سید فخر الدین احمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
محدث
سید فخر الدین احمد
پیدائش 1307 ھ ، 1889 ء
وفات 1392 ھ ، 1972 ء .
دور اکیسویں صدی
مذہب اسلام
فرقہ سنی
فقہ حنفی
تحریک دیوبندی
شعبۂ عمل حدیث
کارہائے نماياں القول الفصیح، ایضاح البخاری
مادر علمی دار العلوم دیوبند

سید فخر الدین احمد دار العلوم دیوبند بلند پایہ عالم ، محدث محقق اور جمعیت علما ہند کے صدر تھے ـ

خاندان و ولادت[ترمیم]

آباء و اجداد سید قطب اور سید عالم اپنے دوسرے دو بھائیوں کے ساتھ عہد شاہجہاں میں ہرات سے دہلی آئے، یہ اپنے زمانہ کے ممتاز علما میں سے تھے۔ شاہجہاں نے ان کے درس وتدریس کے لیے ہاپوڑ میں ایک مدرسہ تعمیر کرادیا۔ سید عالم کا سلسلہ نسب کئی واسطوں سے حضرت حسین پر منتہی ہوتا ہے۔ ان کا وطن مالوف ہاپوڑ ضلع میرٹھ تھا۔ ولادت اجمیر میں 1307 ہجری مطابق 1889 عیسوی ہوئی جہاں دادا عبد الکریم محکمہ پولیس میں تھانیدار تھے۔[حوالہ درکار]

تعلیم و تکمیل[ترمیم]

چار سال کی عمر میں تعلیم کا آغاز ہوا ، قرآن شریف والدہ سے پڑھا ، فارسی کی تعلیم اپنے خاندان کے بزرگوں سے حاصل کی ، عمر کے بارہویں سال اپنے خاندانی عالم مولانا خالد سے عربی صرف و نحو شروع کی ، اسی دوران والد ماجد کو اپنے آبائی وطن کے مدرسہ کے احیاء کا خیال پیدا ہوا ، جو 1857 کے ہنگامہ انقلاب کی نذر ہو گیا تھا ، چند سال اس میں تعلیم پانے کے بعد گلاوٹھی کے مدرسہ منبع العلوم میں بھیج دیا گیا ، وہاں ماجد علی جونپوری سے مختلف کتابیں پڑھیں ، بعد ازاں استاذ جونپوری کے ساتھ دہلی آیے ، دہلی کے مدارس میں معقولات کی کتابیں پڑھیں ، 1326 ہجری مطابق 1908 میں دار العلوم دیوبند آیے ، شیخ الہند نے امتحان داخلہ لیا ، امتحان میں امتیازی نمبروں سے کامیاب ہویے ، شیخ الہند کی ہدایت کے مطابق ایک سال کی بجائے دو سال میں دورہ حدیث کی تکمیل کی ، دار العلوم دیوبند کے زمانہ طالب علمی میں ہی طلبہ کو معقولات کی کتابیں پڑھانے لگے تھے ۔[1]

تدریسی خدمات[ترمیم]

1328 مطابق 1910 میں فراغت کے فورا بعد دار العلوم میں معین مدرس بنایے گئے ـ[2]

مدرسہ شاہی میں شیخ الحدیث[ترمیم]

شوال 1329 ہجری مطابق 1911 میں اکابر دار العلوم نے جامعہ قاسمیہ شاہی مرادآباد کا صدر مدرس بنا کر بھیج دیا ، جہاں 48 سال بخاری شریف کا درس دیا ،تخمینا نصف صدی کی اس طویل مدت میں ہزاروں طلبہ علوم نے اکتساب علم کیا ۔ اس طویل عرصہ مرادآباد رہنے سبب انھیں مرادآبادی بھی کہا جانے لگا ۔

درس بخاری کا رنگ[ترمیم]

