اشرف علی تھانوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حکیم الامت
مولانا

محمد اشرف علی
اشرف علی تھانوی
ذاتی
پیدائش19 اگست 1863(1863-08-19)[1]
وفات20 جولائی 1943(1943-70-20) (عمر  79 سال)[3]
مدفنتھانہ بھون، مظفر نگر[3]
مذہباسلام
قومیتبھارتی
نسلیتبھارتی
دورجدید عہد
فرقہسنی
فقہی مسلکحنفی
معتقداتماتریدی[2]
تحریکدیوبندی
بنیادی دلچسپیتصوف
قابل ذکر خیالاتاصلاح و تجدید، تحریک پاکستان، دو قومی نظریہ
قابل ذکر کامبیان القرآن، بہشتی زیور
طریقتچشتی
پیشہعالم
مرتبہ

اشرف علی تھانوی (19 اگست 1863ء م 05 ربیع الثانی 1280ھ- 04 جولائی 1943ء م 17 رجب 1362ھ) ایک بھارتی دیوبندی حنفی عالم، صوفی، چشتی مرشد اور بیان القرآن اور بہشتی زیور جیسی کئی کتابوں کے مصنف تھے۔

ولادت

تھانوی 5 ربیع الثانی 1280ھ بہ مطابق 9 ستمبر 1863ء کو پیدا ہوئے۔[4] ان کے والد شیخ عبد الحق ایک مقتدر رئیس صاحب نقد وجائیداد اور ایک کشادہ دست انسان تھے۔ فارسی میں اعلیٰ استعداد کے مالک اور بہت اچھے انشاء پرداز تھے۔ اس طرح یہ ایک عالی خاندان تھا جہاں دولت وحشمت اور زہد وتقوی بغل گیر ہوتے تھے۔[4] والد نے ان کی تربیت بڑے ہی پیار ومحبت سے کی۔ تربیت میں اس بات کو خاص اہمیت دی کہ برے دوستوں اور غلط مجالس سے آپ دور رہے۔ آپ کی طبیعت خود بھی ایسی واقع ہوئی تھی کہ کبھی بازاری لڑکوں کے ساتھ نہیں کھیلے بچپن سے مزاج دینی تھا۔[4] 12 سال کی عمر میں پابندی سے نماز تہجد پڑھنے لگ گئے تھے۔[4]

تعلیم وتربیت

ابتدائی تعلیم میرٹھ میں ہوئی فارسی کی ابتدائی کتابیں یہیں پڑھیں اور حافظ حسین دہلوی سے کلام پاک حفظ کیا پھر تھانہ بھون آکر مولانا فتح محمد صاحب سے عربی کی ابتدائی اور فارسی کی اکثر کتابیں پڑھیں ذوالقعدہ 1295ھ میں وہ بغرض تحصیل وتکمیل علوم دینیہ دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور پانچ سال تک یہاں مشغول تعلیم رہ کر 1301ھ میں فراغت حاصل کی اس وقت ان کی عمر تقریباً 19سال تھی زمانہ طالب علمی میں وہ میل جول سے الگ تھلگ رہتے اگر کتابوں سے کچھ فرصت ملتی تو اپنے استاد خاص محمد یعقوب نانوتوی کی خدمت میں جا بیٹھتے۔[4]

درس و تدریس

تکمیل تعلیم کے بعد والد اور اساتذہ کی اجازت سے وہ کانپور تشریف لے گئے اور مدرسہ فیض عام میں پڑھانا شروع کر دیا چودہ سال تک وہاں پر فیض کو عام کرتے رہے، 1315ھ میں کانپور چھوڑکر وہ آبائی وطن تھانہ بھون تشریف لے گئے اور وہاں امداد اللہ مہاجر مکی کی خانقاہ کو نئے سرے سے آباد کیا اور مدرسہ اشرفیہ کے نام سے ایک درسگاہ کی بنیاد رکھی جہاں آخر دم تک تدریس، تزکیۂ نفوس اور اصلاح معاشرہ جیسی خدمات سر انجام دیتے رہے۔[4]

