بدر الدین اجمل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بدر الدین اجمل
تفصیل=

رکن پارلیمان
for Dhubri
Fleche-defaut-droite-gris-32.png انور حسین (سیاست دان)
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
شیخ الہند اکیڈمی کے ڈائریکٹر
معلومات شخصیت
پیدائش 12 فروری 1950 (69 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ناگاؤں  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
عملی زندگی
مادر علمی دار العلوم دیوبند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

بدر الدین اجمل (انگریزی: Badruddin Ajmal)[3] کی ولادت 12 فروری 1950ء کو ہوئی۔ وہ بھارت کے سیاست دان ہیں اور دھوبری سے رکن پارلیمان بھی ہیں۔[4] انہوں نے آسام یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ نے نام سے ایک سیاست جماعت کی بنیاد رکھی۔ پھر اس کا نام بدل کر آل انڈیا ئونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کر دیا۔[5] انہوں نے بھارت اور خصوصا آسام کی سیاست میں اپنی ایک پہچان بنائی۔ وہ صوبہ آسام کے جمعیت علمائے ہند کے صدر بھی ہیں۔[6]

سماجی فعالیت[ترمیم]

مولانا بدر الدین اجمل دار العلوم دیوبند کے فارغ ہیں۔ وہ ایک عالم دین، تاجر، صنعت کار اور سماجی کارکن ہیں۔[7] انہوں نے حاجی عبد المجید میموریل ٹرسٹ کی بنیاد رکھی جس کے تحت ہوجائی، آسام میں ایک ہسپتال اور ریسرچ سینٹر چل رہا ہے۔[8]

سیاسی سرگرمی[ترمیم]

2006ء میں انہوں نے اسام اسمبلی انتخابات میں دو جگہوں سے قسمت آزمائی اور دونون جگہ انہیں کامیابی ملی۔ اور جیت کا فرق بھی کافی نمایاں تھا۔ انہیں اے یو ڈی ایف کا صدر منتخب کیا گیا اور پارٹی نے اپنے پہلے ہی الیکشن میں 10 نشستیں جیت لیں۔[9] آسام اسمبلی انتخابات، 2011ء میں پارٹی نے 18 نشستوں پر کامیابی حاصل کی اور آسام کی سب سے بڑی حزب مخالب پارٹی بن گئی۔[10] آسام فسادات، 2012ء کے بعد کئی لوگوں نے ان پر اشتعال انگیز بیان کا الزام لگایا۔[11] ابھی مولانا اجمل رکن پارلیمان ہیں۔ دھوبری سے وہ لگاتار تیسری مرتبہ (2009ء، 2014ء اور 2019ء) جیت چکے ہیں۔

تعلیمی سرگرمی[ترمیم]

مولانا اجمل آسام ساہتیہ سبھا کی ہوجائی سیشن کمیٹی کے صدر نشین تھے۔ وہ جیا نگر مدرسہ کے دارالحدیث کے بھی صدر تھے۔[7]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب https://eci.gov.in/files/category/97-general-election-2014/
  2. https://archive.india.gov.in/govt/loksabhampbiodata.php?mpcode=4436
  3. "AIUDF President"۔ مورخہ 17 مئی 2011 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 مئی 2011۔
  4. "Himanta Biswa Sarma: In this Assam election, Bangladeshi immigrants want their own CM too"۔
  5. http://www.aiudf.org AIUDF Official Website
  6. TNN۔ "Ajmal re-elected Assam Jamiat chief"۔ The Times of India۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 ستمبر 2015۔
  7. ^ ا ب Bioprofile of 15th Lok Sabha members, India
  8. Ajmal Foundation
  9. AUDF may join UPA, The Hindu
  10. "Archived copy"۔ مورخہ 18 مئی 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-05-19۔
  11. "Assam Muslims blame perfume baron for unrest"۔ ہندوستان ٹائمز۔ مورخہ 19 اگست 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