حکیم محمد سعید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حکیم محمد سعید
حکیم محمد سعید

معلومات شخصیت
پیدائش 20 جنوری 1920  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 17 اکتوبر 1998 (78 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات قتل  ویکی ڈیٹا پر طرزِ موت (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت آزاد  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد سعدیہ راشد  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
ناظم ہمدرد لیباٹریز   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
14 اگست 1948  – 17 اکتوبر 1998 
صدر ہمدرد فاؤنڈیشن   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
23 اکتوبر 1969  – 17 اکتوبر 1998 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
سعدیہ راشد  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
گورنر سندھ   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
19 جولا‎ئی 1993  – 23 جنوری 1994 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png محمود ہارون 
محمود ہارون  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
عملی زندگی
مادر علمی دہلی یونیورسٹی
جامعہ انقرہ  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ معالج بالمثل، مصنف، سیاست دان، استاد جامعہ  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو[2]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت ہمدرد فاؤنڈیشن، جامعہ سندھ، جامعۂ ہمدرد  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں جامعۂ ہمدرد، بیت الحکمہ، ہمدرد نونہال، ہمدرد صحت، ہمدرد فاؤنڈیشن  ویکی ڈیٹا پر کارہائے نمایاں (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر باضابطہ ویب سائٹ (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

حکیم محمد سعید (9 جنوری 1920ء تا 17 اکتوبر 1998ء) ایک مایہ ناز حکیم تھے جنہوں نے اسلامی دنیا اور پاکستان کے لیے اہم خدمات انجام دیں۔ انہوں نے مذہب اور طب و حکمت پر 200 سے زائد کتب تصنیف و تالیف کیں۔ ہمدرد پاکستان اور ہمدرد یونیورسٹی ان کے قائم کردہ اہم ادارے ہیں۔

حکیم محمد سعید کون[ترمیم]

حکیم محمد سعید کے آبائی خاندان کا تعلق چین کے شہر سنکیانگ تھا، جو سترھویں صدی کے اوائل میں پشاور منتقل ہوا، پھر ملتان اور وہاں سے دہلی منتقل ہوا اور حوض قاضی میں رہائش پزیر ہوا۔ وہیں پر حکیم سعید، حکیم عبدالمجید کے ہاں پیدا ہوئے۔ وہ پانچ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ دو سال کی عمر میں ہی والد کا سایہ اٹھ گیا۔ ان کی تربیت والدہ اور بڑے بھائی حکیم عبدالحمید نے کی حکیم سعید کو صحافت کی طرف رغبت تھی مگر بڑے بھائی کے کہنے پر حکمت کی طرف آ گئی انہوں نے 1936 میں طیبہ کالج دہلی میں شعبہ طب میں داخلہ لیا۔ 1940 میں تعلیم مکمل کر کے بطور معالج کام شروع کیا۔ انہی دنوں قرارداد پاکستان منظور ہوئی اور آزادی کی جدوجہد زور پکڑنے لگی، جس نے ان کے اندر بھی تحریک پیدا کی تقسیم کے ساتھ ہی انہوں نے برملا کہنا شروع کر دیا کہ میں مزاجا پاکستانی ہوں، یہاں رہنا مشکل ہو گا۔وہ پاکستان جا کر مسلمانوں کے لیے کچھ کرنا چاہتے تھے۔ نو جنوری 1948 کو حکیم سعید بیوی، بیٹی اور ماں کی دی گئی نشانی لیے دہلی سے نکلے اور کراچی پہنچ گئے۔

پاکستان آںے کے بعد[ترمیم]

جب وہ پاکستان پہنچے تو  کسی امیر خاندان کے چشم و چراغ نہیں بلکہ ایک عام سے انسان تھے۔ بالکل خالی ہاتھ، سب کچھ بھائی کو سونپ آئے تھے یہاں رہائش کے مسائل بھی تھے اورغم روزگار بھی، ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں تھے، ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کیا۔ کچھ روز بعد بارہ روپے ماہوار پر ایک دس بائی دس کا کمرہ حاصل کیا اور وہیں مطب کی بنیاد رکھی۔ کاغذ پر ’ہمدرد مطب‘ اپنے ہاتھ سے لکھ کر لگایا۔ ساڑھے بارہ روپے کا فرنیچر کرائے پر لیا اور یوں ان کے کام کا آغاز ہوا۔ ماں کی نشانی جو نعمت ثابت ہوئی ماں کی چادر اور تکیہ انہوں نے ہمیشہ اپنے پاس رکھا۔ اسی تکیے پر سوتے۔ شروع کے سخت ایام میں ان کی اہلیہ نعمت بیگم نے تکیے کا غلاف دھونے کے لیے اتارا اور ہاتھ سے روئی کو ٹھیک کیا تو محسوس ہوا کہ اس میں کچھ ہے۔ انہوں نے کھول کر دیکھا تو اندر نوٹ تھے جو قریباً 25000 روپے تھے۔ انہوں نے حکیم سعید کو دکھائے تو وہ بہت خوش ہوئے اور انہیں یہ بات سمجھ میں آئی کہ ماں نے یہ نشانی کیوں دی تھی۔ اسی پیسے سے، جو اس وقت کافی بڑی رقم تھی، انہوں نے مطب اور دواخانے کو وسعت دی اور دوسرے شہروں میں بھی شاخیں کھولیں۔ کام وسیع ہوتا گیا، ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کی شہرت پھیلتی گئی۔

