سعید احمد پالن پوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(سعید احمد پالنپوری سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
شیخ الحدیث، مفتی

سعید احمد پالن پوری
دار العلوم دیوبند کے دسویں صدر المدرسین
عہدہ سنبھالا
2008 سے 19 مئی 2020
پیشرونصیر احمد خان
جانشینارشد مدنی
ذاتی
پیدائش1942
وفات19 مئی 2020(2020-50-19) (عمر  77–78 سال)
مذہباسلام
فرقہسنی
مادر علمیمظاہر علوم سہارنپور، دار العلوم دیوبند
مرتبہ
اعزازاتصدارتی سرٹیفکیٹ آف آنر[1]

سعید احمد پالن پوری (1942 – 19 مئی 2020) ایک بھارتی سنی دیوبندی عالمِ دین اور مصنف تھے، جنھوں نے دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث اور صدر المدرسین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کی لکھی کئی کتابیں دار العلوم دیوبند سمیت کئی مدارس میں داخل نصاب ہیں۔[2][3][4]

تدریس[ترمیم]

تکمیل افتاء کے بعد 1384ھ میں دار العلوم اشرفیہ راندیر (سورت) میں علیا کے مدرس مقرر ہوئے، یہاں تقریباً دس سال تدریسی خدمات انجام دیں۔ پھر دار العلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے معزز رکن محمد منظور نعمانی کی تجویز پر 1393ھ میں دار العلوم دیوبند کے مسند درس و تدریس کے لیے ان کا انتخاب عمل میں آیا اور 2020 تک تقریبانصف صدی پر محیط تدریسی خدمات انجام دیتے رہے،دار العلوم میں مختلف فنون کی کتابیں پڑھانے کے ساتھ برسوں سے ترمذی شریف جلد اول اور طحاوی شریف کے اسباق ان سے متعلق رہیں۔ ان کے اسباق بے حد مقبول، مرتب اور معلومات سے بھر پور ہوتے تھے، طلبہ میں عموما ان کی تقریر نوٹ کر لینے کا رجحان پایا جاتا تھا، ان کی تقریر میں اتنا ٹہراؤ اور اتنی شفافیت ہوتی ہے کہ لفظ بلفظ اسے نوٹ کر لینے میں کسی طرح کی دشواری پیش نہیں آتی، دار العلوم کے شیخ الحدیث اور صدر المدرسین نصیر احمد خان کی علالت کے بعد (1429ھ مطابق 2008ء) سے بخاری شریف جلد اول کا درس بھی ان سے متعلق کر دیا گیا۔ اب بوقت انتقال دار العلوم کے شیخ الحدیث اور صدر المدرسین تھے، اوقات کی پابندی اور کاموں میں انہماک،دین میں تصلب ان کے اہم قابل تقلید اوصاف ہیں۔

ان کا مزاج شروع ہی سے فقہی رہا اور فقہ وفتاویٰ میں امامت کا درجہ رکھنے والے دار العلوم دیوبند جیسے ادارہ سے تکمیل افتاء کے بعد ان کے فقہی ذوق میں اور بھی چار چاند لگ گئے، ترمذی شریف کے درس کے دوران میں بڑی خوبی اور اعتماد کے ساتھ فقہی باریکیوں کی طرف اشارہ کرتے تھے، فقہی سمیناروں میں ان کی رائے کو بڑی اہمیت دی جاتی تھی اور ان کے مقالات کو بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ اشرف علی تھانوی کے مجموعہ فتاویٰ امداد الفتاویٰ پر حاشیہ بھی لکھا ہے، نیز ان کی فقہی مہارت اور رائے قائم کرنے میں حد درجہ حزم و احتیاط ہی کی وجہ سے دار الافتاء دار العلوم کے خصوصی بنچ میں ان کا نام نمایاں طور پر شامل ہوا۔ انہوں نے درس وتدریس کے ساتھ تصنیف و تالیف میں بھی گرانقدر خدمات انجام دیں، ان کی بہت سی کتابیں دار العلوم سیمت مختلف دینی مدارس میں شامل نصاب ہیں۔19 مئی 2020 مطابق 25 رمضان 1441 کو منگل کے روز بوقتِ صبح تنفس میں تکلیف کے بعد ممبئی میں انتقال ہوا۔

تصنیفات[ترمیم]

  • مبادیات فقہ
  • آپ فتویٰ کیسے دیں
  • حرمت مصاہرت
  • داڑھی اور انبیا کی سنت
  • تحشیہ امدادالفتاوی
  • کیا مقتدی پر فاتحہ واجب ہے؟
  • تسہیل ادلہ کاملہ
  • مشاہیر محدثین وفقہا کرام اور تذکرہ روایان کتب
  • تفسیر ہدایت القرآن
  • رحمۃ اللہ الواسعہ
  • آسان نحو (دو حصے )
  • آسان صرف (دو حصے)
  • آسان منطق
  • مبادی الفلسفہ (عربی)
  • معین الفلسفہ
  • العون الکبیر ( حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی کتاب ‘‘ الفوز الکبیر ‘‘کی مفصل (عربی شرح)
  • فیض المنعم ( شرح مقدمہ صحیح مسلم)
  • مفتاح التہذیب ( شرح تہذیب المنطق)
  • تحفۃ الدرر ( شرح نخبۃ الفکر)
  • حیات امام داؤد
  • حیات امام طحاوی
  • اسلام تغیر پزیر دنیا میں
  • تہذیب کی اردو شرح
  • الفوز الكبير معرب از فارسي

وفات[ترمیم]

19 مئی 2020ء کو وفات پاگئے ، ان کے جسد خاکی کو ممبئی کے جوگیشوری قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. List of awardees of Presidential Certificate of Honour (PDF)، Ministry of Human Resource Development، اخذ شدہ بتاریخ 19 مئی 2020 
  2. Butt، John (16 March 2020). A Talib's Tale: The Life and Times of a Pashtoon Englishman. ISBN 9789353058029. 
  3. India، Press Trust of (30 March 2019). "Sukanya Samriddhi Yojna "illegal" as per Sharia: Islamic jurists". Business Standard India. 
  4. آفتاب غازی قاسمی؛ عبد الحسیب قاسمی. فضلائے دیوبند کی فقہی خدمات (ایڈیشن February 2011). دیوبند: کتب خانہ نعیمیہ. صفحات 374–377.