شروح و حواشی تفسیر جلالین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تفسیر جلالین [مصنفین: امام جلال الدین محلی (791ھ864ھ)، امام جلال الدین سیوطی (849ھ911ھ)] کی نمایاں اور جامع مختصر ترین خصوصیات کی بنا پر اِس کے متعدد حواشی اور شروحات لکھی گئی ہیں۔

حواشی[ترمیم]

قبس النیرین علی تفسیر الجلالین:[ترمیم]

یہ حاشیہ امام جلال الدین سیوطی کے شاگرد محدث و فقیہ شیخ شمس الدین محمد بن ابراہیم علقمی مصری الشافعی (متوفی 963ھ/1556ء) نے [[982ھ]ی]/1545ء میں تحریر کیا ہے جو ہنوز قاہرہ کے جامعہ الازہر کتب خانہ میں محفوظ ہے۔

مجمع البحرین و مطلع البدرین:[ترمیم]

یہ حاشیہ فقیہ بدر الدین محمد بن محمد الکرخی البکری (متوفی 1006ھ/ 1598ء) نے 981ھ/1573ء میں تحریر کیا۔ یہ حاشیہ 4 ضخیم جلدوں میں ہے اور اِس کا قلمی مخطوطہ جامعہ الازہر، قاہرہ کے کتب خانہ میں محفوظ ہے۔[1]

جمالین حاشیۃ تفسیر الجلالین:[ترمیم]

یہ حاشیہ نور الدین علی بن سلطان محمد القاری المعروف بہ ملا علی قاری (متوفی 1014ھ/ 1605ء) نے 1004ھ/1595ء میں تحریر کیا تھا۔ حاجی خلیفہ اِس حاشیے کے متعلق لکھتے ہیں کہ "یہ مفید حاشیہ ہے۔"[2] اِس حاشیہ کا قلمی مخطوطہ کتب خانہ تیموریہ، دمشق، شام میں محفوظ ہے۔[3]

الکوکبین النیرین فی حل الالفاظ الجلالین: [ترمیم]

الشیخ عطیہ بن عطیہ اجہوری الشافعی (متوفی 1190ھ/ 1776ء) نے اِس کا حاشیہ تین جلدوں میں تحریر کیا ہے جس کا قلمی مخطوطہ جامعہ الازہر کے کتب خانہ میں محفوظ ہے۔[4]

الفتوحات الالھیۃ بتوضیح تفسیر الجلالین الدقائق الخفیہ:  [ترمیم]

تفسیر جلالین کا مشہور و معروف اور نہایت مقبول و مبسوط حاشیہ شیخ سلیمان بن عمر عجیلی الشافعی  (متوفی 1204ھ/ 1790ء) نے تحریر کیا ہے جو بولاق، مصر سے 1282ھ/1866ء میں اور 1302ھ/1885ء سے 1308ھ/ 1891ء تک قاہرہ، مصر سے شائع ہوا۔[5]

حاشیۃ الصاوی علی تفسیر الجلالین:[ترمیم]

شیخ احمد الصاوی المالکی (1175ھ/1761ء1241ھ/1825ء) نے یہ حاشیہ 1225ھ/ 1810ء میں تحریر کیا اور پہلی بار 1241ھ/ 1825ء میں بولاق، مصر سے تین جلدوں میں شائع ہوا۔

قرۃ العین و تنزیہہ الفواد: [ترمیم]

شیخ عبد اللہ بن محمد البزاوی الشافعی نے یہ حاشیہ 1262ھ/ 1846ء میں تحریر کیا۔ یہ حاشیہ چار جلدوں میں ہے۔[1]

ضوء النیرین لفھم القرآن: [ترمیم]

یہ شرح شیخ علی شبینی الشافعی الاشعری نے تحریر کی ہے جس کا قلمی مخطوطہ کتب خانہ جامعہ الازہر میں محفوظ ہے۔[6]

فتوح الرحمن بتوضیح القرآن: [ترمیم]

