مندرجات کا رخ کریں

عثمانستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
1909ء میں نوابی ریاست حیدرآباد کا نقشہ

عثمانستان (Osmanistan) چودھری رحمت علی کی طرف سے نوابی ریاست حیدرآباد کے لیے تجویز کردہ نام تھا۔ لیکن اسے کبھی عملی جامہ پہنایا نہیں جا سکا۔ یہ نام ایک آزاد ریاست کے لیے پیش کیا گیا تھا جو حیدرآباد کی نوابی ریاست کی جانشین کے طور پر قائم کی جانی تھی، جو برصغیر میں برطانوی ہند کی پزیڈنسیوں اور صوبوں میں برطانوی رخصتی سے پہلے موجود تھی۔ 1947ء میں ہندوستان کی آزادی سے قبل موجود نوابی ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ کسی نئے ڈومینین (یعنی پاکستان یا بھارت) میں شامل ہوں یا کچھ معاملات میں آزاد رہیں۔ حیدرآباد کے نظام نے ابتدا میں نہ بھارت میں شمولیت اختیار کی اور نہ پاکستان میں۔[1] بعد ازاں اس نے حیدرآباد کو ایک آزاد، خود مختار ریاست قرار دیا لیکن حکومتِ بھارت نے اس موقف کو قبول کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ حیدرآباد بھارت سے چاروں طرف گھرا ہوا تھا اور اسے سمندر تک رسائی حاصل نہیں تھی۔ جناح کی وفات کے فوراً بعد جب بھارتی فوج نے 13 ستمبر 1948ء کو اس کی نوابی ریاست پر دھاوا بولا (دیکھیے: آپریشن پولو) تو حیدرآباد کی غیر تیار فوج بھارتی فوج کے ہاتھوں شکست کھا گئی۔ اس کے بعد نظام نے حیدرآباد کی بھارت میں شمولیت قبول کر لی۔ سابق نوابی ریاست کو 1956ء میں دوبارہ منظم کیا گیا اور اس کے علاقے اب بھارت کی موجودہ ریاستیں تلنگانہ، مہاراشٹر اور کرناٹک میں شامل ہیں۔

تاریخ

[ترمیم]

برطانوی ہند کی تقسیم کے وقت اور ہندوستان کی نوابی ریاستوں پر برطانوی حکمرانی کے خاتمے کے وقت ریاستوں کو اختیار حاصل تھا کہ وہ کسی نئے ڈومینین (یعنی پاکستان یا بھارت) میں شامل ہوں یا آزاد رہیں جیسا کہ قانون آزادی ہند 1947ء کے آرٹیکل 2.4 میں طے پایا تھا۔

نوابی ریاست حیدرآباد ایک مسلم حکمران نظام عثمان علی خاں کی زیرِ قیادت ریاست تھی۔[2] مسلم اشرافیہ اور اتحاد المسلمین (ایک طاقتور نظام حامی مسلم جماعت) اس بات پر زور دیتے تھے کہ حیدرآباد کو آزاد و خود مختار ریاست کے طور پر برقرار رہنا چاہیے اور اسے بھارت اور پاکستان کے برابر مقام حاصل ہونا چاہیے۔

نظام نے اپنی ریاست کو آزاد رکھنے کا فیصلہ کیا اور فرمان جاری کیا کہ حیدرآباد آزاد رہے گا اور بھارت کے یونین میں شامل نہیں ہوگا[3] لیکن حکومتِ بھارت نے اس فرمان کو مسترد کرتے ہوئے اسے ”مشکوک قانون پرستانہ دعویٰ“ قرار دیا۔ اس کے وزیر کاظم رضوی نے آصفیہ پرچم لہرا کر اعلان کیا کہ یہ پرچم زمین پر خدا کی حکمرانی کی علامت ہے۔ حیدرآباد کے اخبار دکن کرانیکل نے 24 جون 1947ء کو خبر چھاپی: ”اعلیٰ حضرت قدر قدرت تقریباً 15 اگست 1947ء کو خود مختار حیثیت اور اختیارات سنبھالیں گے اس وقت تک توقع کی جا رہی ہے کہ بھارت اور پاکستان کے علاقے برٹش کامن ویلتھ کے تحت ڈومینین کی حیثیت اختیار کر لیں گے“۔[4] اس دوران لفظ ’عثمانِستان‘ کبھی استعمال نہیں ہوا۔

