باب خیبر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Khyber pass.jpeg

بابِ خیبر ایک مشہورمحرابی دروازہ سا ہے۔ جس کے ذریعے سے لوگ درہ خیبر میں داخل ہوتے ہیں۔ قلعہ جمرود اس کے دائیں جانب واقع ہے۔

جمرود کے مقام پر درہ خیبر کی تاریخی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے لیے جون 1963ء میں شارع پر ایک خوبصورت محرابی دروازہ ’’باب خیبر‘‘ تعمیر کیا گیا۔ یہ سطح سمندر سے 1066 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس دروازے پر مختلف تختیاں بھی نصب کی گئی ہیں، جن پر درہ سے گزرنے والے حکمرانوں اور حملہ آوروں کے نام بھی درج ہیں۔ درہ خیبر تاریخی، جغرافیائی اور محل وقوع کے لحاظ سے بےنظیر ہے۔ اسے برصغیر کا دروازہ کہا جاتا ہے، جو پشاور کے عین مغرب میں واقع ہے۔سلسلہ کوہ سلیمان، جو کہ کوہ ہمالیہ کی شاخ ہے، سطح مرتفع سے شروع ہوتا ہے، اس سلسلے کی پہاڑیاں اور وادیاں خیبر پر پہنچ کر ایک ہو جاتی ہیں۔ اصل درہ قلعہ جمرود سے شمال مغرب میں تقریباً تین میل پر شروع ہوتا ہےاور کوئی 23 میل طویل ہے۔ درہ خیبر ویران و بےگیاہ اور دشوار و ہموار چٹانوں سے گزرتا ہوا علی مسجد کے قریب آکر رفتہ رفتہ تنگ ہوجاتا ہے اور مناظر بھی یکسر بدل جاتے ہیں۔ اس کے بعد درہ بَل کھاتا ہوا انتہائی بلندی پر لنڈی کوتل کی سطح مرتفع (3,518 فٹ) تک جا پہنچتا ہے۔ یہاں سے سڑک نشیب کا رُخ کرتی ہے اور شنواری علاقے سے گزرتی ہوئی طورخم پہنچتی ہے۔ اس جگہ ڈیورینڈ لائن (پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی اور بین الاقوامی حد) دونوں ممالک کو ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے۔ جمرود سے اس کا فاصلہ تقریباً 33 کلومیٹر ہے۔ پشاور سے کوئی پانچ دس منٹ کی مسافت پر واقع باب خیبر سے کابل جایا جاسکتا ہے۔ باب خیبر ایک ایسی علامت ہے جو دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان بن چکی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]