مندرجات کا رخ کریں

الطاف حسین (صحافی)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
الطاف حسین (صحافی)
صناعتِ پاکستان
مدت منصب
17 اگست 1965 – 15 مئی 1968
صدر سالار المیدان ایوب خان
اے-کے خان
امیرالبحرمقابل سید محمد احسان
ایڈیٹر چیف ہائے ڈان
مدت منصب
14 اگست 1947 – 16 اگست 1965
عہدہ قائم
ضیاء الدین احمد سلہری
معلومات شخصیت
پیدائش 26 جنوری 1900ء   ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سلہٹ   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 25 مئی 1968ء (68 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت برطانوی ہند
پاکستان   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)   ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کلکتہ
جامعہ ڈھاکہ   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ صحافی ،  مصنف   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان بنگلہ   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

صحافی، سلہٹ بنگلہ دیش میں پیدا ہوئے۔ 1923ء میں ایم اے کیا۔ 1938ء تک مختلف کالجوں میں انگریزی کے استاد رہے پھر سرکاری ملازمت اختیار کی۔ 1945ء میں روزنامہ ڈان دہلی کے ایڈیٹر مقررہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ڈان کراچی منتقل ہوا تو آپ بھی کراچی آ گئے۔ 1951ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستانی نمائندے کی حیثیت سے شرکت کی۔ 1952ء میں بین الاقوامی اقتصادی کانفرنس منعقدہ ماسکو میں شرکت کی۔ کچھ عرصہ پاکستان نیشنل کمیٹی انٹرنیشل پریس انسٹی ٹیوٹ اور کامن ویلتھ پریس یونین کی پاکستان شاخ کے صدر رہے۔ 1960ء میں آپ کو ہلال قائداعظم کا اعزاز دیا گیا۔ 1965ء میں مرکزی حکومت کے وزیر صنعت و حرفت بنائے گئے۔ انگریزی میں تین کتب شکوہ جواب شکوہ کا ترجمہ انڈیا گذشتہ دس سال اور ماسکو میں پندرہ دن کے مصنف ہیں۔


سوانح حیات

[ترمیم]

تعلیم اور سرکاری ملازمت

[ترمیم]

الطاف حسین 26 جنوری 1900 کو سلہٹ، ضلع سلہٹ، مشرقی بنگال (موجودہ بنگلہ دیش) کے ایک مسلم بنگالی زمیندار خاندان میں پیدا ہوئے۔ سلہٹ سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ کلکتہ گئے اور وہاں کلکتہ یونیورسٹی میں انگریزی زبان کی تعلیم حاصل کی۔[1] کلکتہ یونیورسٹی سے انھوں نے انگریزی میں بی اے کی ڈگری حاصل کی اور ڈھاکہ، مشرقی بنگال چلے گئے۔[1] وہاں انھوں نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں انگریزی ادب میں داخلہ لیا اور ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔[1]

تعلیم کے دوران، انھوں نے کلکتہ میونسپل کارپوریشن میں ملازمت اختیار کی، جہاں وہ 1942 سے 1943 تک پبلک انفارمیشن کے ڈائریکٹر کے طور پر کام کرتے رہے۔ بعد ازاں وہ بھارتی وزیر اطلاعات کے پریس مشیر بنے۔ اگرچہ وہ حکومت ہند کے تحت کام کر رہے تھے، انھوں نے اسٹیٹس مین اخبار میں "Through the Muslim Eye" کے عنوان سے عین المُلک کے قلمی نام سے سیاسی کالم لکھنا شروع کیا، جو مسلمانوں کے نقطہ نظر کی عکاسی کرتا تھا۔

تحریکِ پاکستان اور وزیرِ صنعت

[ترمیم]

انھوں نے جلد ہی بھارتی وزیر اطلاعات کی ذمہ داری چھوڑ دی اور اسٹیٹس مین اخبار میں "دارالاسلام" کے عنوان سے کالم لکھنے لگے، اس بار قلمی نام تھا شہید۔ بعد ازاں انھوں نے اسٹار آف انڈیا میں بھی لکھنا شروع کیا۔[2]

ان کی پُرجوش تحریروں نے محمد علی جناح (قائد اعظم) کی توجہ حاصل کی، جنھوں نے انھیں ممبئی میں ملاقات کے لیے مدعو کیا۔[2] جناح نے انھیں ڈان اخبار کا چیف ایڈیٹر بننے کی پیشکش کی، جسے انھوں نے قبول کیا۔[2] انھوں نے دہلی آفس کی ذمہ داری سنبھالی اور وہاں سے ڈان کی اشاعت شروع کی۔[2]