13 ستمبر 1948ء کو بھارتی فوج نے حیدرآباد پر حملہ کیا اور آصف جاہی فوج مزاحمت نہ کر سکی اور بھارتی فوج نے جلد ہی قابو پا لیا گیا اور آخری نظام حیدرآباد آصف سابع عثمان علی خاں کو بھارت میں شمولیت قبول کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

سکندر آباد میں سپہ سالار سيد احمد العيدروس (دائیں) ریاست حیدر آباد کی طرف سے جینت ناتھ چودھری (بائیں) کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کر رہے ہیں

چودھری رحمت علی کے نظریے میں عثمانِستان کا تصور آخرکار ترک کر دیا گیا کیونکہ یہ غیر عملی تھا کیونکہ حیدرآباد بھارت سے چاروں طرف گھرا ہوا تھا اور سمندر تک رسائی نہیں رکھتا تھا۔[5] سابق نوابی ریاست حیدرآباد کو 1956ء میں دوبارہ منظم کیا گیا اور اس کے علاقے اب بھارت کی موجودہ ریاستیں مہاراشٹر، کرناٹک اور تلنگانہ میں شامل ہیں۔

رحمت علی کا منصوبہ

[ترمیم]

چودھری رحمت علی کے پلان میں ابتدائی طور پر عثمانستان کا کوئی ذکر نہیں تھا۔ بعد ازاں 8 مارچ 1940ء کو انھوں نے پاکستان، بنگالستان (مشرقی بنگال) اور عثمانستان کے قیام کے لیے ایک نیا منصوبہ پیش کیا۔ مسلم لیگ کی جانب سے برطانوی تقسیم کے منصوبے کو 3 جون 1947ء کو قبول کرنے کے بعد انھوں نے چھ دن بعد ایک بیان جاری کیا جس کا عنوان تھا ”The Great Betrayal“ (سخت دھوکا) جس میں انھوں نے برطانوی منصوبے کو مسترد کرنے اور اپنے پاکستان منصوبے کو قبول کرنے کی اپیل کی تاکہ ”ہندوؤں کی بالا دستی کے سخت ظلم سے ہندوستانی مسلمانوں کو بچایا جا سکے۔“ آخرکار برطانوی منصوبہ قبول کر لیا گیا اور ان کا منصوبہ مذکورہ عملی وجوہات کی بنا پر مسترد کر دیا گیا۔[6]

چودھری رحمت علی نے اپنی جوانی کا بیشتر حصہ انگلینڈ میں گزارا اور پاکستان 6 اپریل 1948ء کو آئے۔ وہ فروری 1951ء میں انتقال کر گئے اور 20 فروری کو کیمبرج، برطانیہ کے نیومارکیٹ روڈ قبرستان میں دفن کیے گئے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. E.W.R. Lumby (1954), The Transfer of Power in India, 1945–1947 (بزبان انگریزی), London: George Allen and Unwin
  2. Phillips Talbot (1949), "Kashmir and Hyderabad", World Politics (بزبان انگریزی), Cambridge University Press, vol. 1, pp. 321–332, DOI:10.2307/2009033, JSTOR:2009033
  3. E.W.R. Lumby (1954), The Transfer of Power in India, 1945–1947 (بزبان انگریزی), London: George Allen and Unwin
  4. http://shodhganga.inflibnet.ac.in/bitstream/10603/1882/11/11_chapter7.pdf
  5. Stephen P. Cohen (21 Sep 2004). The Idea of Pakistan (بزبان انگریزی). Brookings Institution Press. ISBN:0815797613.
  6. Stephen P. Cohen (21 Sep 2004). The Idea of Pakistan (بزبان انگریزی). Brookings Institution Press. p. 52. ISBN:0815797613.