تفسیر جلالین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
تفسیر جلالین
 
Tafseer Jalalain-Suyuti.jpg
مصنف جلال الدین سیوطی
زبان عربی زبان
موضوعات تفسیر قرآن
ناشر مکتبۃ لبنان ناشرون، بیروت، لبنان
تاریخ اشاعت 1424ھ/ 2003ء
صفحات 664

تفسیر جلالین عربی زبان میں نہایت مختصرتفسیر قرآن ہے جسے دو مشہور مفسرین امام جلال الدین محلی (791ھ864ھ) اور جلال الدین سیوطی (849ھ911ھ) نے تصنیف کیا ہے۔ تقریباً پانچ صدیوں سے تفسیر جلالین متداول و مقبول ہے۔ امام جلال الدین سیوطی کی شاہکار تصانیف میں تفسیر جلالین کو نمایاں اور خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ تفسیر اِختصار و جامعیت ، صحت و مفہوم اور توضیح مطالب کی وجہ سے علماء و طلباء کی مرکزِ توجہ رہی ہے۔ علماء اور اہل علم کو استحضارِ مضامین کی خاطر اِس سے خاص اعتناء ہے اور کثرت سے اِس کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔دیگر تفاسیر کی نسبت یہ قرآن کریم کی مختصر تفسیر اور مختصر ترجمہ ہے۔

تفسیر جلالین کے اولین مطبوعہ نسخہ کا صفحہ اول– 1278ھ/ 1862ء، قاہرہ، مصر

وجہ تالیف[ترمیم]

مصنف جلال الدین سیوطی کے تفسیر کے مقدمہ میں اِس کی وجہ تصنیف و تالیف یوں بیان کردی ہے کہ:

ھذا ما اشتدت الیہ حاجۃ الراغبین فی تکملۃ تفسیر القرآن الکریم الذی الفہ الامام العلامۃ المحقق جلال الدین محمد بن احمد المحلی الشافعی رحمۃ اللہ و تتمیم ما فاتہ وھو من اول سورۃ البقرۃ الی آخر سورۃ الاسراء بتتمۃ علی نمطہ من ذکر ما یفھم بہ کلام اللہ تعالی والاعتماد علی ارجح الاقوال و اعراب ما یحتاج الیہ و تنبیہ علی القراءات المختلفۃ المشہورۃ علی وجہ لطیف و تعبیر وجیز و ترک التطویل بذکر اقوال غیر مرضیۃ و اعاریب محلھا کتب العربیۃ واسال اللہ النفع بہ فی الدنیا و احسن الجزاءِ علیہ فی العُقبیٰ بِمَنّہ و کَرَمِہ۔[1]

بعد از حمد و صلٰوۃ و سلام کے، یہ ایک کتاب ہے کہ امام علامہ، محقق مدقق جلال الدین محمد بن احمد محلی الشافعی کی کتاب تفسیر القرآن کا تکملہ ہے جو تفسیر اُن سے باقی رہ گئی تھی، اُس کی تتمیم ہے جس کی شدید ضرورت ہے۔ جو اول سورہ بقرہ سے شروع ہوکر آخر سورہ الاسراء تک ہے اور علامہ محلی کے طرز پر مندرجہ ذیل خصوصیات کی حامل ہے:

  • اِس میں ایسی چیزوں کا ذِکر ہے جن سے کلامِ الہی سمجھنے میں مدد ملے۔
  • تمام اقوال میں سب سے زیادہ راجح قول پر اعتماد کیا گیا ہے۔
  • ضروری اعراب اور مختلف و مشہور قراءات پر لطیف طریقہ اور مختصر عبارت کے ساتھ تنبیہ کی گئی ہے۔
  • ناپسندیدہ اقوال اور (غیر ضروری) اعراب کو ذِکر کرکے جن کا اصل محل علوم عربیہ کی کتابیں ہیں، تطویل نہیں کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میری درخواست یہ ہے کہ دنیاء میں اِس کتاب سے نفع پہنچائے اور آخرت میں بہترین بدلہ مرحمت فرمائے۔[2]

تاریخ تصنیف[ترمیم]

دوسری تفاسیر کی نسبت تفسیر جلالین کا نصفِ ثانی پہلے لکھا گیا ہے جبکہ نصفِ اول بعد میں ترتیب دیا گیا ہے۔ امام جلال الدین محلی (متوفی 864ھ/ 1459ء) نے پہلے سورہ الکہف سے سورہ الناس تک تفسیر لکھی تھی۔ غالباً امام موصوف نے یہ حصہ اِس لیے پہلے مرتب کیا یہ حصہ نصفِ اول کی بہ نسبت زیادہ آسان ہے، اِس کے بعد نصفِ اول کی تفسیر لکھنے کا آغاز کیا تھا اور محض سورہ الفاتحہ کی تفسیر ہی لکھی تھی کہ 15 رمضان 864ھ/ 5 جولائی 1460ء کو انتقال کرگئے اور یہ تفسیر نامکمل رہ گئی۔

