خلیفہ عبدالحکیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
خلیفہ عبدالحکیم
معلومات شخصیت
پیدائش 1 جولا‎ئی 1893  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور،  برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 30 جنوری 1959 (66 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات دورۂ قلب  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن میانی صاحب قبرستان  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات طبعی موت  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش لاہور (1 جولا‎ئی 1893–1911)
علی گڑھ (1911–1912)
دہلی (1912–1917)
لاہور (1917–اگست 1919)
حیدرآباد (11 اگست 1918–1922)
ہائیڈل برگ (1922–1925)
حیدرآباد (1925–1943)
سری نگر (1943–1947)
حیدرآباد (1947–14 جون 1949)
لاہور (جون 1949–30 جنوری 1959)  ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (1 جولا‎ئی 1893–15 اگست 1947)
Flag of India.svg بھارت (15 اگست 1947–14 جون 1949)
Flag of Pakistan.svg پاکستان (جون 1949–30 جنوری 1959)
Flag of India.svg ڈومنین بھارت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ خدیجہ بیگم (31 جنوری 1920–30 جنوری 1959)  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی سینٹ اسٹیفن کالج، دہلی (1912–1913)
جامعہ علی گڑھ (1911–1912)
جامعہ پنجاب (1913–1915)
سینٹ اسٹیفن کالج، دہلی (1915–1917)
جامعہ ہائیڈل برگ (1922–1925)  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد بی اے،  ایم اے،  فاضل القانون،  پی ایچ ڈی  ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ استاد جامعہ،  فلسفی،  شاعر،  نقاد،  محقق،  مترجم،  معلم  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو،  انگریزی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فلسفہ،  ترجمہ،  ماوراء الطبیعیات  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت جامعہ عثمانیہ،  امر سنگھ کالج سرینگر،  ادارۂ ثقافت اسلامیہ  ویکی ڈیٹا پر (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

پروفیسر ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم (پیدائش: یکم جولائی، 1893ء - وفات: 30 جنوری، 1959ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف فلسفی، شاعر، نقاد، محقق، ماہر اقبالیات، ماہر غالبیات، مترجم اور سابق پروفیسر فلسفہ عثمانیہ یونیورسٹی اور سابق ڈائریکٹر ادارۂ ثقافت اسلامیہ لاہور تھے۔

سوانح[ترمیم]

نام و خاندان[ترمیم]

خلیفہ صاحب ڈار خاندان کی لاہوری شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔[1] نام عبدالحکیم تھا جبکہ خلیفہ کشمیری ڈار خاندان میں عالم یا قابل آدمی کے لیے مستعمل تھا جس کے متعلق منشی محمد دین فوق نے لکھا ہے کہ: ’’شروع شروع میں اِس خاندان میں پشمینے اور ڈوری باقی کا کام کثرت سے ہوتا تھا اور لوگوں کی معقول تعداد باقاعدہ طور پر اِس فن کا اِکتساب اِسی خاندان سے کرتی تھی۔ خاندان کے بزرگوں کو خلیفہ یعنی اُستاد کے نام سے پکارا جانے لگا۔ یہی لفظ ’’خلیفہ‘‘ اِس خاندان کے افراد کے نام کا پہلا جزو قرار پایا۔ [2][3] خلیفہ عبدالحکیم کے دادا خلیفہ رمضان ڈار ایک چھوٹے سے کارخانہ کے مالک تھے۔خلیفہ عبدالحکیم کے والد خلیفہ عبدالرحمٰن پرانی وضع کے راسخ الاعتقاد مذہبی شخص تھے۔ خلیفہ عبدالرحمٰن سلیم الطبع، کم سخن، متین ، بااُصول اور صاف ستھری معاشرت کے قائل تھے۔ گلستانِ سعدی اور بوستانِ سعدی کا مطالعہ وسعت النظری سے کیا کرتے تھے اور اُن کا معمول تھا کہ کتابوں کے سبق آموز حصے اپنے بچوں کے گوش گزار کیا کرتے تھے۔ لہٰذا اِسی لیے خلیفہ عبدالحکیم گو بہت چھوٹی عمر کے تھے، تاہم چونکہ اِس ماحول میں پرورش پائی تھی، اِسی لیے بچپن ہی سے فارسی ادب سے لگاؤ پیدا ہوگیا تھا۔[4] خلیفہ عبدالحکیم، خلیفہ عبدالرحمٰن کی دوسری بیوی سے پیدا ہوئے تھے جن کا رحیم بی بی تھا۔ ایک حقیقی بھائی عبدالغنی اور ایک بہن امیر بیگم اوائل عشرہ 1970ء تک بقیدِ حیات تھے۔ ایک سوتیلے بھائی خلیفہ ابراہیم بھی تھے جن کا انتقال 1960ء کے عشرے میں ہوا۔[5]

