ظفر علی خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ظفر علی خان
معلومات شخصیت
پیدائش 19 جنوری 1873  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ضلع سیالکوٹ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 27 نومبر 1956 (83 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحصیل وزیر آباد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ علی گڑھ  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ صحافی،  سیاست دان،  مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی،  اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مولانا ظفر علی خان معروف مصنف، شاعر اور صحافی گزرے ہیں جو تحریک پاکستان کے اہم رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کو بابائے اردو صحافت کہا جاتا ہے۔ آپ نے لاہور سے معروف اردو اخبار زمیندار جاری کیا۔ انہوں نے 1935ء میں شہید گنج مسجد لاہور کو گردوارہ بنانے کے خلاف نیلی پوش تحریک بھی چلائی۔ حمیدہ بیگم آپ کی سگی ہمشیرہ تھیں۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

مولانا ظفر علی خان19 جنوری، 1873ء میں کوٹ میرٹھ شہر وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مشن ہائی اسکول وزیر آباد سے مکمل کی اور گریجویشن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے کی۔ کچھ عرصہ وہ نواب محسن الملک کے معتمد (Secretary) کے طور پر بمبئی میں کام کرتے رہے۔ اس کے بعد کچھ عرصہ مترجم کی حیثیت سے حیدرآباد دکن میں کام کیا اور محکمہ داخلہ (Home Department) کے معتمد کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ اخبار "دکن ریویو" جاري كيا اور بہت سی کتابیں تصنیف کرکے اپنی حیثیت بطور ادیب و صحافی خاصی مستحکم کی۔

زمیندار کی ادارت[ترمیم]

1908ء میں لاہور آئے، روزنامہ زمیندار کی ادارت سنبھالی جسے ان کے والد مولوی سراج الدین احمد نے 1903ء میں شروع کیا تھا۔ مولانا کو "اردو صحافت کا امام" کہا جاتا ہے اور زمیندار ایک موقع پر پنجاب کا سب سے اہم اخبار بن گیا تھا۔ زمیندار ایک اردو اخبار تھا جو بطور خاص مسلمانوں کے لیے نکالا گیا تھا۔ اس اخبار نے مسلمانوں کی بیداری اور ان کے سیاسی شعور کی تربیت کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا باوجود اس حقیقت کے کہ اس کی اشاعت محدود تھی اور مسلمانوں کے پاس نہ صنعت تھی نہ تجارت جس کی وجہ سے اشتہارات کی تعداد اتنی کم تھی کہ اخبار کو چلانا جان جوکھوں کا کام تھا۔ بعض اوقات ایسی صورت بھی پیدا ہو جاتی تھی کہ عملے کو تنخواہ دینے کے لیے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے۔

کامریڈ اور زمیندار[ترمیم]

مولانا نے صحافیانہ زندگی کی شروعات انتہائی دشوار گزار اور ناموافق حالات میں کی۔ اس زمانے میں لاہور اشاعت کا مرکز تھا اور تینوں بڑے اخبار پرتاب، محراب اور وی بھارت ہندو مالکان کے پاس تھے۔ اسی دور میں مولانا اور زمیندار نے تحریک پاکستان کے لیے بے لوث خدمات انجام دیں۔ کامریڈ (مولانا محمد علی جوہر کا اخبار ) اور زمیندار دو ایسے اخبار تھے جن کی اہمیت تحریک پاکستان میں مسلم ہے اور دونوں کے کردار کو بیک وقت تسلیم کیا جانا چاہیے۔ 1934ء میں جب پنجاب حکومت نے اخبار پر پابندی عائد کی تو مولانا ظفر علی خان جو اپنی جرات اور شاندار عزم کے مالک تھے انہوں نے حکومت پر مقدمہ کر دیا اور عدلیہ کے ذریعے حکومت کو اپنے احکامات واپس لینے پر مجبور کر دیا۔ اگلے دن انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ایک طویل نظم لکھی جس کے ابتدائی اشعار یہ ہیں

یہ کل عرش اعظم سے تار آگیا
زمیندار ہوگا نہ تا حشر بند
تری قدرت کاملہ کا یقین
مجھے میرے پروردگار آگیا

