مملکت آصفیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
ریاست حیدرآباد
State of Hyderabad
హైదరాబాద్ రాష్ట్రం
ಹೈದರಾಬಾದ್ ಪ್ರಾಂತ್ಯದ हैदराबाद राज्य
نوابی ریاست برطانوی ہند (1803–1947)
غیر تسلیم شدہ ریاست (1947–1948)

 

1803–1948
 

پرچم قومی نشان
حیدرآباد (گہرا سبز) اور صوبہ بیرات ریاست حیدرآباد کا حصی نہیں لیکن نظام کے زیر اثر 1853 تا 1903 (ہلکا سبز).
دارالحکومت اورنگ آباد 1724 تا 1763 حیدر آباد 1763 تا 1948
زبانیں دکنی, مراٹھی, تیلگو, فارسی, کنڑا
مذہب اسلام
حکومت نوابی ریاست (1803–1948)
صوبہ ڈومنین بھارت (1948–1950)
ریاست جمہوریہ بھارت (1950–1956)
نظام
 - 1720–48 قمر الدین خان (اول)
 - 1911–48 عثمان علی خان (آخر)
وزیر اعظم
 - 1724–1730 Iwaz Khan (اول)
 - 1947–1948 میر لائق علی (آخر)
تاریخ
 - قیام 1803
 - تلنگانہ بغاوت 1946
 - آپریشن پولو 18 ستمبر 1948
 - تقسیم 1 نومبر 1956ء
رقبہ 215,339 مربع کلومیٹر (83,143 مربع میل)
سکہ حیدرآبادی روپیہ
Warning: Value specified for "continent" does not comply

دہلی کی مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد مسلمانوں کی جو خود مختار ریاستيں بر صغیر میں قائم ہوئیں ان میں سب سے بڑی اور پائیدار حیدر آباد دکن کی مملکت آصفیہ (Hyderabad State) تھی۔ اس مملکت کے بانی نظام الملک آصف جاہ تھے اور اسی نام کی نسبت سے اس کو مملکت آصفیہ یا آصف جاہی مملکت کہا جاتا ہے۔ آصف جاہی مملکت کے حکمرانوں نے بادشاہت کا کبھی دعویٰ نہیں کیا۔ وہ خود کو نظام کہلاتے تھے اور وہ جب تک آزاد رہے مغل بادشاہ کی بالادستی تسلیم کرتے رہے اور اسی کے نام کا خطبہ اور سکہ جاری رکھا اور مسند نشینی کے وقت اس سے فرمان حاصل کرتے تھے۔ اس لحاظ سے دکن کی مملکت آصفیہ دراصل مغلیہ سلطنت ہی تھی جو دہلی کے زوال کے بعد دکن میں منتقل ہو گئی تھی۔ اس کے دور میں مغلیہ نظام حکومت نے اور مغلیہ سلطنت کے تحت پرورش پانے والی تہذیب نے دکن میں رواج پایا۔

نظام الملک[ترمیم]

از 1724ء تا 1748ء

نظام الملک کا اصل نام میر قمر الدین تھا اور یہ نام خود شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے رکھا تھا۔ نظام الملک کے اجداد کا تعلق ترکستان سے تھا۔ انہوں نے عالمگیر کی زیر نگرانی تربیت پائی تھی اور اپنی عادات و اطوار میں اور اپنی صلاحیتوں میں اس سے بہت ملتے جلتے تھے۔ نظام الملک میں وہ تمام صلاحیتں تھیں جو سلطنت مغلیہ کے زوال کو روک سکتی تھیں اور اگر ان کو موقع ملتا تو نظام الملک برصغیر میں وہی کردار ادا کرسکتے تھے جو سلطنت عثمانیہ میں سلیمان اعظم کے بعد وزیراعظم محمد صوقوللی اور محمد کوپریلی اور احمد کوپریلی نے ادا کیا۔ ان کو جب محمد شاہ کے دور میں 1722ء میں ہندوستان کا وزیراعظم بنایا گیا تو انہوں نے زوال سلطنت کو روکنے کے لیے ضروری اصلاحات کرنا چاہیں اور جب بادشاہ اور ان کے نا اہل مصاحبین نے ان اصلاحات کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں تو نظام الملک بد دل ہو کر دکن چلے گئے جہاں کے چھ صوبوں کا ان کو صوبہ دار بنادیا گیا تھا۔ یہاں انہوں نے ایک خود مختار حکمران کی حیثیت سے حکومت کی، مگر وہ مغل بادشاہ کا اتنا لحاظ کرتے تھے کہ اس کے حکم پر دہلی پہنچ جاتے تھے، چنانچہ نادر شاہ کے حملے کے موقع پر انہوں نے دہلی جاکر مغل بادشاہ کے حقوق کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔

