مندرجات کا رخ کریں

درس نظامی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

درسِ نظامی برصغیرِ ہند و پاک میں رائج ایک روایتی دینی نصابی و تدریسی نظام ہے جس کی نسبت عموماً 18ویں صدی کے عالم نظام الدین محمد سہالوی کی طرف کی جاتی ہے۔ یہ نظام فقہِ حنفی، عربی زبان و ادب، منطق و فلسفہ، تفسیر، حدیث اور دیگر علومِ آلیہ پر مشتمل ایک مرتب نصاب کا نام ہے جو ابتدا میں مغلیہ دَور کے عدالتی و تعلیمی تقاضوں کے پس منظر میں تشکیل پایا، بعد کے ادوار میں اس میں متعدد اضافے اور تبدیلیاں کی گئیں۔ برصغیر کے قدیم عربی مدارس، بعد ازاں دار العلوم دیوبند اور اس کے طرز کے دینی مدارس، نیز پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کے مختلف دینی وفاق و امتحانی بورڈ آج بھی اسی نصابی روایت کی مختلف صورتیں اپنے اپنے تناظر میں نافذ کیے ہوئے ہیں۔

تعارف

[ترمیم]

درسِ نظامی ایک مخصوص طریقۂ درس ہے نہ کہ محض چند مخصوص کتابوں کا مجموعہ؛ اس طریقۂ درس کے تحت مختلف ادوار میں متعدد متون اور ان کی شرحیں بطورِ درسی مواد اختیار کی گئیں۔[1]

ابتدائی دور میں اس نصاب میں دفتری و عدالتی زبانِ وقت (فارسی)، فقہِ حنفی کی عدالتی حیثیت اور اس دور میں رائج علمی مضامین (منطق، فلسفہ، ریاضی، ہیئت وغیرہ) کو مدِ نظر رکھا گیا، اسی بنیاد پر فقہ، اصولِ فقہ، نحو و صرف، منطق، حکمت، ریاضی، بلاغت اور تفسیر و حدیث کو مربوط انداز میں شامل کیا گیا۔[2]

بعض ناقدین نے نصاب میں معقولات (منطق و فلسفہ) کی کثرت کو تنقید کا موضوع بنایا جبکہ بعض مؤلفین نے اسے ذہنی ورزش اور استدلالی صلاحیت کی تربیت قرار دیا ہے؛ اس حوالے سے نصاب میں کمی بیشی اور اضافے وقتاً فوقتاً ہوتے رہے ہیں۔ [3]

محمد اللہ خلیلی قاسمی کے مطابق درسِ نظامی کا موجودہ ڈھانچہ اپنی اصل بنیاد (ملا نظام الدین کے نصاب) سے نہ صرف مختلف ہو چکا ہے بلکہ اس میں مختلف ادوار کے ممتاز علمی مراکز — دہلی، لکھنؤ اور خیرآباد — کی خصوصیات کو یکجا کر کے ایک جامع نصابی نظام تشکیل دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق دار العلوم دیوبند نے اس نصاب میں ابتدا ہی سے مسلسل اصلاح و تجدید کا عمل جاری رکھا؛ چنانچہ کئی قدیم کتابیں نکال کر دوسرے متون شامل کیے گئے، موضوعات کی جماعت وار تقسیم بدلی گئی اور عصرِ حاضر کے بعض تقاضوں (مثلاً کمپیوٹر، انگریزی اور صحافت) کو بھی نصاب میں مناسب حد تک جگہ دی گئی، البتہ بنیادی مقصد — علومِ عالیہ کی تحصیل اور اسلامی فکر کی حفاظت — ہمیشہ مقدم رکھا گیا۔ [4]

بانیِ درسِ نظامی

[ترمیم]

