مندرجات کا رخ کریں

عبد الباری ندوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

مولانا عبد الباری1886ء میں ہندوستان کے علاقے بارہ بنکہ میں وہاں کے ریاستی طبیب حکیم عبد الخالق کے گھر پیدا ہوئے۔آبائی  وطن لکھنؤ  تھا ۔ ابتدائی  تعلیم  مولانا ادریس  گرامی سے حاصل کی۔1902ء میں ندوہ میں داخل ہوئے۔سید سلیمان ندوی ؒ کی رفاقت میں علامہ شبلی کی نگرانی میں علمی مدارج طے کیے۔عربی زبان اور علم فلسفہ میں زبردست مہارت تھی۔دارالمصنفین،دکن کالج پونہ اورجامعہ عثمانیہ حیدرآباد میں تدریسی خدمات سر انجام دیں۔مولانا حسین احمد مدنیؒ اور مولانا اشرف علی تھانویؒ سے تصوف و سلوک  کا تعلق تھا۔کئی کتب تصنیف کیں۔30جنوری 1976ء کو 90 سال  کی عمر میں فوت ہوئے ۔[1]

عبد الباری ندوی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1886ء   ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بارہ بنکی ضلع   ویکی ڈیٹا پر  (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 30 جنوری 1976ء (8990 سال)  ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لکھنؤ   ویکی ڈیٹا پر  (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت بھارت (26 جنوری 1950–)
برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)  ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ فلسفی ،  استاد جامعہ ،  مصنف [2]  ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان ہندی ،  انگریزی   ویکی ڈیٹا پر  (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت جامعہ عثمانیہ، حیدرآباد   ویکی ڈیٹا پر  (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عبد الباری ندوی (1396ھ / 1976 ء) ایک بھارتی عالم دین، فلسفی، صوفی اور کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ دار العلوم ندوۃ العلماء سے تعلیم حاصل کی۔ جامعہ عثمانیہ حیدرآباد میں جدید فلسفہ کے استاد رہے اور 27 محرم 1396ھ مطابق 1976ء کو وفات پائی۔  کئی تصنیفات یادگار چھوڑیں جن میں مذہب اور جدید سائنس، تجدید معاشیات، تجدید تصوف وغیرہ شامل ہیں۔[3]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Nadwi (مارچ 1976)۔ Molana Abdul Bari۔ Nadwatul musannifeen,Azam Garh,Delhi: Monthly Marif۔ ص 229–232۔ ISBN:Pdf.format {{حوالہ کتاب}}: تأكد من صحة |isbn= القيمة: نادرست حروف (معاونت)
  2. عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/105213100X — اخذ شدہ بتاریخ: 20 اپریل 2026 — اجازت نامہ: CC0
  3. یوسف، محمد خیر رمضان۔ المستدرك على تتمة الأعلام (پہلا ایڈیشن). بیروت: دار ابن حزم۔ صفحہ 54.