فخرالدین جی ابراہیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فخرالدین جی ابراہیم
اٹھارویں گورنر سندھ
صدر غلام اسحاق خان
وزیر اعظم بے نظیر بھٹو
Fleche-defaut-droite-gris-32.png قدیر الدین احمد
  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
مدت منصب
19 اپریل 1989 – 6 اگست 1990
پاکستان کے دوسرے اٹارنی جنرل
مدت منصب
20 دسمبر 1971 – 5 جولائی 1977
صدر ذوالفقار علی بھٹو
فضل الہی چوہدری
وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو
نائب یحیی بختیار
Fleche-defaut-droite-gris-32.png سيد شریف الدین پیرزادہ
سيد شریف الدین پیرزادہ Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش 12 فروری 1928 (91 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
احمد آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش کراچی
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
عملی زندگی
پیشہ منصف،  ووکیل،  وجنگ مخالف کارکن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات

فخر الدین جی ابراہیم جو عام طور پر فخرو بھائی کے نام سے جانے جاتے ہیں، پاکستان کے نامور قانون دان اور سابق گورنر سندھ ہیں۔ آخری عہدہ انتخابی لجنہ کی سربراہی تھا۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

2 فروری 1928ء کو برطانوی ہندوستان کے شہر گجرات میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک لوئر مڈل کلاس فیملی سے ہے۔ پڑھائی میں اچھے تھے ۔

حالات زندگی[ترمیم]

1952 میں انگلینڈ سے قانون پڑھ کر کراچی پاکستان آئے تو روزگار کی تلاش میں نکلے۔ ان دنوں زیڈ اے سلہری صاحب سینٹرل جیل کراچی میں نظر بند تھے۔ جرم ان کا یہ تھا کہ اس زمانے کے اخبار The Evening Time میں ایک کارٹون چھپا تھا جس میں دکھایا گیا تھا کہ مشرقی پاکستان آگ میں جل رہا ہے۔ اس کارٹون کی اشاعت پر حکومت وقت نے سلہری صاحب کو بند کیا ہوا تھا، سلہری صاحب فخرو بھائی کے بڑے مہربان تھے، انگلینڈ میں بھی وہ ان کا خیال رکھا کرتے تھے لہٰذا فخرو بھائی ان سے ملنے جیل جایا کرتے تھے۔ انہی دنوں ان کو مشہور سیاسی اور پرجوش نوجوان حسن ناصر کے مقدمے کی وکالت کا موقع ملا۔ جو جیل میں اپنے بعض ساتھیوں کے ساتھ قید تھے اور اپنے موقف پر ڈٹے رہنے اور معافی نہ مانگنے کی ضد کی وجہ سے قید تھے ۔

سیاسی حالات[ترمیم]

فخر الدین جج ابراہیم سپریم کورٹ کے جج کے علاوہ، سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، گورنر سندھ، اٹارنی جنرل اور وفاقی وزیر قانون کے عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔ گورنر، اٹارنی جنرل اور وزیر قانون کے عہدوں سے انھوں نے حکومت سے اختلافات کے بعد استعفا دے دیا تھا۔[1] 1981ء میں سپریم کورٹ کے ایڈہاک جج رہے ۔ جنرل ضیاالحق نے 1981ء میں ججوں کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کا حکم دیا۔ فخروبھائی نے انکار کر دیا اور یوں ’’نوکری‘‘ سے فارغ ہو گئے۔ انتہائی ایماندار، سیدھے اور کھرے انسان ہیں ۔[2]

انتخابی لجنہ[ترمیم]

14 جولائی 2012ء کوالیکشن کمیشن پاکستان کا سربراہ مقرر ہوئے۔ پاکستان کے عام انتخابات 2013ء انھیں کی سربراہی میں ہوئے۔ ضعف العمری کے باعث منتظمی میں ناکام نظر آئے۔ تحریک انصاف اور دوسری جماعتوں نے انتخابات میں دھاندلی کی شکایت کی۔ پھر پاکستان کے صدارتی انتخابات 2013ء تنازع کا شکار ہوئے اور پیپلز پارٹی نے سخت تنقید کی اور پورے انتخابی لجنہ سے استعفی دینے کا مطالبہ کر ڈالا۔ دل برداشتہ ہو کر فخرو بھائی نے صدارتی انتخابات کے فوری بعد 31 جولائی 2013ء کو استعفی دے دیا۔[3]

اعزازات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "فخرالدین جی ابراہیم کا نوٹیفیکیشن جاری". بی بی سی اردو. جمعـء 13 جولائ 2012. http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2012/07/120713_fakhruddin_cec_appoint_rh.shtml۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 مارچ 2013. 
  2. ایکسپریس اردو،جاوید چودھری کالم" ہا‘ہا‘ہا"
  3. "Chief Election Commissioner Fakhruddin G Ebrahim resigns"۔ ڈان۔ 31 جولائی 2013ء۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  4. "86 سالہ نوجوان، فخرالدین جی ابراہیم" (اردو میں). سعید پرویز (کراچی: ایکسپریس اردو). منگل 29 جنوری 2013. http://www.express.pk/story/84060/۔ اخذ کردہ بتاریخ 26 مارچ 2013.