درسِ نظامی کو عموماً نظام الدین محمد سہالوی (م 1161ھ/1747ء) کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ محمد رضا انصاری کے بیان کے مطابق انھی کی طرف یہ نسبت اس لیے قائم ہوئی کہ انھوں نے اپنے زمانے کے دینی، علمی اور ریاستی تقاضوں کو سامنے رکھ کر رائج درسی متون کو ایک مرتب اور مربوط نصابی سانچے کی شکل دی؛ اگرچہ زیادہ تر کتابیں پہلے سے پڑھائی جاتی تھیں، لیکن انھیں منظم صورت میں مرتب کرنا انھی کا قابلِ ذکر کارنامہ تھا۔ [3] شبلی نعمانی کے مطابق ’’درسِ نظامیہ‘‘ کے نام سے بعض ناواقف حضرات کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ اس کا تعلق بغداد کے مدرسۂ نظامیہ سے ہے، حالانکہ یہ نسبت درست نہیں؛ اصل نصاب ہندوستان میں مرتب ہوا اور ملا نظام الدین سہالوی کے نام سے منسوب ہے۔ شبلی اس امر کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ اس نصابی سلسلے کی بنیاد دراصل ایک پشت پہلے ملا نظام الدین کے والد، ملا قطب الدین شہید، نے رکھی تھی، جو ان کے نزدیک اس علمی سلسلے کے اصل مؤسس قرار پاتے ہیں۔[5] ابو عمار زاہد الراشدی بھی اس بات کی تصریح کرتے ہیں کہ درسِ نظامی کا مرتب کردہ نصاب بغداد کے نظام الملک کے مدرسہ سے نہیں بلکہ سہالی و فرنگی محل کے علمی خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور ملا نظام الدین نے اسے اپنے دور کے تقاضوں کے مطابق ایک جامع نصاب کی شکل دی۔[2]

ملا نظام الدین کا مرتب کردہ نصاب

[ترمیم]

ذیل میں وہ درسی ترتیب درج کی جاتی ہے جو تذکرہ نگاروں نے ملا نظام الدین سہالوی سے منسوب کی ہے:[6]

فن نمایاں درسی متون
صرف میزان؛ منشعب؛ صرف میر؛ پنج گنج؛ زبده؛ فصولِ اکبری؛ شافِیہ
نحو نحوِ میر؛ مائۃ عامل؛ ہدایۃ النحو؛ کافیہ؛ شرحِ جامی
منطق صغریٰ؛ کبریٰ؛ ایساغوجی؛ تہذیب؛ شرحِ تہذیب؛ قطبی (مع میر قطبی)؛ سلمُ العلوم
فلسفہ/حکمت میبذی؛ صدرا؛ شمسِ بازغہ
ریاضی و ہیئت خلاصۃ الحساب؛ تحریرِ اقلیدس (مقالۂ اوّل)؛ تشریح الافلاک؛ رسالۂ قوشجیہ؛ شرحِ چغمینی (باب اوّل)
بلاغت مختصر المعانی؛ مطول (جزوی)
فقہ شرح الوقایہ؛ الہدایہ (اول و آخر)
اصولِ فقہ نور الانوار؛ توضیح؛ تلویح؛ مسلم الثبوت
تفسیر تفسیرِ جلالین؛ تفسیرِ بیضاوی (منتخب ابواب)
حدیث مشکوۃ المصابیح

بعد کا اضافہ شدہ نصاب

[ترمیم]

بعد میں دو سو سالوں کے اندر نصاب میں مناظرہ، اصولِ حدیث، ادب اور فرائض جیسے مضامین کا اضافہ کیا گیا اور حدیث و دیگر علوم میں متعدد اہم کتب شامل ہوئیں:[7][8]