یہ حاشیہ شیخ مصطفیٰ بن شعبان نے تحریر کیا ہے جو دو جلدوں میں ہے۔ اِس کا قلمی مخطوطہ کتب خانہ جامعہ الازہر، قاہرہ میں محفوظ ہے۔[6]

برصغیر میں شروح و حواشی[ترمیم]

برصغیر کے علما و محدثین و مفسرین نے بھی تفسیر جلالین کے حواشی و شروحات تحریر کیے ہیں جن میں مشہور و معروف یہ ہیں:

کشف المحجوبین عن خدی تفسیر الجلالین: [ترمیم]

یہ شرح شیخ سعد اللہ قندھاری نے 1306ھ/ 1889ء میں تحریر کی اور 1307ھ/ 1890ء میں بمبئی، موجودہ ممبئی سے شائع ہوئی۔

کمالین علیٰ تفسیر الجلالین:[ترمیم]

یہ حاشیہ شیخ سلام اللہ بن شیخ الاسلام محمد دہلوی (متوفی 1229ھ/ 1814ء) نے تحریر کیا۔ پہلی بار یہ حاشیہ 1285ھ/ 1868ء میں شائع ہوا۔ بعد ازاں مطبع نولکشور نے 1342ھ/ 1923ء میں شائع کیا۔

*تعلیقات علی الجلالین*[ترمیم]

مولانا فیض الحسن سہارنپوری (متوفی 1302ھ/1885ء) میں ایک حاشیہ تفسیر جلالین کا مرتب کیا تھا مگر اِس کا نام معلوم نہیں ہو سکا۔ یہ حاشیہ 1287ھ/1870ء میں مہتمم مطبع انسٹی ٹیوٹ پریس محمد عبد الرزاق علی گڑھ نے شائع کیا تھا۔

زلالین حاشیۃ تفسیر الجلالین: [ترمیم]

یہ حاشیہ محمد ریاست علی حنفی شاہجہانپوری نے تحریر کیا جوکہ شاگر ہیں مولانا ارشاد حسین رام پوری کے

1342ھ/1923ء میں مع کمالین حاشیہ شیخ سلام اللہ کے مطبع نولکشور شائع ہوا. آجکل یہ حاشیہ عموماً چھپ رہا ہے لیکن مصنف کا نام ہٹا دیا گیا جو ایک بہت بڑی غلطی ہے.


ترویح الارواح شرح تفسیر الجلالین: [ترمیم]

یہ شرح روح اللہ حنفی نقشبندی (متوفی 1314ھ/1896ء) نے تحریر کی۔ اولاً یہ شرح لاہور سے 1318ھ/ 1900ء میں شائع ہوئی۔

تحشیۃ الہلالین تفسیر الجزء عم یتساء لون: [ترمیم]

مولانا تراب علی لکھنوی (متوفی 1281ھ/1864ء) نے تفسیر جلالین کے آخری پارہ یعنی تیسویں پارہ کا حاشیہ لکھا حو شائع ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب فہرس مکتبۃ الازھریۃ، جلد 1، صفحہ 281،  قاہرہ، مصر، 1371ھ/ 1952ء۔
  2. حاجی خلیفہ کاتب چلبی: کشف الظنون فی اسامی الکتب الفنون، جلد 1، صفحہ 445، تذکرہ تحت حرف التاء، تفسیر الجلالین۔ مکتبہ داراحیاء التراث العربی، بیروت، لبنان۔ مطبوعہ استنبول، 1360ھ/ 1942ء
  3. فہرس الخزانہ التیموریہ: جلد 1، صفحہ 191، مطبوعہ دارالکتب المصریہ، 1367ھ/ 1948ء۔
  4. فہرس المکتبۃ الازھریہ، مطبوعہ دوم، قاہرہ، مصر، 1371ھ/ 1952ء۔
  5. دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 11، صفحہ 538۔ مقالہ: جلال الدین سیوطی۔ مطبوعہ لاہور 1375ھ/ 1975ء
  6. ^ ا ب فہرس مکتبۃ الازھریۃ، جلد 1، صفحہ 276،  قاہرہ، مصر، 1371ھ/ 1952ء۔