سید مرادآبادی شیخ الہند اور کشمیری کے خاص تلامذہ میں سے تھے اس لیے ان دونوں استادوں کے رنگ کی کی آمیزش درس حدیث میں پائی جاتی تھی ، چنانچہ درس بخاری بہت مبسوط و مفصل ہوتا تھا ، جس میں حدیث کے تمام پہلووں پر سیر حاصل بحث ہوتی تھی ، فقہا کے مذاہب کو بیان کرنے کے بعد احنان کے فقہی مسلک کی تائید و ترجیح کی وضاحت میں اس طرز سے دلائل پیش کرتے کہ ترجیح واضح ہوجاتی ، اثنائے درس بخاری کی مختلف شروح کے علاوہ اساتذہ کے علوم و معارف کو بھی جا بجا پیش کرتے ، درس حدیث کی تقریر مفصل ہونے کے علاوہ سہل و دلنشین بھی ہوتی ، اس لیے کم استعداد والے طلبہ کو بھی استفادہ کا پورا پورا موقع مل جاتا تھا ، انداز بیان نہایت پاکیزہ و شستہ تھا ، اسی سبب ان کے درس بخاری کو ایک خاص شہرت و مقبولیت حاصل تھی ، اورطلبہ حدیث کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔

دار العلوم دیوبند سے بلاوا[ترمیم]

1377 ہجری 1957 عیسوی میں حسین احمد مدنی کے بعد مجلس شوری دارالعلوم دیوبند نے شیخ الحدیث کے منصب کے لیے سید کا انتخاب کیا ، اس سے پہلے بھی دو مرتبہ مولانا مدنی کی گرفتاری و رخصت کے زمانے میں سید احمد بخاری شریف کا درس دے چکے تھے ۔ میں جب محمد ابراہیم بلیاوی کی وفات ہوئی تو مجلس شوری نے شیخ الحدیث کا عہدہ ختم کرکے صدر المدرسین کا منصب پیش کیا ۔[3]

جمعیت[ترمیم]

اخیر عمر میں احمد سعید کے بعد جمعیت علما ہند کے بعد صدر بھی رہے اور تا دم واپسیں صدارت کے فرائض انجام دیے ، مولانا مدنی کی صدارت کے زمانے میں دو مرتبہ نائب صدر بھی رہ چکے تھے ۔

سیاست[ترمیم]

سیاست سے بھی تعلق رہا ، جس سلسلہ میں قید و بند کی صعوبت بھی جھیلی ۔

وفات[ترمیم]

آخر عمر میں جب صحت نے جواب دے دیا تو بغرض علاج و تبدیلی آب و ہوا کے مراد آباد آیے ، جہاں ان کے متعلقین قیام پزیر تھے ، مگر وقت موعود آچکا تھا ، کچھ عرصہ علیل رہ کر 20 صفر 1392 ہجری مطابق 5 اپریل 1972 کی تاریخ میں نصف شب کے بعد روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی اور علم وفضل کا یہ آفتاب جہاں تاب سرزمین مراد آباد میں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا ۔[4]

تصانیف[ترمیم]

  • القول الفصیح [5]
  • ایضاح البخاری [6]
  • آمین با الجہر صحیح بخاری کے پیش کردہ دلائل کی روشنی میں[7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.besturdubooks.net/2014/03/23/tareekh-e-darul-uloom-deoband/%7C[مردہ ربط]
  2. http://www.besturdubooks.net/2013/09/29/mashahir-ulama-e-darul-uloom-deoband/%7C[مردہ ربط]
  3. مشاہیر علما دیوبند صفحہ 74
  4. تاریخ دار العلوم دیوبند جلد 2 صفحہ 106
  5. "القول الفصیح"۔ Basooir.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 جولا‎ئی 2019۔
  6. "مولانا ریاست علی کا انتقال دارالعلوم دیوبند کی تاریخ کے ایک باب کا خاتمہ"۔ BaseeratOnline.com۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 جولا‎ئی 2019۔
  7. آمین با الجہر صحیح بخاری کے پیش کردہ دلائل کی روشنی میںMain (پی‌ڈی‌ایف)۔ اخذ شدہ بتاریخ 21 جولا‎ئی 2019۔