فن کتابیں (اضافہ شدہ نصاب)
صرف میزان؛ مشعب؛ پنج گنج؛ صرف میر؛ علم الصیغہ؛ فصول اکبری؛ دستور المبتدی؛ زراوی؛ زنجانی؛ صرف بہائی؛ مراح الارواح
نحو نحوِ میر؛ نظم مائۃ عامل؛ شرح مائۃ عامل؛ ہدایۃ النحو؛ کافیہ؛ شرح جامی؛ تسہیل الکافیہ؛ حاشیہ شرحِ جامی
منطق صغریٰ؛ کبریٰ؛ ایساغوجی؛ مرقات؛ تہذیب المنطق؛ شرحِ تہذیب؛ سلم العلوم؛ شرحِ سلم العلوم (حمد اللہ)؛ شرحِ سلم العلوم (قاضی مبارک)؛ شرحِ سلم العلوم (ملا حسن)؛ رسالۂ میر زاہد؛ قطبی؛ میر قطبی
فلسفہ و حکمت میبذی (شرح ہدایۃ الحکمۃ)؛ صدرا؛ شمس البازغہ؛ ہدیہ سعیدیہ؛ تصریح؛ شرحِ چغمینی
ہیئت و ہندسہ تحریرِ اقلیدس؛ تشریحِ الافلاک؛ خلاصۃ الحساب
معانی و بیان تلخیص المفتاح؛ مختصر المعانی؛ مطول؛ خلاصۂ کیدانی
فقہ منیۃ المصلی؛ نور الایضاح؛ قدوری؛ کنز الدقائق؛ شرحِ وقایہ؛ ہدایہ؛ سراجی
اصول فقہ اصول الشاشی؛ نور الانوار؛ حسامی؛ توضیح؛ تلویح؛ مسلم الثبوت
کلام و عقائد شرحِ مواقف (جرجانیشرحِ عقائدِ نسفی؛ شرحِ عقائدِ جلالی؛ خیالی
تفسیر انوار التنزیل و اسرار التأویل (بیضاوی)؛ تفسیرِ جلالین؛ کشاف
اصولِ تفسیر الفوز الکبیر فی اصول التفسیر
حدیث مشکوٰۃ المصابیح؛ صحیح البخاری؛ صحیح مسلم؛ جامع ترمذی؛ سننِ ابی داؤد؛ سننِ نسائی؛ سننِ ابن ماجہ؛ شمائلِ ترمذی
اصول حدیث نخبۃ الفکر
مناظرہ رشیدیہ
ادبِ عربی مفید الطالبین؛ نفحۃ الیمن؛ نفحۃ العرب؛ دیوانِ متنبی؛ دیوانِ حماسہ؛ مقاماتِ حریری؛ سبعۂ معلقہ
عروض عروض المفتاح

موجودہ نصابِ دار العلوم دیوبند

[ترمیم]

دار العلوم دیوبند نے درسِ نظامی کے روایتی ڈھانچے کو اختیار کیا مگر نصابِ فاضل (آٹھ سالہ) میں کئی تنظیمی ترامیم اور اضافے عمل میں لائے گئے۔ محمد اللہ خلیلی قاسمی کے مطابق دار العلوم دیوبند نے دہلی، لکھنؤ اور خیر آباد کے علمی مراکز کی خصوصیات کو یکجا کر کے درسِ نظامی کو ایک جامع نصاب کی شکل دی اور ابتدا ہی سے اس میں مسلسل تبدیلی اور ارتقا کا عمل جاری رہا؛ اس دوران علومِ عالیہ کی اساس برقرار رکھتے ہوئے کتابوں کے انتخاب، تنظیم اور جماعت وار تقسیم کو وقت کے تقاضوں کے عین مطابق ڈھالا گیا، جبکہ کمپیوٹر، انگریزی اور صحافت جیسے عصری مضامین بھی اُن طلبہ کے لیے شامل کیے گئے جو اس میدان میں آگے بڑھنے کا رجحان رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی ہر تبدیلی کو نصاب کے بنیادی مقصد — یعنی علومِ اسلامیہ کی صحیح تفہیم اور دینی ثقافت کے تحفظ — کے تابع رکھا جاتا ہے۔ [4]

نصابِ فضیلت

[ترمیم]

ذیل میں جماعت وار خلاصہ دیا گیا ہے جیسا کہ دار العلوم دیوبند کے مجوزہ نصاب و قواعدِ داخلہ میں درج ہے:[9][10]