امام جلال الدین محلی کی وفات کے بعد اِس نامکمل تفسیر کو امام جلال الدین سیوطی نے مکمل کرنے کا ارادہ کیا اور صرف 40 دن کی قلیل مدت میں اِس مختصر تفسیر کو مکمل کرلیا۔ خود مصنف نے اِس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ: الفقۃ فی مدۃ میعاد الکلیم میں نے اِس کو مدتِ میعادِ کلیم (یعنی 40 روز) میں مرتب کیا ہے۔ تفسیر سے فراغت کی جو تاریخ ہے، وہ خود مصنف نے تحریر کی ہے کہ: فرغ من تالیفہ یوم الاحد عاشر شوال سنۃ سبعین و ثمانمائۃ و (کان) الابتداء فیہ یوم الاربعاء مستھل رمضان من السنۃ المذکورہ و فرغ من تبیضیۃ یوم الاربعاء سادس صفر سنۃ احدی و سبعین و ثمانمائۃ۔[3]

میں اِس کی تالیف سے بروز اتوار 10 شوال 870ھ کو فارغ ہوا اور اِس کا آغاز بروز بدھ یکم رمضان سالِ مذکورہ کو ہوا اور اِس مسودہ کو بدھ 6 صفر 871ھ کو صاف کیا۔

امام جلال الدین سیوطی کے اِس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ اِس تفسیر کا آغاز بروز بدھ یکم رمضان 870ھ/ 16 اپریل 1466ء کو ہوا اور 40 روز کی مدت کے بعد بروز اتوار 10 شوال 870ھ/ 25 مئی 1466ء کو یہ تفسیر مکمل ہوگئی۔ اُس وقت امام جلال الدین سیوطی کی عمر محض 21 سال 3 ماہ بحسابِ قمری تھی اور یہ تکملہ تفسیر امام جلال الدین محلی کی وفات کے تقریباً 6 سال بعد مکمل ہوا۔ ۔ تکمیل کے بعد اِس تفسیر پر نظر ثانی کرتے رہے اور اِس نظر ثانی سے بروز بدھ 6 صفر 871ھ/ 17 ستمبر 1466ء کو فراغت پائی۔

مواد[ترمیم]

عموماً تفسیر جلالین کو تفسیر قرآن سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ تفسیر کم اور مختصر عربی ترجمہ زیادہ ہے۔ جابجاء تفسیری کلمات آیاتِ قرآنی کے کلمات کے برابر ہیں، کہیں کہیں چند الفاظ یا جملے زائد ہیں۔ سورہ المزمل تک آیات قرآنی کے ساتھ تفسیری کلمات کی یہ تطبیق قائم ہے جبکہ سورہ المدثر سے تفسیری کلمات آیاتِ قرآنی کے کلمات سے بڑھتے چلے گئے ہیں جس سے یہ تفسیری تطبیق سورہ الناس تک مختلف نوعیت کی ہے۔ حاجی خلیفہ کاتب چلبی (متوفی 26 ستمبر 1657ء) نے کشف الظنون میں لکھا ہے کہ:

قال بعض علماء الیمن عددت حروف القرآن و تفسیرہ للجلالین فوجدتھما متساویین الی سورۃ المزمل، ومن سورۃ المدثر، التفسیر زائد علی القرآن فعلی ھذا لا یجوز حملہ بغیر الوضوء۔[4]

بعض علماء یمن کا بیان ہے کہ میں نے قرآن اور تفسیر جلالین کے حروف کو شمار تو دونوں کے حرود کو سورہ مزمل تک برابر پایا اور سورہ مدثر سے تفسیر کے حروف قرآن کے حروف سے بڑھ گئے، اِس وجہ سے اِس کا بغیر وضو کے چھونا ناجائز ہے۔[5]

جامعیت و شہرت[ترمیم]

حاجی خلیفہ کاتب چلبی (متوفی 26 ستمبر 1657ء) نے اِس تفسیر کی جامعیت سے متعلق لکھا ہے کہ: وھو مع کونہ صغیر الحجم، کبیر المعنی لانہ لب لباب التفاسیر۔(تفسیر جلالین حجم کے اعتبار سے چھوٹی ہے لیکن معانی و مطالب کے اعتبار سے بہت اہم ہے کیونکہ یہ تفاسیر کا لب لباب ہے)۔[5]

مشہور محقق عالم نواب صدیق حسن خان (متوفی 26 مئی 1890ء) نے تفسیر جلالین کے متعلق لکھا ہے کہ: شہرت و قبول اِین تفسیر مبارک مستغنی است از بیان فضائل و شرح فواضل دے، نزد علماء ہند در کتب درسیہ است، و مصداق این مثل سائر است کہ ہر کہ بقامت کہتر بقیمت بہتر۔[6]

