اشرف علی تھانوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اشرف علی تھانوی
{{#if:
اشرف علی تھانوی
اشرف علی تھانوی.jpg
معروفیت

حکیم الامتCite error: Invalid <ref> tag; invalid names, e.g. too many

پیدائش 19 اگست 1863 (1863-08-19)ء
وفات 4 جولائی 1943 (عمر 79 سال)
رہائش تھانہ بھون
قومیت بھارتی (برطانوی ہند)
نسل ہندوستانی
دور دورِ جدید
پیشہ عالم دین
مذہب اسلام
تحریک دیوبندی
شعبۂ عمل فقہ
مادر علمی دارالعلوم دیوبند
پیر/شیخ امداد اللہ مہاجر مکی

ولادت

آپ کے والد شیخ عبدالحق ایک مقتدر رئیس صاحب نقد وجائیداد اور ایک کشادہ دست انسان تھے۔ فارسی میں اعلٰی استعداد کے مالک اور بہت اچھے انشاء پرداز تھے۔ اس طرح یہ ایک عالی خاندان تھا جہاں دولت وحشمت اور زہد وتقوی بغل گیر ہوتے تھے۔Cite error: The opening <ref> tag is malformed or has a bad name

5 ربیع الثانی 1280ھ بمطابق 9 ستمبر ، 1863ء تاریخ ولادت ہے۔[1]

  والد نے آپ کی تربیت بڑے ہی پیار ومحبت سے کی۔تربیت میں اس بات کو خاص اہمیت دی کہ برے دوستوں اور غلط مجالس سے آپ دور رہے ۔آپ کی طبیعت خود بھی ایسی واقع ہوئی تھی کہ کبھی بازاری لڑکوں کے ساتھ نہیں کھیلے بچپن سے مزاج دینی تھا۔Cite error: The opening <ref> tag is malformed or has a bad name

12 سال کی عمر میں پابندی سے نماز تہجد پڑھنے لگ گئے تھے۔Cite error: The opening <ref> tag is malformed or has a bad name

تعلیم وتربیت

 ابتدائی تعلیم میرٹھ میں ہوئی فارسی کی ابتدائی کتابیں یہیں پڑھیں اور حافظ حسین مرحوم دہلوی سے کلام پاک حفظ کیا پھر تھانہ بھون آکر حضرت مولانا فتح محمد صاحب سے عربی کی ابتدائی اور فارسی کی اکثر کتابیں پڑھیں ذوالقعدہ 1295ھ میں آپ بغرض تحصیل وتکمیل علوم دینیہ دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور پانچ سال تک یہاں مشغول تعلیم رہ کر 1301ھ میں فراغت حاصل کی اس وقت آپ کی عمر تقریباً19سال تھی زمانہ طالب علمی میں حضرت میل جول سے الگ تھلگ رہتے اگر کتابوں سے کچھ فرصت ملتی تو اپنے استاد خاص حضرت مولانا محمد یعقوب کی خدمت میں جابیٹھتے۔Cite error: The opening <ref> tag is malformed or has a bad name

درس وتدریس

تکمیل تعلیم کے بعد والد اور اساتذہ کرام کی اجازت سے آپ کانپور تشریف لے گئے اور مدرسہ فیض عام میں پڑھانا شروع کردیا چودہ سال تک وہاں پرفیض کو عام کرتے رہے، 1315ھ میں کانپور چھوڑکر آپ آبائی وطن تھانہ بھون تشریف لائے اور یہاں حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی خانقاہ کو نئے سرے سے آباد کیا اور مدرسہ اشرفیہ کے نام سے ایک درسگاہ کی بنیاد رکھی جہاں آخر دم تک تدریس،تزکیہ نفوس اور اصلاح معاشرہ جیسی خدمات سرانجام دیتے رہے۔Cite error: The opening <ref> tag is malformed or has a bad name

اس مراجعت پر حضرت حاجی صاحب نے آپ کو ایک خط بھیجا جس میں لکھا تھا" بہتر ہوا کہ آپ تھانہ بھون تشریف لے گئے امید ہے کہ خلائق کثیر کو آپ سے فائدہ ظاہری وباطنی ہوگا،اور آپ ہمارے مدرسہ ومسجد کو ازسرنو آباد کریں گے،میں ہر وقت آپ کے حال میں دعا کرتا ہوں"Cite error: The opening <ref> tag is malformed or has a bad name