سال کتابیں
اول اصول التجوید؛ سیرت خاتم الانبیاء؛ میزان و منشعب (مکمل)؛ پنج گنج (تا فصلِ چہارم مکمل)؛ نحوِ میر؛ شرحِ مَأۃ عامل؛ القراءۃ الواضحۃ (حصہ اوّل)؛ مفتاح العربیہ (حصہ اوّل مکمل؛ حصۂ دوم تا الدرس الرابع والعشرون)
دوم جمال القرآن؛ علم الصیغہ (تا افاداتِ نافعہ، ص:74)؛ فصولِ اکبری (خاصیاتِ ابواب مکمل)؛ ہدایۃ النحو؛ القراءۃ الواضحۃ (حصہ دوم)؛ نفحۃ الادب؛ نور الایضاح؛ مختصر القدوری (اوّل تا ختم کتاب الحج)؛ آسان منطق؛ المرقاۃ فی المنطق (تا فصل فی الاغالیط)
سوم ترجمۂ قرآن (سورۂ ق تا سورۂ ناس مکمل)؛ نفحۃ العرب (ابتدا تا ختم عنوان نبذۃ من ذکاوۃ العرب)؛ مشکوٰۃ الآثار؛ مختصر القدوری (کتاب البیوع تا ختم کتاب)؛ کافیہ؛ القراءۃ الواضحۃ (حصہ سوم)؛ تعلیم المتعلم؛ شرح التہذیب (از صفحہ 63 تا ختم کتاب)
چہارم ترجمۂ قرآن (سورۂ یوسف تا سورۂ حجرات مکمل)؛ شرح الوقایہ (حصہ اوّل مکمل؛ حصہ دوم تا کتاب العتاق)؛ قطبی (ابتدا تا الفصل الثانی فی المختلطات)؛ تسہیل الاصول؛ اصول الشاشی؛ دروس البلاغۃ؛ الفیۃ الحدیث؛ تاریخ الخلفاء (مترجم اردو — حصہ بنو امیہ)؛ تاریخ ملت (حصہ بنو عباس)
پنجم ترجمۂ قرآن (سورۂ فاتحہ تا سورۂ ہود مکمل)؛ ہدایہ اوّل (از ابتدا تا کتاب الحج مکمل)؛ نور الانوار (کتاب اللہ مکمل)؛ مختصر المعانی (الفن الاول مکمل)؛ مقاماتِ حریری (پندرہ مقامے)؛ سلم العلوم (ابتدا تا شرطیات)؛ کتاب العقیدۃ الطحاویۃ؛ تاریخ سلاطینِ ہند (مطالعہ)
ششم تفسیر جلالین (مکمل)؛ ہدایہ ثانی (از کتاب النکاح تا ختم کتاب الایمان)؛ الفوز الکبیر؛ حسامی (از کتاب السنۃ تا ختم کتاب)؛ مبادی الفلسفہ؛ میبذی (تا الفن الاول من القسم الثانی ما یعم الاجسام مکمل)؛ قصائد منتخبہ من دیوان المتنبی؛ دیوان حماسہ (ابتدا تا ختم باب الادب)؛ اصح السیر فی ھدی خیر البشر (مطالعہ)
ہفتم مشکوٰۃ المصابیح (ثلث اوّل: تا باب زیارۃ القبور؛ ثلث ثانی: از کتاب الزکاۃ تا باب تغطیۃ الاوانی؛ ثلث ثالث: از کتاب اللباس تا ختم کتاب)؛ ہدایہ ثالث (از کتاب البیوع تا ختم کتاب الاقرار)؛ ہدایہ رابع (از کتاب الشفعۃ تا ختم ما یحدثہ الرجل فی الطریق من کتاب الدیات)؛ مقدمہ شیخ عبد الحق؛ شرح نخبۃ الفکر (مکمل)؛ شرح العقائد النسفیۃ (مکمل)؛ سراجی (ابتدا تا باب ذوی الارحام)
دورۂ حدیث شریف صحیح بخاری (مکمل)؛ صحیح مسلم (جلد اوّل: ابتدا تا کتاب الایمان؛ جلد دوم: ابتدا تا کتاب الجہاد)؛ جامع ترمذی (مکمل)؛ سنن ابی داؤد (جلد اوّل: کتاب الطہارۃ، کتاب الزکاۃ؛ جلد دوم: ابتدا تا بقیۃ کتاب الجہاد، کتاب الخراج والفتی والامارۃ، کتاب العتق، کتاب الدیات)؛ سنن نسائی (کتاب الصیام، کتاب المناسک)؛ سنن ابن ماجہ (ابتدا تا کتاب الطہارۃ و ابواب الادب)؛ شرح معانی الآثار (طحاوی) (از کتاب الصلاۃ تا باب الوتر)؛ شمائل ترمذی (مکمل)؛ موطأ امام مالک (از کتاب الاشربۃ تا ما جاء فی الحجامۃ وأجرۃ الحجام)؛ موطأ امام محمد (کتاب النکاح، کتاب الطلاق، کتاب الضحایا)

