پرتیبھا پاٹل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پرتیبھا پاٹل
(Goan Konkani (Devanagari script) میں: प्रतिभा पाटिल ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تفصیل= پرتیبھا پاٹل

صدرِ جمہوریہ Flag of India.svg بھارت
مدت منصب
26 جولائی 2007 – 25 جولائی 2012
وزیر اعظم منموہن سنگھ
نائب صدر محمد حامد انصاری
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ابو الفاخر زین العابدین عبد الکلام
پرنب مکھرجی Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 19 دسمبر 1934 (85 سال)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of India.svg بھارت  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب ہندو مت
جماعت انڈین نیشنل کانگریس  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاست دان، وکیل  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر باضابطہ ویب سائٹ (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

پرتیبھا دیوی سنگھ پاٹل بھارت کی تیرہویں صدر۔ ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام کی جانشین۔ ہندوستان کی پہلی خاتون صدر۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

پرتیبھا دیوی سنگھ پاٹل کے والد ناراین راو پاٹل ہیں۔[3] ان کی ولادت مہاراشٹر کے شہر جلگاؤں میں ہوئی اور انہوں نے اپنی تعلیم جلگاؤں اور ممبئی میں مکمل کی۔ کالج کے دنوں میں وہ ٹیبل ٹینس کی اچھی کھلاڑی تھیں۔ انہوں نے گورنمنٹ لا کالج، ممبئی سے قانون کی ڈگری لی اور جالگاوں ضلع عدالت میں قانون کی پریکٹس شروع کی۔ وہ سماجی خدمت میں بھی حصہ لیتی تھیں۔ انہوں سماج میں خواتین کے مسائل پر بہت کام کیا۔[4]

ان کی شادی دیوی سنگھ رانسینگھ شیکھاوت سے 7 جولائی 1965ء میں ہوئی۔ ان کے یہاں ایک بیٹا اور ایک بیٹی کی ولادت ہوئی۔[3][5]

سیاست[ترمیم]

پاٹل کا ریاست مہاراشٹر کی سیاست سے کافی گہرا تعلق رہا ہے۔ پرتیبھا پاٹل 1962 میں پہلی بار مہاراشٹر اسمبلی کے لیے منتخب ہوئی تھیں۔ بطور وکیل اپنے کریئر کی شروعات کرنے والی پرتیبھا پاٹل نے سماجی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ زراعت، اقتصادیات اور خواتین کے مسائل میں دلچسپی رکھنے والی پرتیبھا پاٹل 1991ء میں ایوان زیریں یعنی لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئیں۔ پرتیبھا پاٹل ایوان بالا راجیہ سبھا کی ڈپٹی چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں۔

شفاف شبیہ اور تنازعات سے دور رہنے والی پرتیبھا پاٹل مہاتما گاندھی کے نظریہ پر عمل کرتی ہیں۔ وہ ہندوستان کی پارلیمنٹ پر حملے کی سازش کے مجرم افضل گرو کی پھانسی کی مخالفت میں سامنے آئيں تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کے قانون سے پھانسی کی سزا مکمل طور پر ختم کر دینی چاہیے۔

صدر بھارت[ترمیم]

متحدہ ترقی پسند اتحاد نے انہیں 14 جون 2007ء کو صدارتی امیدوار نامزد کیا۔ ابتدائی طور پر ہیسب کی پسندیدہ امیدوار تھیں کیونکہ اتحاد کے سارے ارکان وزیر داخلہ شیوراج پاٹل یا کرن سنگھ کی حمایت میں نہیں تھے۔[6] وہ شروع سے ہی کانگریس کے بہت قریب رہی ہیں اور نہرو گاندھی خاندان کی چہیتی بھی رہی ہیں۔ مگر انہوں نے صاف کہا تھا کہ وہ ربر اسٹامپ صدر نہیں رہیں گی بلکہ فیصلہ لینے میں آزاد رہیں گی۔[7][8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Pratibha-Patil — بنام: Pratibha Patil — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  2. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000026264 — بنام: Pratibha Patil — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. ^ ا ب "Ex Governor of Rajasthan"۔ Rajasthan Legislative Assembly Secretariate۔ مورخہ 4 اگست 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 جون 2012۔
  4. "Profile: President of India"۔ NIC / President's Secretariat۔ مورخہ 8 فروری 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 26 جون 2012۔
  5. Kunal Purohit (11 اکتوبر 2014)۔ "In Amravati, it's about taking revenge for 2009 polls"۔ Hindustan Times۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 جنوری 2016۔
  6. "Prez polls: Sonia announces Pratibha Patil's name"۔ NDTV۔ 14 جون 2007۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 جولائی 2012۔
  7. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ BBC20070721 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  8. "I will not be a rubber stamp President"۔ Daily News & Analysis۔ 16 جون 2007۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 جنوری 2016۔