نظام الملک نے جو وسیع ریاست قائم کی وہ دریائے نربدا سے راس کماری تک پھیلی ہوئی تھی اور مہاراشٹر کے مغربی اور شمال مشرقی حصوں اور موجودہ کیرالا کے علاوہ یہ سارا علاقہ ان کے قبضے میں تھا۔ حیدر آباد، اورنگ آباد، احمد نگر، بیجا پور، ترچناپلی، تنجور اور مدورا مملکت آصف جاہی کے مشہور شہر تھے۔ مملکت کا رقبہ تین لاکھ مربع میل سے کم نہ تھا۔ نظام الملک نے مغلیہ سلطنت کے بہت بڑے حصے کو مرہٹوں کی تباہ کاریوں سے محفوظ کردیا تھا اور ایک ایسے وقت میں جبکہ پورے بر صغیر میں انتشار پھیلا ہوا تھا انہوں نے دکن میں امن و امان کی فضا قائم کی۔

نظام الملک ایک دیانتدار، دیندار اور صاحب کردار حکمران تھے۔ ان کی انتظامی صلاحیت اور تدبر کا مورخین نے کھل کر اعتراف کیا ہے۔ دکن میں نظام آباد کا شہر انہی کا آباد کیا ہوا ہے۔ ان کی علمی اور ادبی سرپرستی کی وجہ سے دارالحکومت حیدر آباد علم و ادب کا مرکز بن گیا۔ بر صغیر کی اسلامی تاریخ میں اورنگ زیب کے بعد ہم جن تین حکمرانوں کو عظیم کہہ سکتے ہیں ان میں ایک نظام الملک ہیں اور باقی دو حیدر علی اور ٹیپو سلطان۔

جانشین[ترمیم]

نظام الملک آصف جاہ کے انتقال کے بعد ان کے بیٹوں ناصر جنگ اور مظفر جنگ کی باہمی خانہ جنگی سے مملکت آصفیہ کو بڑا نقصان پہنچا۔ انہوں نے اقتدار حاصل کرنے کے لیے انگریزوں اور فرانسیسیوں کا تعاون حاصل کیا اور اسی طرح انہوں نے پہلی مرتبہ یورپی قوموں کو بر صغیر کی سیاست میں مداخلت کرنے کا موقع فراہم کیا اور انگریزی اقتدار کے لیے راستہ ہموار کیا۔ اس خانہ جنگی سے دوسرا نقصان یہ ہوا کہ شمالی سر کار، کرناٹک اور جنوب کے کئی علاقے جن میں میسور بھی شامل تھا، نظام کے اقتدار سے باہر نکل گئے اور ریاست کے مشرقی اور شمالی حصوں پر مرہٹے قابض ہو گئے۔ اس طرح نظام الملک کے انتقال کے بعد 15 سال کے اندر ہی ریاست کی حدود نصف رہ گئیں۔

نظام علی خاں[ترمیم]