تخصصات و تکمیلات

[ترمیم]

فضیلت کے بعد طلبہ کے لیے مزید اعلیٰ درجہ کی تعلیم و مہارت کے متعدد شعبہ جات قائم ہیں جنھیں ’’تکمیلات و تخصصات‘‘ کہا جاتا ہے۔ ان پروگراموں کا مقصد یہ ہے کہ فارغین اپنی استعداد و میلان کے مطابق کسی خاص فن میں مہارتِ علمی و عملی حاصل کر سکیں۔ ان شعبہ جات میں تدریب فی التدریس (دو سال)، تخصص فی الحدیث، تکمیل افتاء، تدریب فی الفتاویٰ، تکمیل علوم، تکمیل ادبِ عربی، تخصص فی الادب العربی، شعبۂ مطالعۂ ادیان و فرق (محاضراتِ علمیہ)، شعبۂ صحافت، شعبۂ کمپیوٹر اور شعبۂ خوش‌خطی سمیت دیگر تحقیقی و مہارتی کورسز شامل ہیں، جن کی مدت عمومی طور پر ایک تا دو سال ہوتی ہے۔ ہر شعبہ میں بنیادی کتابوں کے ساتھ اسی فن سے متعلق متعدد معاون متون، عملی تربیت، تقابلی مطالعہ، خطابات اور تحقیقی مشقیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ [4]

آراء و تجزیات

[ترمیم]

بہت سے اہلِ علم درسِ نظامی کے بارے میں یہ واضح کرتے ہیں کہ اس نصاب کی بنیادیں برصغیر کے مخصوص تاریخی اور سماجی حالات سے جڑی ہوئی ہیں۔ ابو عمار زاہد الراشدی کے مطابق 1857ء کے بعد جب فارسی اور فقہِ حنفی کو ریاستی نظام سے نکالا گیا تو قرآن و حدیث اور عربی علوم کی تدریس کے تحفظ کے لیے نجی دینی مدارس قائم ہوئے اور اسی پس منظر میں درسِ نظامی نے ’’دینی‘‘ اور ’’عصری‘‘ علوم کو ایک ہی نظام میں جمع رکھا؛ اس لیے دینی و عصری نصاب کی تقسیم کی ذمہ داری مدارس پر نہیں بلکہ ریاستی پالیسیوں پر عائد ہوتی ہے۔[2]

محمد رضا انصاری اس نقطے کو مزید واضح کرتے ہیں کہ معقولات کی کثرت کوئی نئی بدعت نہیں تھی بلکہ ہندوستان میں پہلے ہی سے رائج تھی اور ان متون کا اصل مقصد طلبہ میں علمی ’’ملکہ‘‘، یعنی غور و فکر اور استنباط کی صلاحیت پیدا کرنا تھا؛ اسی بنا پر انھوں نے معقولات کو ’’ذہنی ورزش‘‘ قرار دیا اور بتایا کہ نصاب میں کتابوں کا انتخاب، اختصار اور مشکل متون کا شامل کیا جانا اسی مقصد کے تحت تھا۔ [11] اس کے برعکس رشید احمد جالندھری اس نصاب میں بعض اہم خلا کی نشان دہی کرتے ہیں، جیسے تاریخِ اسلام، سیرت، فقہِ مقارن، جدید فلسفہ اور معاشرتی علوم اور لکھتے ہیں کہ وقت کے ساتھ کچھ اضافے تو ہوئے، مگر کئی بنیادی ضرورتیں اب بھی پوری نہیں ہوئیں۔ [12]

