حسرت موہانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حسرت موہانی
Ambedkar and Maulana Hasrat Mohani at Sardar Patel's reception.jpg
حسرت موہانی بھیم راؤ رام جی امبیڈکر کے ہمراہ سردار پٹیل کی دعوت پر– (1949ء)
پیدائش سید فضل الحسن

4 اکتوبر 1878ء

موہن، اترپردیش، برٹش راج، موجودہ اناؤ ضلع،
اتر پردیش، بھارت
وفات 13 مئی 1951ء
(عمر: 72 سال 7 ماہ 9 دن شمسی)
لکھنؤ، لکھنؤ ضلع، اتر پردیش، بھارت
پیشہ شاعر
قومیت ہندوستانی
دور بیسویں صدی
صنف غزل
موضوع عشق، فلسفہ
ادبی تحریک تحریک آزادی ہند

حسرت موہانی (پیدائش: 4 اکتوبر 1878ء– وفات: 13 مئی 1951ء) بیسویں صدی کے اردو زبان کے مشہور شاعر اور تحریک آزادی ہند کے کارکن تھے۔

سوانح[ترمیم]

اصل نام سید فضل الحسن اور تخلص حسرت ، قصبہ موہان ضلع اناؤ میں 1875ءپیداہوئے۔ آپ کے والد کا نام سید اظہر حسین تھا ۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی ۔ 1903ء میں علی گڑھ سے بی۔اے کیا۔ شروع ہی سے شاعری کا ذوق تھا۔ اپنا کلام تسنیم لکھنوی کو دکھانے لگے۔ 1903ءمیں علی گڑھ سے ایک رسالہ ”اردوئے معلی“ جاری کیا۔ اسی دوران شعرائے متقدمین کے دیوانوں کا انتخاب کرنا شروع کیا۔ سودیشی تحریکوں میں بھی حصہ لیتے رہے چنانچہ علامہ شبلی نے ایک مرتبہ کہا تھا۔”تم آدمی ہو یا جن ، پہلے شاعر تھے پھر سیاستدان بنے اور اب بنئے ہو گئے ہو۔“ حسرت پہلے کانگرسی تھے۔ گورنمنٹ کانگریس کے خلا ف تھی۔ چنانچہ 1907میں ایک مضمون شائع کرنے پر جیل بھیج دیے گئے ۔ ان کے بعد 1947 ءتک کئی بار قید اور رہا ہوئے۔ اس دوران ان کی مالی حالت تباہ ہو گئی تھی۔ رسالہ بھی بند ہو چکا تھا۔ مگران تمام مصائب کو انہوں نے نہایت خندہ پیشانی سے برداشت کیا اور مشق سخن کو بھی جاری رکھا۔آپ کو ‘رئیس المتغزلین‘بھی کہا جاتا ہے-

نمونہ کلام[ترمیم]

ہے مشق سخن جاری چکی کی مشقت بھی
اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی

وفات[ترمیم]

حسرت موہانی نے 72 سال 7 ماہ 9 دن کی عمر میں 13 مئی 1951ء کو لکھنؤ میں وفات پائی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

رئیس المتغزلین حسرت موہانی کی شاعری