پیدائش[ترمیم]

خلیفہ عبدالحکیم کی تاریخ پیدائش میں اختلاف ہے۔ محمد عبداللہ قریشی اور بشیر احمد ڈار نے آپ کی تاریخ پیدائش 12 جولائی 1894ء لکھی ہے۔[6] منشی محمد دین فوق نے تاریخ اقوامِ کشمیر میں اور میاں شمس الدین صاحب نے اپنے انٹرویو میں آپ کی تاریخ پیدائش 12 جولائی 1894ء بیان کی ہے۔[7] لیکن عثمانیہ یونیورسٹی میں ملازمت کے دوران اُن کی تاریخ پیدائش کا جو اِندراج ہوا، اُس کے مطابق خلیفہ عبدالحکیم 8 شوال 1303ھ مطابق یکم جولائی 1893ء کو پیدا ہوئے۔[8] [9][10]۔

جائے پیدائش[ترمیم]

خلیفہ عبدالحکیم کی پیدائش اُن کے آبائی مکان میں ہوئی جو اندرون اکبری دروازہ، محلہ چِلَّہ بِیبیاں، لاہور میں واقع ہے اِسے محلہ چہل بِیبیاں بھی کہا جاتا ہے۔ لاہور کے اِس محلہ میں بڑی بڑی شخصیات کا تعلق رہا ہے۔ جس مکان میں خلیفہ عبدالحکیم پیدا ہوئے، وہ دراصل مغلوں کی ایک بڑی شاندار حویلی کا ایک حصہ تھا جو اب محض مکان کی صورت میں اُن کے آباؤ اجداد کو ملا تھا۔ اِس حویلی کا نام مغلوں کے عہد میں مبارک حویلی تھا۔ ایک روایت کے مطابق مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے نو رتنوں میں شامل ابو الفضل فیضی اور ابوالفضل علامی کے والد شیخ مبارک ناگوری رہا کرتے تھے۔ چنانچہ اُنہی کے نام سے یہ حویلی مشہور تھی۔ [11]

تعلیم[ترمیم]

ابتدائی تعلیم کا آغاز مِٹھا شاہ والی مسجد سے ہوا۔ جو اُن کے مکان کے سامنے واقع تھی۔ چار سال کی عمر میں (نومبر 1898ء) میں اُنہیں والدہ نے مسجد میں پڑھنے کے لیے بِٹھا دیا۔بعد ازاں پرائمری جماعت کی تعلیم کے لیے انجمن حمایت اسلام کے میں داخل ہوئے جو اندرون موچی دروازہ میں واقع تھا اور اُس زمانے میں ’’لال کھوہ کا اسکول‘‘ کہلاتا تھا۔ خلیفہ عبدالغنی (برادر خلیفہ عبدالحکیم) نے اسکول میں داخلے کا سال 1899ء بیان کیا ہے لیکن اِس بارے میں میاں شمس الدین کی رائے مختلف ہے اور موصوف نے خلیفہ عبدالحکیم کے پرائمری اسکول میں داخلے کا سال 1901ء بیان کیا ہے جو زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ تیسری جماعت کے بعد خلیفہ عبدالحکیم کو اسلامیہ ہائی اسکول، شیرانوالہ دروازہ میں داخل کروایا گیا اور یہیں سے میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔ میٹرک کے بعد کی اعلیٰ تعلیم کے متعلق بھی محققین کے یہاں اختلاف موجود ہے۔ محمد عبداللہ قریشی، منشی محمد دین فوق اور میاں شمس الدین کہتے ہیں کہ خلیفہ صاحب نے 1910ء میں میٹرک پاس کیا جبکہ پروفیسر حمید احمد خان کے مطابق 1911ء میں میٹرک پاس کیا۔ اِس بابت پروفیسر حمید احمد خان کا قول زیادہ درست ہے کہ میٹرک 1911ء میں پاس کیا۔