زمیندار اور پنجاب[ترمیم]

"جدید مسلم ہندوستان اور قیام پاکستان" (Modern Muslim India and the Birth of Pakistan) میں ڈاکٹر ایس ایم اکرام لکھتے ہیں

وہ جوان، زور آور اور جرات مند تھے اور نئے سیاسی اطوار کا پرجوش انداز میں سامنا کیا۔ ان کی ادارت میں زمیندار شمالی ہند کا سب سے اثر انگیز اخبار بن گیا اور خلافت تحریک میں ان سے زیادہ فعال کردار صرف علی برادران اور مولانا ابو الکلام آزاد ہی تھے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پنجاب پاکستان کا واحد صوبہ تھا جس نے اردو کو اپنی زبان کے طور پر اپنایا اور اسے کام کی زبان بنایا باوجود اس کے کہ پنجابی اس صوبے کی مادری زبان ہے اور سب سے زیادہ بولی جاتی ہے۔ پنجابی کا اصل رسم الخط گورمکھی کو مسلمانوں نے اس لیے نہیں اپنایا کہ یہ سکھ مذہب سے جڑا ہوا تھا۔ اس طرح اردو انگریزی کے ساتھ پنجاب کی اہم لکھی جانے والی زبان بن گئی اور دونوں تقریباً ایک جتنی مقدار میں سرکاری اور تعلیمی زبان کے طور پر استعمال ہوتی رہیں۔ وفات: انھوں نے 27 نومبر 1956ء کو وزیر آباد کے قریب اپنے آبائی شہر کرم آباد میں وفات پائی۔ ان کی نمازِ جنازہ ان کے ساتھی محمد عبد الغفور ہزاروی نے پڑھائی۔ پنجاب کے دانشوروں، لکھاریوں، شاعروں اور صحافیوں نے، جن میں سر فہرست علامہ اقبال اور مولانا ظفر علی خان تھے، اردو کی زلف گرہ گیر کو محبت اور توجہ سے اس طرح سنوارا کہ وہ صوبے کی لاڈلی زبان بن گئی۔ دلی اور لکھنؤ کے بعد پنجاب نے اردو کی ترقی و ترویج میں انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کیا۔ اس ضمن میں کتاب"پنجاب میں اردو" از حافظ محمود شیرانی بہت معلوماتی اور علمی تحقیق سے مزین ہے۔

نیلی پوش تحریک[ترمیم]

ظفر علی خان نے 8 جولائی 1935ء کو مسجد شہید گنج لاہور کو گردوارہ بنانے کے خلاف نیلی پوش تحریک چلائی۔[2] اس تحریک میں ان کی جماعت نے نیلا لباس پہن رکھا تھا اس لیے اسے نیلی پوش کا نام ملا تھا۔

تصانیف[ترمیم]

مولانا ظفر علی خان غیر معمولی قابلیت کے حامل خطیب اور استثنائی معیار کے انشا پرداز تھے۔ صحافت کی شاندار قابلیت کے ساتھ ساتھ مولانا ظفر علی خان شاعری کے بے مثال تحفہ سے بھی مالا مال تھے۔ ان کی نظمیں مذہبی اور سیاسی نکتہ نظر سے بہترین کاوشیں کہلاتی ہیں۔ وہ اسلام کے سچے شیدائی، محب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اپنی نعت گوئی کے لیے مشہور و معروف ہیں۔ ان کی شاعرانہ کاوشیں بہارستان، نگارستان اور چمنستان کی شکل میں چھپ چکی ہیں۔ ان کی مشہور کتابیں درج ذیل ہیں:

وہ میلہ رام وفا کی شاعری سے بہت متاثر تھے اور ایک نوآموز شاعر کو میلہ رام کا شعر سنا کر نصیحت بھی کیا کرتے تھے:

توڑتا ہے شاعری کی ٹانگ کیوں اے بے ہنر!
جا سلیقہ شاعری کا سیکھ میلہ رام سے

نمونہ فارسی کلام[ترمیم]

