حبیب الرحمن قاسمی اعظمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مولانا

حبیب الرحمن قاسمی اعظمی
ذاتی
پیدائش1941
وفات12 مئی 2021(2021-50-12) (عمر  79–80 سال)
مذہباسلام
نسلیتبھارتی
فقہی مسلکسنی، حنفی
تحریکدیوبندی
قابل ذکر کامشیوخ الامام ابی ابوداؤد السجستانی فی کتاب السنن، تذکرہ علمائے اعظم گڑھ، مقالات حبیب، اجودھیا کے اسلامی آثار، بابری مسجد حقائق اور افسانے
مرتبہ
استاذسید فخر الدین احمد، محمد ابراہیم بلیاوی، محمد طیب قاسمی

حبیب الرحمن قاسمی اعظمی (1941ء- 12 مئی 2021ء) ایک بھارتی سنی دیوبندی عالم، بلند پایہ مصنف، فن اسماء الرجال کے ماہر اور دار العلوم دیوبند کے استاذِ حدیث اور ’’شیوخ الامام ابی داؤد السجستانی فی کتاب السنن‘‘، ’’تذکرہ علمائے اعظم گڑھ‘‘، ’’اجودھیا کے اسلامی آثار‘‘ اور ’’بابری مسجد حقائق اور افسانے‘‘ سمیت کئی کتابوں کے مصنف تھے۔

ولادت و تعلیم[ترمیم]

مولانا اعظمی 1361ھ بہ مطابق 1941ء کو جگدیش پور، ضلع اعظم گڑھ، برطانوی ہند میں پیدا ہوئے۔[1] ابتدائی تعلیم ناظرہ، قرآن اور فارسی کی ابتدائی کتابوں تک اپنے قریہ میں پھر ایک قریبی قریہ برئی پور میں حاصل کی، پھر مدرسہ روضۃ العلوم پھول پور چلے گئے، جہاں انھوں نے عربی کی کچھ ابتدائی کتابیں اور فارسی کی بعض کتابیں پڑھیں، جہاں انھوں نے شاہ عبد الغنی پھول پوری سے گلستان سعدی پڑھی،[1] اس کے بعد مدرسہ بیت العلوم سرائے میر میں عربی کی درجاتِ وسطی تک کی تعلیم حاصل کی، پھر عربی کی درجاتِ علیا کی تعلیم درجۂ عربی ہفتم تک دار العلوم مئو میں ہوئی،[1] پھر 1962ء میں درس نظامی کی تکمیل کے لیے دار العلوم دیوبند تشریف لے گئے، جہاں سے انھوں نے 1384ھ بہ مطابق 1964ء دورۂ حدیث سے فراغت حاصل کی،[1][2] دار العلوم دیوبند میں ان کے اساتذۂ حدیث: سید فخر الدین احمد، محمد ابراہیم بلیاوی، محمد طیب قاسمی، بشیر احمد خاں بلند شہری، فخر الحسن مراد آبادی، شریف حسن دیوبندی، اسلام الحق اعظمی اور عبد الاحد دیوبندی تھے۔[1]

تدریسی و خدماتی زندگی[ترمیم]

فراغت کے بعد کچھ ماہ تک مدرسہ روضۃ العلوم پھول پور کے شعبۂ تبلیغ سے جڑے رہے، پھر مدرسہ اشرف المدارس گھوسی سے تدریس کا آغاز کیا، جہاں وہ صدر المدرسین تھے۔ پھر مدرسہ اسلامیہ ریوڑھی تالاب بنارس چلے گئے، پھر آٹھ ماہ کے لیے مدرسہ قرآنیہ جونپور اور ایک سال کے لیےمدرسہ اسلامیہ منگراواں میں تدریسی خدمات انجام دیں،[1] پھر مدرسہ اسلامیہ ریوڑھی تالاب بنارس میں مدرس ہوئے اور 1980ء تک وہاں مدرس رہے۔[1] 1980ء میں مؤتمر فضلائے دیوبند؛ خصوصاً اسعد مدنی کی طلب پر دیوبند گئے[3] اور عالمی مؤتمر کی نظامت اور ماہنامہ القاسم کی ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے، 1402ھ بہ مطابق 1982ء میں دار العلوم دیوبند کے مدرس مقرر ہوئے اور 1985ء میں ان کو ماہنامہ دار العلوم کا مدیر مقرر کیا گیا، 2016ء تک مولانا اعظمی اس کے مدیر رہے۔[4] 1420ھ میں دار العلوم کی ردِ عیسائیت کمیٹی کا ان کو نگراں پھر ناظم مقرر کیا گیا، جس کے ناظم وہ 1438ھ تک رہے۔[4] دار العلوم میں سنن ابو داود، مشکاۃ المصابیح،[4] نخبۃ الفکر اور مقدمہ ابن الصلاح جیسی اہم کتابیں ان سے متعلق رہیں،[1] 1980 سعید احمد پالن پوری کی وفات کے بعد صحیح البخاری کے بعض اجزا کے اسباق بھی ان سے متعلق ہوئے؛ لیکن 24 مارچ 2020ء سے ملک گیر سطح پر لاک ڈاؤن لگنے کی وجہ سے مدارس ہی بند رہے۔[1]