شوکت علی قاسمی بستوی، دار العلوم دیوبند کے عمل کو اس سلسلے میں ایک منظم مثال کے طور پر بیان کرتے ہیں: ان کے مطابق دیوبند نے درسِ نظامی کو جوں کا توں نہیں لیا بلکہ 1415ھ میں نمائندہ کمیٹی کی سفارشات کے بعد اس میں حذف و اضافہ، تنظیم اور کلاس وار تقسیم کی؛ تفسیر، تاریخ، عربی ادب، فقہ اور حدیث کی کتابوں میں نمایاں اضافہ کیا؛ اور حدیث کی تدریس کو صرف روایت کے بیان تک محدود نہ رکھ کر فقہی استنباط، درایتی مطالعہ اور نصوص کے باہمی ربط کے ساتھ پڑھایا۔ وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ منطق و فلسفہ کو مکمل طور پر نکال دینا مناسب نہیں کیونکہ اصولِ فقہ اور قدیم متون کے فہم کے لیے ان کی بنیادی واقفیت ضروری ہے، البتہ ان کا دائرہ محدود اور مقصدی رکھنا چاہیے۔[13]

محمد اللہ خلیلی قاسمی درسِ نظامی کی معاصر تشکیل کے سلسلے میں یہ رائے دیتے ہیں کہ دار العلوم دیوبند نے نصاب کو کبھی جامد نہیں رکھا بلکہ وقت کے تقاضوں اور طلبہ کی ضرورتوں کے مطابق اس میں مسلسل ترمیم و تنظیم کی ہے۔ ان کے مطابق نصاب میں قدیم متون کی اہمیت برقرار رکھتے ہوئے تفسیر، حدیث، عربی ادب اور بعض عصری فنون کے اضافے کے ذریعے اسے زیادہ جامع اور موثر بنایا گیا ہے، تاہم ہر تبدیلی میں یہ امر ملحوظ رکھا گیا کہ نصاب کے بنیادی مقصد یعنی علومِ عالیہ کی صحیح تفہیم اور علمی روایت کی حفاظت پر کوئی زد نہ آئے۔ [4]

پاکستان میں درسِ نظامی کے وفاق اور امتحانی بورڈز

[ترمیم]

پاکستان میں درسِ نظامی کی تدریس و امتحانات مختلف دینی وفاقوں کے تحت ہوتے ہیں۔ قدیم رجسٹرڈ وفاقوں میں تنظیم المدارس اہل سنت، وفاق المدارس العربیہ، وفاق المدارس الشیعہ، وفاق المدارس السلفیہ اور رابطۃ المدارس الاسلامیہ (جسے حکومتِ پاکستان نے 1987ء میں منظور کیا) شامل ہیں۔ رابطۃ المدارس اپنے ملحقہ مدارس کے لیے نصابی کمیٹی کے ذریعے وقتاً فوقتاً نصاب کا جائزہ لے کر اصلاح و اضافہ کرتی ہے اور ابتدائی درجات میں عصری مضامین بھی شامل کیے گئے ہیں۔ 2021ء کے بعد متعدد نئے دینی بورڈ — جیسے نظام المدارس پاکستان، مجمع المدارس تعلیم الکتاب والحکمہ، وفاق المدارس الاسلامیہ الرضویہ، اتحاد المدارس العربیہ، وحدت المدارس الاسلامیہ، مجمع العلوم الاسلامیہ، کنز المدارس وغیرہ — قائم ہوئے، جن کے تحت ہزاروں مدارس درسِ نظامی کے مختلف درجات کی تدریس اور امتحانات کا نظام چلاتے ہیں۔

بنگلہ دیش میں درسِ نظامی اور امتحانی ڈھانچہ

[ترمیم]