بعد کے حکمرانوں میں نظام علی خاں (1762ء تا 1803ء) کا 40 سالہ طویل دور اس لحاظ سے قابل ذکر ہے کہ اس نے باقی ماندہ ریاست کو استحکام بخشا لیکن حیدر علی اور ٹیپو سلطان سے نظام علی خاں کی لڑائیاں بر صغیر میں اسلامی اقتدار کے لیے تباہ کن ثابت ہوئیں۔ حیدر علی ٹیپو سلطان نے نظام علی خاں کے ساتھ متحدہ محاذ بنا کر انگریزوں کو نکالنے کا جو منصوبہ تیار کیا تھا اگر نظام علی خاں اس میں تعاون کرتےتو شاید آج بر صغیر کی تاریخ مختلف ہوتی۔ لیکن ٹیپو سلطان سے تعاون کرنے کے بجائے نظام علی خان نے 1798ء میں انگریزوں کی فوجی امداد کے نظام Subsidiary System کو قبول کرکے انگریزوں کی بالادستی قبول کرلی اور اس طرح حیدر آباد کی آصف جاہی مملکت اپنے قیام کے 74 سال بعد انگریزوں کی ماتحت ریاست بن گئی۔ یہ وہی نظام تھا جس کو قبول کرنے سے ٹیپو سلطان نے انکار کردیا تھا اور اس کے نتیجے میں انگریزوں کے حملے کا مردانہ وار مقابلہ کرکے جان دے دی۔

نظام علی خان کی مصلحت آمیز پالیسی نے اس کی جان بھی بچالی اور ریاست کو بھی محفوظ کرلیا۔ 1799ء میں ٹیپو سلطان کی شہادت کے ساتھ انگریزوں کا سب سے طاقتور حریف ختم ہو گیا اور نظام علی خاں ان کے مقابلے میں بے بس ہو گیا۔ اس کی رہی سہی آزادی 1800ء میں ختم کردی گئی۔ اب حیدر آباد برطانوی ہند کی ایک محکوم ریاست بن گئی۔

ٹیپو سلطان کا خط نظام الملک کے نام[ترمیم]

میر نظام علی خان کا داماد نواب مہا بت جنگ کا دیوان اسد علی خان صلح کا پیغام لے کر ٹیپو سلطان کے پاس پہنچتا ہے تو ٹیپو سلطان اس کی واپسی پر اپنے ایلچی محمد غیاث کو نظام الملک کے نام ایک خط لکھ کر روانہ کرتے ہیں۔

جناب عالی!

آداب میں ٹیپو سلطان بن حیدر علی خان بہادر آپ کو یہ بتا دینا بہتر اور ضروری سمجھتا ہوں کہ میں ملک کا ایک ادنیٰ خادم ہوں اور اپنے ملک کو اپنی ماں کا درجہ دیتا ہوں، اور میری فوج اور علاقے کے ہر حب الوطن کو وطن پر قربان کر کے بھی اگر ملک اور قوم کو بچا سکا تو یہ میری خوش نصیبی ہو گی۔ اصل بات تو یہ ہے کہ میرے ملک میں رہنے والے ہر فرد کو ملک کا خادم ہونا چاہیے، لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ مرہٹوں کے ساتھ مل کر اپنی ہی ملک کے باشندوں کو تباہ کرنے ، ملک کو کھوکھلا کرنے اور اسکی معاشی اور ثقافتی حالات کو تباہ و تاراج کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ معلوم ہو کہ آپ دونوں کی ملی بھگت کی وجہ سے میرا ملک اور وطن پامال اور میری رعایا کو شکستہ حال کیا جا رہا ہے۔ میں نے آپ کو رازداری میں یہ بھی سمجھا یا تھا کہ اگر آپ اور میں دونوں مل کر ہم خیال بن جاتے ہیں تو مرہٹوں کی کیا مجال کہ وہ ہماری ریاستوں کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھ سکیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہی ہے کہ اپنی عیاری اور چالاکی کی وجہ سے انگریز آپ کو مجھ سے ملنے نہیں دیتے اور آپکے دل میں کدورت بھرتے آ رہے ہیں۔ اور تعجب ہے کہ آپ اس بات کوسمجھ نہیں رہے ہیں۔وہ آپ کو اکسا رہے ہیں کہ آپ مرہٹوں کے ساتھ مل کر میرے خلاف فوج کشی کرتے رہیں۔ اگر بات آپ کو سمجھ میں آ جا تی ہے تو میں یہ مشورہ دوں گا کہ آپ کی اور میری دوستی امن اور آشتی میں بدل سکتی ہے تو اس ایک بات پر کہ آپ کے خاندان کے لڑکے، بھتیجے، بیٹوں کومیرے خاندان کے لڑکیوں کے ساتھ اور میرے بھتیجے، بیٹوں کو آپ کے خاندان کی لڑکیوں کے ساتھ بیاہا جائے تاکہ دونوں ریاستوں میں دوستی بڑھ جائے۔ فقط ۔ ٹیپو سلطان۔[1]