مطب کے معمولات[ترمیم]

حکیم سعید کی خاص بات یہ تھی کہ وہ فیس نہیں لیتے تھے، مستحق مریضوں کو دوائی بھی مفت دیتے، بلکہ کچھ مریضوں کی پرچیوں پر لکھ دیتے کہ ’دوائی دینے کے ساتھ ساتھ مالی مدد بھی کر دی جائے۔‘بچے ان کی کمزوری تھے، ان کی دراز میں ٹافیوں کے پیکٹ اور کھلونے پڑے ہوتے کسی مریض کے ساتھ بچہ ہوتا یا مریض ہی بچہ ہوتا ان کو وہ چیزیں دیتے۔ مریضوں سے انتہائی نرمی سے بات کرتے اور موقع کی مناسبت سے کوئی چٹکلا بھی سنا دیتے جس سے مریض اپنا مرض بھول جاتا۔حکیم سعید کہا کرتے تھے ’معالج میں روحانیت کا عنصر ہونا چاہیے، جب وہ نبض چھوتا ہے تو انگلیوں سے شعاعیں نکل کر مریض میں منتقل ہو جاتی ہیں، اگر معالج پاکباز ہو گا تو مریض شفایاب ہو گا۔‘وہ روزے کے حامی تھے اور رمضان کے علاوہ بھی روزے رکھتے تھے۔ دوپہر کے کھانے کے سخت خلاف تھے بلکہ یہاں تک کہا کرتے تھے کہ ’میرا بس چلے تو لنچ پر پابندی لگا دوں۔‘وہ کہتے تھے ’تین وقت کا کھانا انسانی جسم اور ضروریات کے حساب سے مناسب نہیں۔ اس سے صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔‘

گورنر ہاؤس نہیں دواخانہ[ترمیم]

’اس عہدے کی وجہ سے میں مریضوں کی بہتر خدمت نہیں کر پا رہا‘ یہ جملہ انہوں نے گورنر سندھ کا عہدہ ملنے کے محض ایک ماہ بعد استعفے کے طور پر لکھا، جسے تین ماہ بعد منظور کر لیا گیا حالانکہ انہیں گورنرشپ پانچ سال کے لیے دی گئی تھی۔وزارت ملنے کے بعد بھی مطب جانے کا سلسلہ بند نہیں کیا۔انہوں نے ہمدرد دواخانہ، ہمدرد فاؤنڈیشن اور ہمدرد یونیورسٹی جیسے ادارے قائم کیے۔ ’نونہال‘ کے نام سے بچوں کے لیے رسالہ بھی نکالا اور دو سو سے زائد کتابیں لکھیں۔خدمات کے صلے میں انہیں ستارہ امتیاز سے بھی نوازا گیا۔

حکیم سعید اور بچوں کا ادب[ترمیم]

حکیم سعید بچوں اور بچوں کے ادب سے بے حد شغف رکھتے تھے۔اپنی شہادت تک وہ اپنے ہی شروع کردہ رسالے ہمدرد نونہال سے مکمل طور پر وابستہ رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نونہال ادب کے نام سے بچوں کے لیے کتب کا سلسلہ شروع کیا جو ابھی تک جاری ہے۔ اس سلسلے میں کئی مختلف موضوعات پر کتب شائع کی جاتی ہیں۔اس کے علاوہ بہترین عالمی ادب کے تراجم بھی شائع کیے جاتے ہیں۔

قتل[ترمیم]

17 اکتوبر 1998ء میں انہیں کراچی میں شہید کر دیا گیا جس وقت انہیں آرام باغ میں ان کے دواخانہ کے باہر وحشیانہ فائرنگ کرکے قتل کیا گیا وہ روزہ کی حالت میں تھے یوں انہوں نے روزہ کی حالت میں اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کی۔ ان کا معمول تھا کہ وہ جس روز مریضوں کو دیکھنے جاتے روزہ رکھتے تھے چونکہ ان کا ایمان تھا کہ صرف دوا وجہ شفاء نہیں ہوتی۔ حکیم محمد سعید پاکستان کے بڑے شہروں میں ہفتہ وار مریضوں کو دیکھتے تھے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ وہ مریضوں کا مفت علاج کرتے تھے۔ ان کا ادارہ ھمدرد بھی ایک غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی تمام تر آمدنی ریسرچ اور دیگر فلاحی خدمات پر صرف ہوتی ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6t72h2j — بنام: Hakim Said — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb121727621 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ

بیرونی روابط[ترمیم]

سیاسی عہدے
ماقبل 
محمود ہارون
گورنر سندھ
1993–1994
مابعد 
محمود ہارون