والد کا انتقال اور شعرگوئی[ترمیم]

خلیفہ عبدالحکیم ابھی اعلیٰ تعلیم کی جانب گامزن نہیں ہوئے تھے کہ والد خلیفہ عبدالرحمٰن انتقال کرگئے۔ والد کے اِنتقال کے بعد آپ کے والد کے بھائیوں نے حکیم چچا اور دوسرے چچاؤں اور پھوپھیوں کو وراثت کا حصہ دینے سے اِنکار کردیا، جس کی وجہ سے اِن سب کو سالہا سال غربت و عسرت میں زِندگی بسر کرنا پڑی۔[12] باپ کے سایۂ شفقت سے محروم ہوجانے کے بعد خلیفہ عبدالحکیم کی تعلیم و تربیت کی ذِمہ داری تنہا والدہ کے سر آپڑی۔ وہ صابر، متحمل مزاج اور عقلمند خاتون تھیں۔ مالی حالات کی ناسازی کے باعث اُنہوں نے دھان پر سے چھلکا اُتارنے کا پرانا کام شروع کردیا اور اپنی اولاد کی تربیت میں کوئی کمی نہ چھوڑی۔[13] اِسی زمانے میں شعرگوئی بھی شروع کردی تھی، بقول منشی محمد دین فوق، خلیفہ عبدالحکیم کی پہلی نظم کشمیری میگزین، لاہور میں شائع ہوئی تھی۔[14] اسکول کی ادبی سرگرمیوں میں پیش پیش رہتے تھے۔ اچھے مُقَرَّر تھے اور اِسی زمانے میں اردو ادب اور فارسی ادب کے مطالعے کا شوق اِنتہاء کو پہنچا۔ [15]

اعلیٰ تعلیم[ترمیم]

جن دِنوں خلیفہ صاحب نے میٹرک پاس کیا تو اِن دِنوں پنجاب میں سر سید احمد خان کی تعلیمی تحریک سے بہت دِلچسپی اور وابستگی پائی جاتی تھی اور اُس زمانے کے اکثر بزرگ اپنی اولاد کو علی گڑھ میں تعلیم دِلوانے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ مگر اِس کے برعکس غالباً مالی مشکلات کے سبب سے آپ نے میٹرک کے بعد فورمن کرسچین کالج، لاہور میں داخلہ لیا اور اپنے بہنوئی عطاء اللہ بٹ کی ہدایت پر سائنس کے مضامین اِختیار کیے، لیکن آپ کو سائنس سے کوئی رغبت نہ تھی، اِسی لیے چند مہینے گزارنے پر آپ نے کالج چھوڑ دیا اور پھر علی گڑھ چلے گئے۔ علی گڑھ میں فرسٹ ائیر کے امتحانات کے لیے آرٹس (فنون لطیفہ و اَدب) کے مضامین اِختیار کیے۔ فرسٹ ائیر کی جماعت میں محض پانچ منٹ کی تیاری کے بعد فی البدیہہ تقریر سے ڈیبیٹنگ یونین کے صدر بن گئے۔ [16]

بی اے[ترمیم]