بنگلہ دیش میں برصغیر کا روایتی نصابِ درسِ نظامی بالخصوص دیوبندی مکتبِ فکر کے ’’قومی‘‘ (یا خارجی) مدارس میں رائج ہے، جن کی تعداد بعض اندازوں کے مطابق آٹھ ہزار کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے اور ان میں سے ایک اہم حصہ دورۂ حدیث تک مکمل نصاب پڑھاتا ہے۔ ان مدارس نے بالعموم مالی و انتظامی خود مختاری کو برقرار رکھنے کے لیے حکومتی امداد سے گریز کیا، البتہ ’’عالیہ‘‘ کہلانے والے سرکاری و نیم سرکاری مدارس میں درسِ نظامی کے بنیادی مضامین کو جدید نصاب، امتحانی ڈھانچے اور سرکاری اسناد (داخلی، عالم، فاضل، کامل وغیرہ) کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کے فضلاء یونیورسٹیوں اور سرکاری اداروں میں بھی بڑی تعداد میں جاتے ہیں۔ قومی مدارس میں ابتدائی درجات میں عمومی عصری مضامین (انگریزی، ریاضی، سائنسی و سماجی مضامین وغیرہ) اور بہت سے اداروں میں تقابلِ ادیان و فنی/ٹیکنیکل تعلیم کو بھی نصابِ درسِ نظامی کے ساتھ شامل کیا جا چکا ہے، جبکہ وفاق المدارس العربیہ بنگلہ دیش اور اتحاد المدارس العربیہ جیسے وفاقات درجاتِ درسِ نظامی کے امتحانات اور اسناد کی تنظیم کرتے ہیں۔[14][15][16]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. محمد رضا انصاری فرنگی محلی (دسمبر 1973)۔ بانی درس نظامی استاذ الہند ملا نظام الدین محمد فرنگی محلہ۔ لکھنؤ: نامی پریس۔ ص 259–260
  2. ^ ا ب پ ابو عمار زاہد الراشدی (28 جولائی 2017)۔ "درس نظامی کا پس منظر"۔ zahidrashdi.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-12-08
  3. ^ ا ب محمد رضا انصاری فرنگی محلی 1973، صفحہ 259–263
  4. ^ ا ب پ ت محمد اللہ خلیلی قاسمی 2020، صفحہ 242–244
  5. شبلی نعمانی (1955)۔ سید سلیمان ندوی (مدیر)۔ مقالات شبلی (مختلف رسالوں اور اخباروں سے یکجا کردہ علامہ شبلی نعمانی کے تمام تعلیمی مضامین کا مجموعہ)۔ اعظم گڑھ: مطبع معارف۔ ج 3۔ ص 105
  6. اختر راہی (1978)۔ تذکرۂ مصنفین درس نظامی (دوسرا ایڈیشن)۔ اردو بازار، لاہور: مکتبہ رحمانیہ۔ ص 18–23
  7. رشید احمد جالندھری (2018)۔ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کا قدیم نصاب تعلیم۔ لاہور: قاضی جاوید، ناظم ادارۂ ثقافتِ اسلامیہ۔ ص 33–34
  8. اختر راہی 1978، صفحہ 18–23
  9. محمد اللہ خلیلی قاسمی (اکتوبر 2020)۔ "نصاب تعلیم فاضل کورس"۔ دار العلوم دیوبند کی جامع و مختصر تاریخ (تیسرا ایڈیشن)۔ دیوبند: شیخ الہند اکیڈمی۔ ص 258–262
  10. "نصاب تعلیم دار العلوم دیوبند: از اول عربی تا دورۂ حدیث شریف"۔ قواعد داخلہ (PDF)۔ دیوبند: دفتر تعلیمات دار العلوم دیوبند۔ 2025–26۔ ص 22–23{{حوالہ کتاب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: تاریخ کا اسلوب (link)
  11. محمد رضا انصاری فرنگی محلی 1973، صفحہ 259–263، 278
  12. رشید احمد جالندھری 2018، صفحہ 33–34
  13. شوکت علی قاسمی بستوی (جون 2007)۔ حبیب الرحمن قاسمی اعظمی (مدیر)۔ "دارالعلوم دیوبند کا نصاب تعلیم اور نظام تعلیم و تربیت"۔ ماہنامہ دار العلوم۔ دیوبند: دار العلوم دیوبند۔ ج 91 شمارہ 6: 24–28
  14. ابوعمار زاہد الراشدی (23 جنوری 2004ء)۔ "بنگلہ دیش کے دینی مدارس"۔ zahidrashdi.org۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-12-09
  15. تحمید جان (14 دسمبر 2024)۔ "مذہبی تعلیم کابنگلہ دیشی ماڈل"۔ tahqiqaat۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-12-09
  16. ممتاز احمد (ستمبر 2000ء)۔ عبد الرحمن مدنی (مدیر)۔ "بنگلہ دیش میں دینی تعلیم...... نئے رجحانات"۔ ماہنامہ محدث۔ لاہور۔ ج 32 شمارہ 9: 75–78

مزید پڑھیے

[ترمیم]