہے ، آخر میں مدرسہ پورینی ضلع بھاگلپور میں مدرس تھے ، وہاں سے دیوبند بلایے گیے ، آپ ایک نوجوان ، بااستعداد اور صاحب صلاح وتقویٰ عالم ہیں ، صورتا و سیرتا اپنے سلف کی یادگار ہیں ، علوم میں استعداد تانہ رکھتے ہیں ، خصوصا علم ادب میں خاص مہارت ہے ، ابھی آپ نے حماسہ کا تحشیہ کیا ہے ، اور کنز الدقائق کا تحشیہ کررہے ہیں ، اس سے قبل دیواب متنبی کا تحشیہ کرچکے ہیں ، آپ دار العلوم کے درجہ وسطیٰ میں درس دیتے ہیں ، علم ادب کے اکثراسباق آپ کے پاس رہتے ہیں ، طلباء کو عربی تحریر کی مشق بھی کراتے ہیں ، خوش تقریر ہیں ، طلباء آپ سے نہایت مانوس ہیں ۔

[2]

ریاست حیدرآباد میں نیابت افتاء[ترمیم]

1340ھ میں جب محمد احمد مہتمم دار العلوم دیوبند کا ریاست حیدرآباد لے مفتی اعظم کے عہدے پر انتکاب عمل میں آیا ، تو اپنی ضعیف العمری کی وجہ سے محمد اعزاز علی امروہوی کو اپنی معیت میں لے گئے ، وہاں ایک سال قیام کیا ، محمد احمد کے ساتھ دیوبند واپس آگئے ، عزیز الرحمن عثمانی کے بعد ان کو صدر مفتی دار العلوم کے عہدے پر فائز کیا گیا ، اس کے بعد آخر عمر تک دار العلوم دیوبند میں ہی قیام رہا ۔

علمی ذوق و امتیازات[ترمیم]

فقہ و ادب ان کا خاص فن تھا ، جب ابتدا دار العلوم آیے تو علم الصیغہ اور نور الایضاح سپرد ہوئیں ، مگر دروس نے ایسی مقبولیت پائی کہ دار العلوم کے حلقہ میں شیخ الادب و الفقہ کے لقب سے مشہور ہو گئے ، عمر کے آخری دور میں کئی سال ترمذی شریف جلد ثانی اور تفسیر کی بلند پایہ کتاب بھی پڑھائیں ، حسین احمد مدنی کی عدم موجودگی میں متعدد مرتبہ بخاری شریف کے پڑھانے کا بھی موقع ان کو ملا ، غرض کہ علم تفسیر ، حدیث ، فقہ اور ادب وغیرہ ہر فن کی کتابوں پر ان کو عبور حاصل تھا ، تعلیم کے ساتھ طلبہ کی تربیت اور نگرانی ان کا خاص ذوق تھا ، جس سے طلبہ کو بے انتہا فائدہ پہنچا اور آج تک شاگرد ان کو یاد کرتے ہیں ، حفظ و نظام اوقات ضرب المثل تھا ،اوقات درس کی پابندی میں اپنی نظیر خود تھے ، گھنٹہ شروع ہوتے ہیں درسگاہ میں داخل ہوجاتے اور ایک دو منٹ قبل ہی فارغ کردیتے ، حتی کہ بعض اساتذہ دارا لعلوم دیوبند نے درس حدیث میں اوقات کی پابندی کا سبق شیخ الادب سے ہی لیا ۔ بے نفسی اور تواضع میں ید طولیٰ رکھتے تھے ، بڑی سے بڑی کتابوں کے درس کے ساتھ چھوٹی سے چھوٹی کتاب پڑھانے میں کبھی عار نہ ہوتا تھا ، [[ترمذی و بخاری کا درس بھی دے رہے ہیں اور بچوں کو میزان الصرف علم الصیغہ اور نور الایضاح وغیرہ بھی پڑھا رہے ہیں ، آپ کے نزدیک سے سے زیادہ محبوب طالب علم وہ ہوتا تھا جو یکسوئی کے ساتھ پڑھنے لکھنے میں لگا رہے اور سب سے زیادہ مبغوض وہ ہوتا تھا جو غیر تعلیمی مشاغل میں لگ کر پڑھنے میں تساہل کرے ۔[3]

تالیفات[ترمیم]

جس طرح عربی نظم و نثر پر قدرت و کمال تھا ، اسی طرح اردو نظم و نثر پر بھی کمال حاصل تھا ، عربی ادب میں انھوں نے نفحۃ الیمن کے معیار کے مطابق نفحۃ العرب کے نام سے ایک کتاب مرتب کی تھی ، جس میں تاریخی حکایات ، وقصص اور اخلاقی مضامین درج کیے گئے ہیں ، یہ کتاب عربی مدارس میں کافی مقبول ہوئی ، دار العلوم اور دوسرے بہت سے مدارس میں آج تک داخل نصاب ہے ، اس کے علاوہ انھوں نے فقہ میں نور الایضاح ، شرح نقایہ کنز الدقائق اور ادب میں حماسہ اور دیوان متنبی پر مفید حواشی تحریر فرمایے ہیں ، جو نایت ہیں وقیع و کار آمد ہیں ، طلبہ و علما اس سےمستفید ہوتے ہیں ، حبیب الرحمن دیوبندی کے عربی قصیدہ لامیۃ المعجزات کے اشعار کی اردو میں سلیس شرح فرمائی ہے ۔

حسن انتظام[ترمیم]

انتظامی امور میں بھی اہلیت مسلم تھی ، وقتا فوقتا ادارہ اہتمام میں بھی ان کی انتظامی صلاحتیوں سے استفادہ کیاجاتا تھا ، غرض ایک بے نظیر استاد اور متبحر عالم دین اور ایک جامع شخصیت تھے ۔ دار العلوم میں خدمت کا دورانیہ دار العلوم میں ان کی علمی خدمات کا 44 برس ممتد رہا ۔

صدارت افتاء[ترمیم]

پہلی مرتبہ 1347ھ مطابق 1929ء سے 1348ھ مطابق 1930ء تک اور دوسری مرتبہ 1364ھ مطابق 1945ھ سے 1366ھ مطابق 1947ء تک دو مرتبہ افتا کی مسند صدارت پر رونق افروز رہے ۔

صدارت میں تعداد فتاویٰ[ترمیم]

ان کی عہد صدارت افتا کے دوران 24855 فتاویٰ لکھے گئے ۔[1]

وفات[ترمیم]

1374ھ مطابق 1955ء میں اس دار فانی سے کوچ کیا ۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]