ساقیا برخیز و مَی در جام کنفصل گل در بوستان آید همی
باد نوروزی وزید اندر چمننغمه‌اش عنبرفشان آید همی
مسلم از خواب گران بیدار شدانقلاب اندر میان آید همی
باش تا برقی درخشد از حجازغیرت حق درمیان میں آید همی
رودکی چنگ است و کلکم زخمه‌اشیاد یار مهربان آید همی

کتابیات[ترمیم]

  1. مولانا ظفر علی خان، اشرف عطا
  2. مولانا ظفر علی خان، شورش کاشمیری
  3. ظفر علی خان ادیب و شاعر، ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار
  4. انتخاب زمیندار، عتیق احمد صدیقی
  5. اقبال اور ظفرعلی خان، جعفر بلوچ
  6. مکاتیب ظفر علی خان، زاہد منیر عامر
  7. مولانا ظفر علی خان اور پاکستان، جعفربلوچ
  8. مولانا ظفر علی خان از نادم سیتا پوری،
  9. دو کوزہ گر، شبلی نعمانی اور ظفر علی خان، زاہد منیر عامر
  10. ظفر علی خاں حیات، شاعری اور صحافت از مولانا رفیع اللہ مسعود تیمی
  11. ”مولانا ظفر علی خاں بحیثیت شاعر و صحافی“ ڈاکٹر نظیر حسین زیدی نگران ڈاکٹر مصطفٰی خاں، سندھ یونیورسٹی۔ جامشور، 1970ء
  12. ”مولانا ظفر علی خان بحیثیت شاعر“ ڈاکٹر سید شکیل الدین قاضی نگران ڈاکٹر محمد شفیع، ڈاکٹر ہری سنگھ گور یونیورسٹی۔ ساگر 1989ء
  13. ”مولانا ظفر علی خاں: حیات اور کارنامے“ ڈاکٹر ریاست علی خاں نگران ڈاکٹر نورالحسن نقوی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔ علی گڑھ، 1993ء
  14. ”مولانا ظفر علی خاں کی غیر مطبوعہ تحریریں (تدوین و مقدمہ)“ ریحانہ خاتون نگران ڈاکٹر غلام حسین ذوالفقار، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی۔ اسلام آباد
  15. مولانا ظفر علی خان کا اردو صحافت پر اثر، مقالہ نگار: سید ندیم الحسن گیلانی، پی ایچ ڈی، شعبہ صحافت، پنجاب یونیورسٹی، لاہور، 1994ء
  16. مولانا ظفر علی خان ایک شاعر اور صحانی، مقالہ نگار: نذیر حسین، پی ایچ ڈی، شعبہ اردو، سندھ یونیورسٹی، جامشورو، سیشن 1971ء
  17. ”نگارستان، نقل متن، حواشی و تعلیقات“ مقالہ نگار:غلام صابر، ایم فل، شعبہ اردو، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد، سیشن 2007ء
  18. مولانا ظفر علی خان کی سیاسی خدمات، مقالہ نگار:سعدیہ ناصر، ایم اے شعبہ تاریخ، پنجاب یونیورسٹی، لاہور، سیشن 1995ء
  19. مولانا ظفر علی خان کی سیاسی شاعری، مقالہ نگار: سلمی نصرت، ایم اے شعبہ صحافت، پنجاب یونیورسٹی، سیشن 1975ء
  20. مولانا ظفر علی خان کی خود نوشت و سوانح حیات، مقالہ نگار:رابعہ طارق، ایم اے شعبہ اردو، پنجاب یونیورسٹی، لاہور، 1996ء

وفات[ترمیم]

مولانا ظفر علی خان نے 27 نومبر، 1956ء کو وزیر آباد کے قریب اپنے آبائی شہر کرم آباد میں وفات پائی۔ ان کی نمازِ جنازہ عبد الغفور ہزاروی نے ادا کی۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/130753 — بنام: Ẓafar ʻAlī K̲h̲ān — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. https://nation.com.pk/05-Dec-2012/tarrar-all-praise-for-maulana-zafar-ali-khan
  3. "Pakistani writers show renewed interest in Zafar Ali Khan's works | Newspaper". Dawn.Com. 19 نومبر 2012. 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 3 جون 2013. 

فارسی سرایان پاکستان از بهار می گویندآرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ af.farsnews.ir (Error: unknown archive URL)