علی گڑھ سے ایف اے کرنے کے بعد آپ نے وسط 1912ء میں سینٹ اسٹیفن کالج، دہلی میں داخلہ لے لیا۔ پروفیسر حمید احمد خان کا بیان ہے کہ 1913ء میں الٰہ آباد یونیورسٹی سے ایف کرکے دہلی آئے کیونکہ اُس زمانے میں علی گڑھ کالج کا اِلحاق اِلٰہ آباد یونیورسٹی سے تھا اور علی گڑھ کو مسلم یونیورسٹی کا درجہ ء میں دیا گیا تھا۔ آپ کے فلسفہ کے اُستاد مسٹر سَین تھے (جو بعد میں رجسٹرار ہوگئے تھے)، وہ آپ کی ذہانت کے مداح تھے اور فلسفہ کی جماعت میں صرف پانچ چھ لڑکے تھے، اِسی لیے وہ مختصر سی جماعت کو پڑھانے کی غرض سے اکثر خلیفہ صاحب کی قیام گاہ پر تشریف لاتے اور تعلیم دیتے۔ 1915ء میں خلیفہ عبدالحکیم نے بی اے کی ڈِگری حاصل کرلی اور جامعہ پنجاب، لاہور میں فلسفہ میں اَوَّل آکر ریکارڈ قائم کردیا۔[17]

ایم اے[ترمیم]

جامعہ پنجاب (لاہور) سے بی اے کے بعد دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج سے 1917ء میں ایم اے (فلسفہ) پاس کیا اور اب کی بار پھر خلیفہ عبدالحکیم پنجاب بھر میں اول آئے۔ [18]

ایل ایل بی[ترمیم]

ایم اے کے بعد خلیفہ عبدالحکیم نے قانون کی تعلیم کے لیے ایل ایل بی کے لیے لاہور کے ’’لاء کالج‘‘ میں داخلہ لیا اور ساتھ ہی خواجہ احمد شاہ کے انگریزی اخبار ’’آبزرور‘‘ کی اِدارت کے فرائض پر بھی متمکن ہوگئے۔ اِس اخبار میں ے لاگ تبصروں اور تنقیدات کے باعث اخبار کی ضمانت حکومت نے ضط کرلی۔ [19]

ملازمت[ترمیم]

اگست 1919ء میں علامہ محمد اقبال کی سفارش پر حیدرآباد، دکن میں نئی قائم شدہ عثمانیہ یونیورسٹی میں فلسفے کے اسسٹنٹ پروفیسر ہو گئے۔ 1922ء میں جرمنی گئے اور 1925ء میں ہائیڈل برگ یونیورسٹی سے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے تحقیقی مقالے کا عنوان Metaphysics of Rumi (رومی کی مابعد الطبیعیات) تھا۔ پی ایچ ڈی کرنے کے بعد وہ حیدرآباد دکن واپس آکر جامعہ عثمانیہ میں فلسفہ کے پروفیسر اور صدرِ شعبہ مقرر ہوئے۔1943ء میں امر سنگھ کالج سرینگر کے پرنسپل ہو کر کشمیر چلے گئے جہاں بعد میں ناظمِ تعلیمات بھی مقرر ہوئے۔1947ء میں مستعفی ہو کر واپس حیدرآباد دکن آ گئے جہاں انہیں جامعہ عثمانیہ میں ڈین فیکلٹی آف آرٹس مقرر کیا گیا۔ حیدرآباد دکن پر ہندوستان کے قبضہ کے بعد 1949ء میں وہ لاہور منتقل ہو گئے۔ فروری 1950ء میں ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم کی کوششوں سے لاہور میں ادارۂ ثقافت اسلامیہ قائم ہوا تو وہ اس کے پہلے ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔[20]

تصانیف[ترمیم]

  • مختصر تاریخِ فلسفۂ یونان (تالیف ڈاکٹر ویلہم نیسل) (جرمن زبان سے اردو میں ترجمہ)
  • نفسیات وارداتِ روحانی
  • داستانِ دانش
  • شریمد بھگوت گیتا
  • تشبہاتِ رومی
  • اسلام کی بنیادی حقیقتیں
  • اقبال اور مُلا
  • تلخیص خطبات اقبال
  • مقالات حکیم(مرتب شاہد حسین رزاقی)
  • افکار غالب
  • حکمت رومی
  • فکر اقبال
  • Metaphysics of Rumi
  • Islam & Communism
  • The Prophet and His Message
  • Islamic Ideology
  • کلامِ حکیم (مرتب ڈاکٹر افتخار احمد صدیقی)

ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم پر کتب[ترمیم]

  • ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم (سوانح و ادبی خدمات)، ممتاز اختر مرزا

وفات[ترمیم]

ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم 30 جنوری، 1959ء کو لاہور، پاکستان میں حرکتِ قلب بند ہونے سے وفات پا گئے۔ وہ میانی صاحب کے قبرستان میں مدفون ہیں۔[10][21]

مزید دیکھیں[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ممتاز اختر مرزا: ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، سوانح اور علمی ادبی خدمات، صفحہ 1، مطبوعہ ادارۂ ثقافت اسلامیہ، لاہور، 1971ء
  2. محمد دین فوق: تاریخ اقوام کشمیر، صفحہ 508، مطبوعہ 1934ء
  3. ممتاز اختر مرزا: ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، سوانح اور علمی ادبی خدمات، صفحہ 3، مطبوعہ ادارۂ ثقافت اسلامیہ، لاہور، 1971ء
  4. ممتاز اختر مرزا: ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، سوانح اور علمی ادبی خدمات، صفحہ 1، مطبوعہ ادارۂ ثقافت اسلامیہ، لاہور، 1971ء
  5. ممتاز اختر مرزا: ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، سوانح اور علمی ادبی خدمات، صفحہ 6، مطبوعہ ادارۂ ثقافت اسلامیہ، لاہور، 1971ء
  6. اقبال ریویو: شمارہ 4، جلد 6، صفحہ 17، سال 1966ء
  7. اقبال ریویو: شمارہ 4، جلد 6، صفحہ 125، سال 1966ء
  8. مراسلہ رجسٹرار عثمانیہ یونیورسٹی، حیدرآباد دَکن، مکتوب 4 ستمبر، 1968ء، بحوالہ سول یسٹ ریاست حیدرآباد بنام ممتاز اختر مرزا۔
  9. خلیفہ عبد الحکیم، سوانح و تصانیف ویب، پاکستان
  10. ^ ا ب ص 157، پاکستان کرونیکل، عقیل عباس جعفری، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء
  11. ممتاز اختر مرزا: ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، سوانح اور علمی ادبی خدمات، صفحہ 5/6، مطبوعہ ادارۂ ثقافت اسلامیہ، لاہور، 1971ء
  12. سلیم واحد سلیم: مقالہ ’’خلیفہ عبدالحکیم‘‘۔ مجلہ ادبی دنیاء، صفحہ 89۔ مطبوعہ ستمبر/ اکتوبر 1966ء
  13. ممتاز اختر مرزا: ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، سوانح اور علمی ادبی خدمات، صفحہ 7/8، مطبوعہ ادارۂ ثقافت اسلامیہ، لاہور، 1971ء
  14. محمد دین فوق: تاریخ اقوامِ کشمیر، جلد 3، صفحہ 166۔ مطبوعہ 1934ء
  15. ممتاز اختر مرزا: ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، سوانح اور علمی ادبی خدمات، صفحہ 9، مطبوعہ ادارۂ ثقافت اسلامیہ، لاہور، 1971ء
  16. ممتاز اختر مرزا: ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، سوانح اور علمی ادبی خدمات، صفحہ 9/10، مطبوعہ ادارۂ ثقافت اسلامیہ، لاہور، 1971ء
  17. ممتاز اختر مرزا: ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، سوانح اور علمی ادبی خدمات، صفحہ 10، مطبوعہ ادارۂ ثقافت اسلامیہ، لاہور، 1971ء
  18. ممتاز اختر مرزا: ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، سوانح اور علمی ادبی خدمات، صفحہ 12، مطبوعہ ادارۂ ثقافت اسلامیہ، لاہور، 1971ء
  19. ممتاز اختر مرزا: ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم، سوانح اور علمی ادبی خدمات، صفحہ 12/13، مطبوعہ ادارۂ ثقافت اسلامیہ، لاہور، 1971ء
  20. علامہ اقبال اور ڈاکٹر خلیفہ عبد الحکیم، ڈاکٹر محمد سلیم، روزنامہ پاکستان، لاہور، 25 اپریل 2014ء
  21. پروفیسر محمد اسلم، خفتگانِ خاکِ لاہور، ادارہ تحقیقات پاکستان، دانشگاہ پنجاب، لاہور، 1993ء، ص 184