حکیم محمد سعید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حکیم محمد سعید
20واں حکومت سندھ
عہدہ سنبھالا
19 جولائی 1993 – 23 جنوری 1994
صدر فاروق لغاری
وزیر اعظم بینظیربھٹو
پیشرو محمود ہارون
جانشین محمود ہارون
ہمدرد فاؤنڈیشن کے صدر
عہدہ سنبھالا
23 اکتوبر 1969 – 17 اکتوبر 1998
Serving with Sadia Rashid
پیشرو Office created
جانشین سعدیہ راشد
Director of the Hamdard Laboratories
عہدہ سنبھالا
14 اگست 1948 – 17 اکتوبر 1998
پیشرو Office created
جانشین Dr. Ahsan Qadir Shafiq
Vice-Chancellor of جامعہ ہمدرد
عہدہ سنبھالا
14 اگست 1948 – 17 اکتوبر 1998
چانسلر محمد ہارون
پیشرو Office created
جانشین ڈاکٹر نسیم احمد خان
ذاتی تفصیلات
پیدائش حکیم محمد سعید
20 جنوری 1920 (1920-01-20)
نئی دہلی، برطانوی راج
وفات 17 اکتوبر 1998 (عمر 78 سال)
کراچی، صوبہ سندھ
مقام تدفین مدینۃ الحکمہ، کراچی
شہریت Flag of مملکت متحدہ British subject (1920–1948)
Flag of Pakistan.svg پاکستان (1948–1998)
قومیت Flag of Pakistan.svg پاکستان
سیاسی جماعت آزاد
اولاد سعدیہ راشد (بیٹی)
مادر علمی دہلی یونیورسٹی
Ankara University
ذریعہ معاش ہمدرد انسان، اسکالر، تصوف
پیشہ طبّی تحقیق
مذہب اسلام
قومی اعزازات نشان امتیاز (2002)
ویب سائٹ hakim-said.com.pk

حکیم محمد سعید (9 جنوری 1920ء تا 17 اکتوبر 1998ء) ایک مایہ ناز حکیم تھے جنہوں نے اسلامی دنیا اور پاکستان کے لیے اہم خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مذہب اور طب و حکمت پر 200 سے زائد کتب تصنیف و تالیف کیں۔ ہمدرد پاکستان اور ہمدرد یونیورسٹی انکے قائم کردہ اہم ادارے ہیں۔

ادبی خدمات[ترمیم]

حکیم سعید اور بچوں کا ادب[ترمیم]

حکیم سعید بچوں اور بچوں کے ادب سے بے حد شغف رکھتے تھے۔ اپنی شہادت تک وہ اپنے ہی شروع کردہ رسالے ہمدرد نونہال سے مکمل طور پر وابستہ رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نونہال ادب کے نام سے بچوں کے لیے کتب کا سلسلہ شروع کیا جو ابھی تک جاری ہے۔ اس سلسلے میں کئی مختلف موضوعات پر کتب شائع کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بہترین عالمی ادب کے تراجم بھی شائع کیے جاتے ہیں۔

شہادت[ترمیم]

17 اکتوبر 1998ء میں انہیں کراچی میں شہید کر دیا گیا جس کا الزام بعض لوگ متحدہ قومی موومنٹ MQM پر لگاتے ہیں اور اس سلسلے میں موجودہ گورنر سندھ عشرت العباد کا نام خاص طور پر لیا جاتا ہے مگر عشرت العباد کے گورنر سندھ بن جانے کے بعد یہ کیس دبا دیا گیا ہے۔ تاہم پہلے سندھ ہائی کورٹ اور اس کے بعد سپریم کورٹ نے بھی ایم کیو ایم کے تین کارکنوں کو جو اس کیس میں نامزد تھے، باعزت بری کیا ۔۔۔۔

جس وقت انہیں آرام باغ میں ان کے دواخانہ کے باہر وحشیانہ فائرنگ کرکے قتل کیا گیا وہ روزہ کی حالت میں تھے یوں انہوں نے روزہ کی حالت میں اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔ ان کا معمول تھا کہ وہ جس روز مریضوں کو دیکھنے جاتے روزہ رکھتے تھے چونکہ ان کا ایمان تھا کہ صرف دوا وجہ شفاء نہیں ہوتی۔ حکیم محمد سعید پاکستان کے بڑے شہروں میں ہفتہ وار مریضوں کو دیکھتے تھے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ مریضوں کا مفت علاج کرتے تھے۔ ان کا ادارہ ھمدرد بھی ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی تمام تر آمدنی ریسرچ اور دیگر فلاحی خدمات پر صرف ہوتی ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

سیاسی دفاتر
پیشتر
محمود ہارون
گورنر سندھ
1993–1994
اگلا
محمود ہارون