اِس مبارک تفسیر کی شہرت و قبولیت اِس کے فضائل بیان کرنے اور اِس کی خوبیان بتانے سے مستغنی ہے،  یہ ہند کے علماء کے یہاں نصابی کتب میں داخل ہے اور مشہور مثل کا مصداق ہے کہ جو قامت (ضخامت) میں چھوٹی ہوتی ہے، وہ قیمت میں بہتر ہوتی ہے۔

حواشی و شروحات[ترمیم]

تفسیر جلالین کے متعدد حواشی اور شروح لکھی گئی ہیں جن میں مشہور یہ ہیں:

  • قبس النیرین علی تفسیر الجلالین:  شیخ شمس الدین محمد بن ابراہیم علقمی مصری الشافعی (متوفی 963ھ/1556ء
  • مجمع البحرین و مطلع البدرین:  بدر الدین محمد بن محمد الکرخی البکری (متوفی 1006ھ/ 1598ء
  • جمالین حاشیۃ تفسیر الجلالین: نور الدین علی بن سلطان محمد القاری المعروف بہ ملا علی قاری (متوفی 1014ھ/ 1605ء)
  • الکوکبین النیرین فی حل الالفاظ الجلالین: الشیخ عطیہ بن عطیہ اجہوری الشافعی (متوفی 1190ھ/ 1776ء
  • الفتوحات الالھیۃ بتوضیح تفسیر الجلالین الدقائق الخفیہ:  شیخ سلیمان بن عمر عجیلی الشافعی  (متوفی 1204ھ/ 1790ء)
  • حاشیۃ الصاوی علی تفسیر الجلالین: شیخ احمد الصاوی المالکی (1175ھ/1761ء1241ھ/1825ء)
  • قرۃ العین و تنزیہہ الفواد: شیخ عبداللہ بن محمد البزاوی الشافعی
  • ضوء النیرین لفھم القرآن: شیخ علی شبینی الشافعی الاشعری
  • فتوح الرحمن بتوضیح القرآن: شیخ مصطفیٰ بن شعبان
  • کشف المحجوبین عن خدی تفسیر الجلالین: شیخ سعد اللہ قندھاری
  • کمالین علیٰ تفسیر الجلالین: شیخ سلام اللہ بن شیخ الاسلام محمد دہلوی (متوفی 1229ھ/ 1814ء
  • نامعلوم الاسم حاشیہ: مولانا فیض الحسن سہارنپوری (متوفی 1302ھ/1885ء
  • زلالین حاشیۃ تفسیر الجلالین: محمد ریاست علی حنفی
  • ترویح الارواح شرح تفسیر الجلالین: روح اللہ حنفی نقشبندی (متوفی 1314ھ/1896ء)
  • تحشیۃ الہلالین تفسیر الجزء عم یتساء لون: مولانا تراب علی لکھنوی (متوفی 1281ھ/1864ء

اشاعت[ترمیم]

تفسیر جلالین کلکتہ سے پہلی بار 1257ھ/ 1841ء میں، بمبئی اور لکھنؤ سے 1286ھ/1869ء میں، دہلی سے 1301ھ/ 1884ء میں، بولاق، مصر سے 1280ھ/1864ء میں، قاہرہ، مصر سے 1300ھ/1883ء، 1301ھ/1884ء (مطبعہ البہیۃ)، 1305ھ/1888ء، 1308ھ/1891ء، 1313ھ/1896ء (مطبعہ المیمنیۃ)، 1328ھ/1910ء میں شائع ہوئی۔[7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جلال الدین سیوطی: تفسیر الجلالین، مقدمہ۔
  2. مولانا محمد نعیم دیوبندی: کمالین ترجمہ و شرح تفسیر جلالین، جلد 1، صفحہ 28/29، مطبوعہ کراچی 1429ھ/ 2008ء۔
  3. عبدالعزیز بن ابراہیم ابن قاسم:  الدلیل الی المتون العلمیۃ،  صفحہ 99، مطبوعہ دار الصمیعی، ریاض، سعودی عرب۔
  4. حاجی خلیفہ کاتب چلبی: کشف الظنون فی اسامی الکتب الفنون، جلد 1، صفحہ 445، تذکرہ تحت حرف التاء، تفسیر الجلالین۔ مکتبہ داراحیاء التراث العربی، بیروت، لبنان۔
  5. ^ 5.0 5.1 حاجی_خلیفہ کاتب چلبی: کشف الظنون فی اسامی الکتب الفنون، جلد 1، صفحہ 445، تذکرہ تحت حرف التاء، تفسیر الجلالین۔ مکتبہ داراحیاء التراث العربی، بیروت، لبنان۔ مطبوعہ استنبول، 1360ھ/ 1942ء
  6. نواب صدیق حسن خان: الاکسیر فی اصول التفسیر، صفحہ 58، مطبع نظامی، کانپور، ہند۔ 1290ھ/ 1874ء
  7. دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 11، صفحہ 538۔ مقالہ: جلال الدین سیوطی۔ مطبوعہ لاہور 1375ھ/ 1975ء