محمد رابع حسنی ندوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محمد رابع حسنی ندوی
رابع حسنی ندوی.JPG
پیدائش 1929ء
تکیہ کلاں، رائے بریلی ضلع، اترپردیش، بھارت
قومیت بھارتی
مادر علمی دار العلوم ندوۃ العلماء
اہم تصانیف جزیرۃ العرب، دو مہینے امریکہ میں، رہبر انسانیت
مذہب اسلام
عہد عہد حاضر
علاقہ بھارت
مکتب فکر حنفی
شعبہ عمل
دعوت، عربی زبان

محمد رابع حسنی ندوی (پیدائش:1929ء) بھارت کے ایک عالم دین[1] عربی اور اردو زبانوں میں تقریباً 30 کتابوں کے مصنف ہیں۔[2] رابع حسنی ندوی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے چوتھے صدر[3][4][5] اور دار العلوم ندوۃ العلماء کے حالیہ ناظم ہیں۔[6][7] نیز مولانا رابع حسنی ندوی عالمی رابطہ ادب اسلامی ریاض (سعودی عرب) کے نائب صدر [8] اور رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کے رکن اساسی بھی ہیں۔[2]

ان کے علاوہ مجلس تحقیقات و نشریات اسلام، لکھنؤ، دینی تعلیمی کونسل، اترپردیش اور دار عرفات، رائے بریلی کے صدر نیز دار المصنفین، اعظم گڑھ کے رکن، آکسفرڈ یونیورسٹی کے آکسفرڈ سینٹر برائے اسلامک اسٹڈیز کے ٹرسٹی، تحریک پیام انسانیت اور اسلامی فقہ اکیڈمی، انڈیا کے سرپرستوں میں شامل ہیں۔[9][10]

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

محمد رابع حسنی ندوی کی پیدائش بھارت کے صوبہ اترپردیش میں واقع ضلع رائے بریلی کے تکیہ کلاں میں یکم اکتوبر 1929ء کو رشید احمد حسنی کے خاندان میں ہوئی۔[11] سید محمد رابع حسنی ندوی بھارت کے ایک ممتاز عالم مولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی کے بھانجے ہیں۔ ابتدائی تعلیم اپنے خاندانی مکتب رائے بریلی میں ہی مکمل کی، اس کے بعد اعلی تعلیم کے لیےدار العلوم ندوۃ العلماء میں داخل ہوئے ۔ 1948ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء سے فضیلت کی سند حاصل کی ۔ اس دوران 1947ء میں ایک سال دار العلوم دیوبند میں بھی قیام رہا۔ 1949ء میں تعلیم مکمل ہونے کے بعد دار العلوم ندوۃ العلماء میں معاون مدرس کے طور پر تقرر ہوا۔ اس کے بعددعوت و تعلیم کے سلسلہ میں 1950-1951 کے دوران حجاز، سعودی عرب میں قیام رہا۔[12]

عملی زندگی[ترمیم]

1955ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء کے کلیۃ اللغۃ العربیۃ کے وکیل منتخب ہوئے اور 1970ء کو عمید کلیۃ اللغۃ مقرر ہوئے۔عربی زبان کی خدمات کے لیے انڈیا کونسل اترپردیش کے جانب سے اعزاز دیا گیا اس کے بعد اسی سال صدارتی اعزاز بھی دیا گیا۔
1993ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء کے مہتمم بنائے گئے، اس کے بعد 1999ء میں نائب ناظم ندوۃ العلماء اور 2000ء میں مولانا ابو الحسن علی حسنی ندوی کی وفات کے بعد ناظم ندوۃ العلماء مقرر ہوئے۔دو سال بعد جون ، 2002ء میں حیدرآباد، دکن میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سابق صدر قاضی مجاہد الاسلام قاسمی مرحوم کی وفات کے بعد متفقہ طور پر صدر منتخب ہوئے۔

اسفار[ترمیم]

مولانا رابع حسنی ندوی نے دنیا کے متعدد ممالک میں سفر ہوئے۔
امریکہ، جاپان، مراکش، ملائشیا، مصر، تونس، الجزائر، ازبکستان، ترکی، جنوبی افریقا اور متعدد عرب، یورپی اور افریقی ممالک کے اسفار ہوئے۔

تصانیف[ترمیم]

سید محمد رابع حسنی ندوی کی تاحال عربی زبان میں 15 کتابیں اور اردو میں 12 کتابیں شائع ہوچکی ہیں، اس کے ساتھ غیر مطبوعہ مسودات کی بھی کافی تعداد ہے۔اس کے علاوہ مولانا رابع حسنی کے مضامین متعدد رسائل و مجلات مثلاتعمیر حیات لکھنؤ، البعث الاسلامی لکھنؤ، الرائد لکھنؤ اور کاروان ادب وغیرہ میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔[9][10]

ذیل میں کچھ کتابوں کے نام درج ہیں
  1. جزیرۃ العرب
  2. دو مہینے امریکہ میں
  3. رہبر انسانیت
  4. الادب العربي، بين عرض و نقد
  5. معلم الانشاء، سوم

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]