وفات[ترمیم]

30 رمضان 1442ھ بہ مطابق 12 مئی 2021ء بہ روز جمعرات تقریباً سوا بارہ بجے دن میں چند دنوں کی علالت کے بعد وہ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے اور اپنے آبائی قبرستان جگدیش پور میں مدفون ہوئے۔[1][3] ان کی وفات پر جمعیت علمائے ہند الف کے صدر سید ارشد مدنی، جمعیت علمائے ہند میم کے سابق صدر عثمان منصور پوری، دار العلوم دیوبند کے مہتمم ابو القاسم نعمانی، دار العلوم وقف دیوبند کے مہتمم محمد سفیان قاسمی، دار العلوم کے سابق نائب مہتمم عبد الخالق سنبھلی، جامعہ امام محمد انور شاہ کے مہتمم احمد خضر شاہ مسعودی اور دیگر علما و دانشورانِ قوم و ملت نے افسوس کا اظہار کیا۔[5][6]

تصنیفی خدمات[ترمیم]

ان کی تصانیف میں درج ذیل کتابیں شامل ہیں:[7][1]

  • شیوخ الامام ابی ابوداؤد السجستانی فی کتاب السنن
  • شجرۂ طیبہ
  • مقالاتِ حبیب (تین جلدیں)
  • تذکرہ علمائے اعظم گڑھ
  • شرح اردو مقدمہ شیخ عبدالحق (شرح مقدمة الشيخ عبد الحق المحدث الده‍لوي في بيان بعض مصطلحات علم الحديث)
  • انتقاء کتاب الاخلاق
  • ہندوستان میں امارت شرعیہ کا نظام اور جمعیت علمائے ہند کی جد وجہد
  • اسلام میں تصور امارت
  • متحدہ قومیت علماء اسلام کی نظر میں
  • خمینیت اثر حاضر کا عظیم فتنہ
  • فرقہ اثنا عشریہ فقہائے اسلام کی نظر میں
  • خلیفہ مہدی صحیح احادیث کی روشنی میں
  • طلاق ثلاثہ صحیح ماخذ کی روشنی میں
  • اجودھیا کے اسلامی آثار
  • بابری مسجد حقائق اور افسانے

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د اعظمی، عبد العلیم بن عبد العظیم (30 جون 2021). "مولانا حبیب الرحمن اعظمی حیات وخدمات". جہازی میڈیا ڈاٹ کام. عبد العلیم بن عبد العظیم اعظمی. اخذ شدہ بتاریخ 11 اگست 2021. 
  2. مولانا طیب قاسمی ہردوئی. دار العلوم ڈائری تلامذۂ فخر المحدثین نمبر (ایڈیشن 2016). دیوبند: ادارہ پیغامِ محمود. 
  3. ^ ا ب خان، فیروز (13 مئی 2021). "معروف عالم دین مولانا حبیب الرحمن اعظمی کا انتقال". آواز دی وائس. فیروز خان. اخذ شدہ بتاریخ 12 اگست 2021. 
  4. ^ ا ب پ محمد اللّٰہ قاسمی. "حضرت مولانا حبیب الرحمن قاسمی اعظمی". دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ (ایڈیشن اکتوبر 2020). دیوبند: شیخ الہند اکیڈمی. صفحہ 686-687. 
  5. "مولانا حبیب الرحمن کے انتقال سے علمی، ملی اور جماعتی دنیا میں پیدا خلا کی تلافی مشکل: مولانا ارشد مدنی". قومی آواز ڈاٹ کام. یو این آئی. 13 مئی 2021. اخذ شدہ بتاریخ 12 اگست 2021. 
  6. سلمانی، رضوان (13 مئی 2021). "دارالعلوم دیوبند کے بزرگ استاذ حدیث مولانا حبیب الرحمن اعظمی کا انتقال ، دیوبندسمیت پوری اسلامی دنیا کا ماحول غمگین". ہندوستان اردو ٹائمز ڈاٹ کام. اخذ شدہ بتاریخ 12 اگست 2021. 
  7. "دارالعلوم دیوبند :مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمیؒ کا انتقال". آواز دی وائس ڈاٹ کام. www.urdu.awazthevoice.in. 16 مئی 2021. اخذ شدہ بتاریخ 12 اگست 2021. 

کتابیات[ترمیم]

  • اعظمی، مفتی شرف الدین، ویکی نویس (ستمبر 2021ء). "مولانا حبیب الرحمن اعظمی: حیات و خدمات". ماہنامہ الماس. ادارہ فکر و فن، انوار جامع مسجد، شیواجی نگر، گوونڈی، ممبئی، بھارت. 1 (4). 
  • اعظمی، عبد العلیم بن عبد العظیم (30 جون 2021). "مولانا حبیب الرحمن اعظمی حیات وخدمات". جہازی میڈیا ڈاٹ کام. اخذ شدہ بتاریخ 11 اگست 2021. 
  • محمد اللّٰہ قاسمی. "حضرت مولانا حبیب الرحمن قاسمی اعظمی". دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ (ایڈیشن اکتوبر 2020). دیوبند: شیخ الہند اکیڈمی. صفحہ 686-687.