سلوک ومعرفت

ظاہری علوم کی تکمیل کے بعددل میں تزکیہ باطن کا داعیہ پیدا ہوا ، چنانچہ شوال 1201ھ میں جب کہ آپ طالب علمی کی زندگی ختم فرماکر کانپور میں اشاعت علوم میں مصروف تھے۔ سفر حج کی تو فیق ہوئی،حضرت والا اپنے والد ماجد کی معیت میں زیارت حرمین شریفین کے لیے روانہ ہوئے مکہ معظمہ پہنچ کر حاجی امداد اللہ مہاجر مکی کی خدمت میں حاضر ہوئے حاجی صاحب مجدد الملۃ کے آنے سے بہت خوش ہوئے اور دست بدست بیعت کی نعمت سے سرفراز کیا اور فرمایا تم میرے پاس چھ مہینے رہ جاؤلیکن حضرت والد ماجد نے مفارقت کو گوارا نہ کیا۔ اس پر حاجی صاحب نے فرمایا کہ والد کی اطاعت مقدم ہے اس وقت چلے جاؤپھر دیکھا جائے گا،1310ھ میں آپ دوبارہ مکہ مکرمہ تشریف لے گئے اور چھ ماہ حاجی صاحب کی خدمت میں رہے۔Cite error: The opening <ref> tag is malformed or has a bad name

اس دوران حاجی صاحب نے آپ کو شرف خلافت سے نوازا اور ساتھ یہ فرمایا میاں اشرف،توکل بخدا تھانہ بھون جاکر بیٹھ جانا اگر سخت حالات پیش آئیں تو عجلت مت کرنا،ان وصیتوں اور باطنی دولت کو لے کر آپ 1311ھ میں وطن واپس لوٹ آئے اور حضرت حاجی صاحب کی وصیت کے مطابق تھانہ بھون میں رشد واصلاح باطنی کاکام شروع کردیا۔ ہندوستان کے طول وعرض سے لوگ پروانہ وار آتے رہے اور دین اسلام کا کام کرتے رہے۔Cite error: The opening <ref> tag is malformed or has a bad name

تصانیف

آپ کی تصانیف اور رسائل کی تعداد 800 تک ہے ۔ ان میں سے چند ایک کے نام پیش خدمت ہیں۔Cite error: The opening <ref> tag is malformed or has a bad name Cite error: Invalid <ref> tag; invalid names, e.g. too many

تفسیر بیان القرآن ،سلیس بامحاورہ ترجمہ، تفسیر میں روایات صحیحہ اور اکابر کے اقوال کا التزام کیا گیا ہے۔

اعمال قرآنی ،قرآن مجید کی بعض آیتوں کے خواص

حقیقۃ الطریقۃ ،سلوک وتصوف کے مسائل وروایات پر مشتمل ایک بےنظیر کتاب

احیاء السنن،فقہی ترتیب پر جمع کیے گیے احادیث کا مجموعہ

امداد الفتاوی،فقہی مسائل اور مباحث کا ایک نادر مجموعہ

الانتباہات المفیدہ ،جدیدتعلیم یافتہ لوگوں کے مذہبی اعتراضات کے جوابات

اعلاء السنن ،مذہب حنفی کی موید احادیث ،محدثین اور اہل فن کی تحقیقات کا مجموعہ

بہشتی زیور،اسلامی معلومات کا مکمل ذخیرہ

المصالح العقلیہ،اسلامی احکام ومسائل کے مصالح وحکم کا بیان

جمال القرآن ،اصطلاحات تجوید پر مشتمل ایک عام فہم رسالہ

نشر الطیب ،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پر مشتمل جامع مانع کتاب

وفات

اشرف علی تھانوی 83 سال 3 ماہ 11 دن کی زندگی گزارنے کے بعد 16 رجب1362ھ بمطابق 20 جولائی، 1943ء کی انتقال کرگئے۔Cite error: The opening <ref> tag is malformed or has a bad name

آپ کی نماز جنازہ ظفر احمد عثمانی نے پڑھائی،تھانہ بھون کے قبرستان میں آپ مدفون ہیں۔Cite error: The opening <ref> tag is malformed or has a bad name

حوالہ جات

  1. حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ؛ سوانح و خدمات سنی آن لائن، امریکا، اخذ کردہ بتاریخ 19 جولائی 2017ء