تاریخ[ترمیم]

آصف Jahi کے آباء و اجداد سلطنت وسطی ایشیاء میں سمرقند سے بھارت کے پاس آئے، لیکن خاندان اصل میں بغداد کی طرف سے شروع. 1724 میں، دکن مغل گورنر، آصف جاہ، نظام الملک، قمر الدین خان، دکن کا ایک خود مختار حکمران کے طور پر خود کو قائم کیا. حیدرآباد دارالحکومت بن گیا اور بعد میں وہ پیدا کیا تھا ریاست کی ہے کہ اس کا نام قرضے. پہلے نظام کے جانشینوں قریب اکثر ان کے دشمنوں، مراٹھا صریح انچرچھک، میسور کے ٹیپو سلطان کی اپنے زیر نگیں لانا میں ان کی مدد کی، اور فرانسیسی، برطانوی استعماری طاقتوں کے اتحادی بن گیا. بعد کے سالوں میں، نظام کی فوج ہمیشہ برٹش انڈین آرمی کی طرف سے کئے تمام اہم مہمات میں حصہ لیا. اپنی فوج کی بڑی تعداد پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں حصہ لیا. نظام کے لئے حاصل ان کی شراکت کو شکر گزار شہنشاہ سے القاب اور اعزازات کو غیر مساوی. ریاست برطانوی انڈین ایمپائر کے اندر اندر تمام نوابی ریاستوں میں سب سے بڑا اور وزیر اعظم تھا. پاکستان اور بھارت آزادی کی بعد،، عثمان علی خان آصف جاہ ہفتم حیدرآباد کی نظام حیدرآباد کے ریاست نیا بھارت کی ڈومنین یا ڈومنین شامل نہیں ہو گا کہ اس کا فیصلہ پاکستان. اس کا فیصلہ پاکستان کے ساتھ نہیں بلکہ بھارت کے ساتھ حق پایا. نظام کی ریاست ایک خوشحال سے ایک تھا اور فوج، ریلوے اور ایئرلائن نیٹ ورک، پوسٹل نظام اور ریڈیو نیٹ ورک کے اپنے تھا. 15th اگست، 1947 پر، بھارت خود کو ایک آزاد قوم کا اعلان کر دیا. اور اس طرح حیدرآباد کیا.

