محمد حنیف ندوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مولانا محمد حنیف ندوی
پیدائش 10 جون 1908(1908-06-10)ء
گوجرانوالہ، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان)
وفات 12 جولائی 1987(1987-07-12)ء
لاہور، پاکستان
قلمی نام محمد حنیف ندوی
پیشہ محقق، فلسفی، عالم دین، مترجم، مفسر
زبان اردو، فارسی، عربی
نسل پنجابی
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
مادر علمی ندوۃ العلماء لکھنؤ
اصناف تحقیق، فلسفہ، علم الکلام،تفسیر قرآن
موضوع اسلامیات، فلسفہ اسلام، تقابل ادیان
نمایاں کام افکارِ ابنِ خلدون
عقلیاتِ ابن تیمیہ
تفسیر سراج البیان
مطالعہ قرآن
قدیم یونانی فلسفہ

مولانا محمد حنیف ندوی (پیدائش: 10 جون، 1908ء - وفات: 12 جولائی، 1987ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے عالمِ اسلام کے نامور عالمِ دین، محقق، مفسرِ قرآن، فلسفی اور مترجم تھے۔

حالات زندگی و خدمات[ترمیم]

محمد حنیف ندوی 10 جون، 1908ء کو گوجرانوالہ، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے[1][2]۔ ان کے والد نور الدین لکڑی کا کام کرتے تھے، درویش طبیعت آدمی تھے، مہینے میں ڈیڑھ دو ہفتے کام کرتے اور باقی وقت قرآن مجید پڑھتے اور علما کی صحبت میں گزارتے۔ مولانا محمد حنیف ندوی بچپن میں کھیلنے اور گھومنے کے بہت شوقین تھے، مفتی جعفر حسین ان کے بچپن کے دوست تھے، ان کے ساتھ پورے شہر میں گھومتے، ٹہلتے اور گفتگو کرتے۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب باقی ہندوستان کی طرح گوجرانوالہ میں بھی آریہ سماجیوں، قادیانیوں، اہلِ قرآن اور مسیحی پادریوں کے درمیان مناظرے بازی عروج پر تھی۔ محمد حنیف ندوی کے والد نے انہیں مولانا اسماعیل سلفی کے حلقۂ شاگردی میں دے دیا، چنانچہ مولانا محمد حنیف ندوی نے صرف و نحو، حدیث معقولات اور ادب کی تعلیم انہی سے حاصل کی۔ مولانا سلفی نے اپنے شاگرد میں طلب علم کی سچی پیاس دیکھی تو اسے ندوۃ العلماء لکھنؤ بھجوا دیا۔ وہاں رہ کر محمد حنیف ندوی نے وقت کے جید علما سے قرآن، تفسیر، حدیث، فقہ، معقولات وغیرہ کی تعلیم مکمل کی۔ عربی میں استعداد اتنی بڑھ گئی کہ کانپور کے ایک جلسے میں قرآن کی زبان کا عربی ادب پر اثر کے موضوع پر آدھ گھنٹہ تک عربی زبان میں تقریر کی۔ کرسئ صدارت پر حکیم اجمل خان رونق افروز تھے۔ سید سلیمان ندوی نے ان کا تعارف مولانا ظفر علی خان سے بھی کروایا اور کہا: پنجاب کے ہیں۔ اس پر وہ بہت خوش ہوئے۔ قاضی سلیمان منصور پوری سے کہا: یہ آپ کے ہم مسلک (اہل حدیث) ہیں، چنانچہ وہ بھی بہت خوش ہوئے۔ حکیم اجمل خان نے کہا:علم میں بڑھے ہو، جسم میں بھی بڑھو۔۔۔ لیکن مولانا بچپن سے وفات تک دھان پان ہی رہے۔ ندوۃ العلماء کے بارے میں مولانا محمد حنیف ندوی ؒ کا کہنا تھا:ندوہ کے علمی ماحول میں جا کر آدمی ہمہ وقت علمی مشاغل میں مصروف رہتا ہے۔ عقلیات کی طرف خصوصی توجہ دیتا ہے اور روشن خیال اور غیر متعصب بن کر باہر آتا ہے۔[2]

محمد حنیف ندوی نے انگریزی زبان پر ذاتی محنت کے ساتھ عبور حاصل کیا۔ وہ قرآن و حدیث اور فقہ و تفسیر کے بھی جید عالم تھے۔ انہیں نہ صرف اسلامی فکرو فلسفے سے خاص دلچسپی تھی، بلکہ وہ جدید مغربی فلسفے سے بھی گہری واقفیت رکھتے تھے۔ مغربی فلسفے کا مطالعہ انہوں نے ادارہ ثقافت اسلامیہ سے وابستگی کے بعد کیا۔ اس وقت ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم تھے۔ یہاں ان کی صحبت میں رہ کر محمد حنیف ندوی کی فلسفیانہ صلاحیتوں کو خوب جِلا ملی۔ چنانچہ محمد حنیف ندوی تاحیات اسی ادارے سے وابستہ رہے اور قرآن و حدیث اور فلسفہ اسلامی پر گراں قدر کتابیں لکھیں[2]

تصانیف[ترمیم]

  • تفسیر سراج البیان
  • چہرۂ نبوت
  • مرزائیت- نئے زاویوں سے
  • مسلمانوں کے عقائد و افکار یعنی مقالات السلامین(ترجمہ)
  • عقلیاتِ ابن تیمیہ
  • افکارِ ابنِ خلدون
  • اساسیات اسلام
  • تعلیمات غزالی
  • مطالعہ قرآن
  • مطالع حدیث
  • سرگزشتِ غزالی
  • افکارِ غزالی
  • مسئلہ اجتہاد
  • نہافت الفلاسفہ
  • قدیم یونانی فلسفہ

وفات[ترمیم]

مولانامحمد حنیف ندوی 12 جولائی، 1987ء کو لاہور، پاکستان میں خالقِ حقیقی سے جاملے۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]