بطور چیف ایڈیٹر، وہ نمایاں ہو گئے اور جناح کے قریبی مشیروں میں شامل ہوئے۔ اس حیثیت میں انھوں نے تحریک پاکستان میں اہم کردار ادا کیا، جو جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے لیے ایک علاحدہ وطن کے قیام کی تحریک تھی۔[2] قیام پاکستان کے بعد، انھوں نے اپنا اسٹاف دہلی سے کراچی منتقل کیا اور 1947 سے 1965 تک ڈان کے ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔[3]

ان کا اثر، تحریکِ پاکستان میں ان کی شرکت اور جناح سے قربت یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ حکومتی حلقوں سے باہر سب سے بااثر افراد میں شامل تھے۔ انھوں نے مشرقی پاکستان کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔ کچھ عرصے کے لیے انھوں نے جامعہ کراچی میں شعبہ صحافت سے وابستگی اختیار کی اور تدریس کے فرائض انجام دیے۔

1959 میں ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے انھیں ہلالِ پاکستان سے نوازا۔ 1965 میں صدر ایوب خان نے انھیں حکومت میں شمولیت کی دعوت دی، جسے قبول کرکے انھوں نے سب کو حیران کر دیا۔[3] وہ پاکستان کے وزیر صنعت مقرر ہوئے اور صنعتی ترقی اور نجکاری کی نگرانی کی۔ وہ 1968 میں صحت کی خرابی کے باعث وزارت سے مستعفی ہو گئے۔[3]

وفات اور وراثت

[ترمیم]

الطاف حسین نے وفات سے 10 دن قبل وزیر صنعت کے عہدے سے استعفیٰ دیا۔ وہ 25 مئی 1968 کو انتقال کر گئے اور انھیں سرکاری اعزاز کے ساتھ ماڈل کالونی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ کراچی کی وہ سڑک جہاں ڈان اخبار کی اشاعت شروع ہوئی تھی، اب "الطاف حسین روڈ" کے نام سے جانی جاتی ہے۔

وہ نوجوان لکھنے والوں کے لیے ایک مثالی شخصیت تھے، جو قلمی مجاہد کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کی وفات کے آٹھ سال بعد ڈان اخبار نے ان کے بارے میں لکھا:

الطاف حسین بنیادی طور پر ایک مجاہد تھے؛ ان کا سب سے بڑا ہتھیار ان کا طاقتور قلم تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ان کی وابستگی مکمل تھی؛ تحریکِ پاکستان اور اس کے عظیم رہنماؤں کے لیے ان کی وفاداری غیر متزلزل تھی۔ ہر عظیم مجاہد کی طرح، وہ بہادری اور انتھک محنت کے ساتھ لڑے۔ ہر عظیم ایڈیٹر کی طرح، وہ تنقید اور محبت، خوف اور احترام، تعریف اور طنز کا سامنا کرتے رہے۔

الطاف حسین نے دہلی میں ڈان کے ایڈیٹر کے طور پر شمولیت اختیار کی اور تحریکِ پاکستان میں سرگرمی سے شامل ہوئے۔ ان کے مضامین جلد ہی مسلم لیگ کے خیالات کا اظہار بن گئے۔ انھوں نے جذبے، بے باکی، وضاحت اور استقامت کے ساتھ لکھا۔ ان کے ذریعے ڈان، لیگ کی سیاست کا مرکز بن گیا۔ یہ قائد اعظم کی سرپرستی میں اور لیاقت علی خان جیسے افراد کے تعاون سے شائع ہوتا تھا۔

الطاف حسین نے تن تنہا تمام کانگریسی اخبارات سے مقابلہ کیا اور کانگریس کیمپ میں خوف و ہراس پھیلا دیا۔

— 

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ^ ا ب پ Syed Muazzem Ali (11 فروری 2011)۔ "In Memoriam Altaf Husain: "The Maker and Breaker of the Governments and Powers""۔ Pakistan Link, USA۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-12-16
  2. ^ ا ب پ ت ٹ Staff writer۔ "Down Memory Lane: Altaf Hussain 1900–1968"۔ Pakistan Institute of Public Affairs۔ 2013-06-11 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-12-16
  3. ^ ا ب پ "Altaf Husain (1900–1968)"۔ Journalism Pakistan۔ 2020-04-23 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-01-02
  4. Editorial (25 مئی 1976)۔ "The Martyred: Altaf Husain"۔ Dawn Area Studies۔ اخذ شدہ بتاریخ 2013-12-16