اس مراجعت پر امداد اللہ مہاجر مکی نے ان کو ایک خط بھیجا جس میں لکھا تھا "بہتر ہوا کہ آپ تھانہ بھون تشریف لے گئے امید ہے کہ خلائق کثیر کو آپ سے فائدہ ظاہری وباطنی ہوگا اور آپ ہمارے مدرسہ و مسجد کو ازسرنو آباد کریں گے، میں ہر وقت آپ کے حال میں دعا کرتا ہوں"[4]

سلوک و معرفت

ظاہری علوم کی تکمیل کے بعد دل میں تزکیہ باطن کا داعیہ پیدا ہوا، چنانچہ شوال 1201ھ میں جب کہ وہ طالب علمی کی زندگی ختم فرماکر کانپور میں اشاعت علوم میں مصروف تھے۔ سفر حج کی تو فیق ہوئی۔ وہ اپنے والد کی معیت میں زیارت حرمین شریفین کے لیے روانہ ہوئے۔ مکہ معظمہ پہنچ کر حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حاجی صاحب؛ ان کے آنے سے بہت خوش ہوئے اور دست بدست بیعت کی نعمت سے سرفراز کیا اور فرمایا تم میرے پاس چھ مہینے رہ جاؤ لیکن والد ماجد نے مفارقت کو گوارا نہ کیا۔ اس پر حاجی صاحب نے فرمایا کہ والد کی اطاعت مقدم ہے اس وقت چلے جاؤ پھر دیکھا جائے گا۔ 1310ھ میں وہ دوبارہ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور چھ ماہ حاجی صاحب کی خدمت میں رہے۔[4]

اس دوران میں حاجی صاحب نے ان کو شرف خلافت سے نوازا اور ساتھ یہ فرمایا میاں اشرف! توکل بخدا تھانہ بھون جاکر بیٹھ جانا اگر سخت حالات پیش آئیں تو عجلت مت کرنا! ان وصیتوں اور باطنی دولت کو لے کر وہ 1311ھ میں وطن واپس لوٹ آئے اور حاجی صاحب کی وصیت کے مطابق تھانہ بھون میں رشد واصلاح باطنی کا کام شروع کر دیا۔ ہندوستان کے طول وعرض سے لوگ پروانہ وار آتے رہے اور دین اسلام کا کام کرتے رہے۔[4]

وفات

تھانوی کا انتقال؛ 16 رجب 1362ھ م 20 جولائی 1943ء کو 83 سال، 3 ماہ، 11 دن کی عمر میں ہوا۔[4] ان کی نماز جنازہ ظفر احمد عثمانی نے پڑھائی اور وہ تھانہ بھون کے قبرستان میں مدفون ہیں۔[4]

تصانیف

ان کی تصانیف اور رسائل کی تعداد 800 تک ہے۔ ان میں سے چند ایک کے نام پیش خدمت ہیں:[5][4]

  • تفسیر بیان القرآن
  • اعمال قرآنی
  • حقیقۃ الطریقۃ (سلوک وتصوف کے مسائل وروایات پر مشتمل ایک بے نظیر کتاب)
  • احیاء السنن (فقہی ترتیب پر جمع کیے گئے احادیث کا مجموعہ)
  • امداد الفتاوی
  • الانتباہات المفیدۃ (جدید تعلیم یافتہ لوگوں کے مذہبی اعتراضات کے جوابات)
  • بہشتی زیور
  • المصالح العقلیہ
  • جمال القرآن
  • نشر الطِّیب فی ذکر النبی الحبيب صلی اللّٰہ علیہ وسلم[6]

حوالہ جات

  1. 'Islamic Years Converted to AD years' on the Conversion Chart on google.com website Retrieved 11 August 2020
  2. Bruckmayr، Philipp (2020). "Salafī Challenge and Māturīdī Response: Contemporary Disputes over the Legitimacy of Māturīdī kalām". Die Welt des Islams. Brill. 60 (2–3): 293–324. doi:10.1163/15700607-06023P06Freely accessible. 
  3. ^ ا ب
  4. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ؛ سوانح و خدمات سنی آن لائن، امریکا، اخذ کردہ بتاریخ 19 جولائی 2017ء
  5. http://www.elmedeen.com/author-34-حکیم_الامت_حضرت_مولانا_اشرف_علی_تھانوی_صاحب