بھارت کی آزادی کی تحریک کے وقت، حیدرآباد ریاست بھارت میں تمام نوابی ریاستوں میں سب سے بڑا تھا. نظام کافی یک علاقے کے 82.698 mi² (214،190 مربع کلومیٹر) کا احاطہ تک زمین پر حکومت اور بیلاروس سے بڑا تھا لیکن گیانا کے مقابلے میں چھوٹا تھا. نظام کی اکثریت (83 فیصد) ہندو تھا جس کے (1941 کی مردم شماری کے مطابق) تقریبا 16،34 لاکھ افراد کی آبادی پر مشتمل ایک میٹرو پر حکومت. برطانوی انہوں نے انکار کر دیا یا جو کچھ ایک ہندو بھارت یا ایک اتحادی مسلم پاکستان تو میں شامل کرنے کے لئے کسی بھی دباؤ کو مغلوب کیا جا کرنے آتمسمرپن سے 1947. میں برصغیر سے واپس لے لیا جب یہ فوائد،، ایک آزاد وجود کی کوشش نظام قائل برطانوی متحدہ کے دولت مشترکہ کے اندر اندر ایک الگ برطانیہ کا اپنا بنانے کے لئے ترجیح دیتے ہیں. ریاست حیدرآباد تھا اپنے فوج، ایئر لائن، ٹیلی کمیونیکیشن کے نظام، ریلوے نیٹ ورک، ای میل کے نظام، کرنسی اور ریڈیو براڈکاسٹنگ سروس. ایک آزاد خود مختار ریاست کے خیال کی طرف سے حیران صحیح بھارت کے دل میں، نائب وزیر اعظم سردار پٹیل لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے ساتھ مشورہ اور وہ مجبور کرنے سہارا لئے بغیر چیلنج کو حل کرنے پٹیل مشورہ دیا. مصیبت خمیر اور اقتدار پر قبضہ کرنے مسلمان بنیاد پرستوں کے بعض گروپوں کی طرف سے کوششوں، بھارت کے بعد حیدرآباد کوئی فوجی کارروائی کے خلاف لے جایا جائے گا یقین دہانی کرائی ہے جس میں ایک اسٹینڈ اسٹل ایگریمنٹ، پیش کرنے کا فیصلہ. جون 1948 میں، بھارت چھوڑنے سے پہلے، ماؤنٹ بیٹن بھارت کے تحت حیدرآباد ایک خود مختار ڈومنین قوم کی حیثیت دی جس معاہدے معاہدے کے سربراہان مجوزہ. سودا اس کی مسلح افواج کی پابندی اور اس کے رضاکارانہ طور پر افواج کے ملتوی ضرورت. حیدرآباد اپنی سرزمین پر حکومت کرنے کی اجازت دی جائے گی، لیکن اس کی خارجہ بھارتی حکومت کی طرف سے سنبھالا جائے گا. معاہدے بھارت کی طرف سے دستخط، لیکن نظام انکار کر دیا تھا. ان مذاکرات کئے جا رہے تھے، ہندو ے اور مسلم کے درمیان فرقہ وارانہ فسادات حیدرآباد میں باہر توڑ دیا تھا. ریاست بھی خود مسلح مصروف تھا اور گوا میں پاکستان سے اسلحہ اور پرتگالی انتظامیہ وصول کیا گیا تھا. جیسے ہی بھارتی حکومت حیدرآباد خود مسلح ہیں اور پاکستان کے ساتھ اتحاد کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا کہ معلومات حاصل کے طور پر، بھارت زبردستی ایک نام نہاد، پولیس کارروائی کی طرف سے حیدرآباد ملحقہ کرنے کا فیصلہ کیا. حیدرآباد کے 4th ستمبر وزیراعظم میر لئیق علی کرنے کا اعلان حیدرآباد اسمبلی ایک وفد معین نواز جنگ کی طرف سے سربراہی میں، نیویارک میں، جھیل کی کامیابی کے لئے چھوڑنے کے لئے کے بارے میں تھا کہ.[2] نظام بھی برطانوی لیبر حکومت 1945-1951 کے لئے اور ، کامیابی کے بغیر ، اپیل پاکستان کے بادشاہ کی مدد کے لئے ، "فوری طور پر مداخلت " کی طرف سے حیدرآباد ان کی ذمہ داریوں اور وعدوں کو پورا کرنے . حیدرآباد صرف سر کی حمایت حاصل تھی . ونسٹن چرچل اور برطانوی کنزرویٹوز .[3] بھارت اور حیدرآباد کے درمیان جنگ 13th ستمبر 1948 کو شروع ہوئی اور نظام کی فوج بھارتی فوج کے سامنے اعتراف کیا اور حیدرآباد بھارت کا حصہ بن گئے ، جس کے بعد 18th ستمبر کو ختم ہو گئی . پانچ دن تک جاری رہی جس میں یہ جنگ زندگی اور ہلاکتوں کی نقصان کے نتیجے میں 32 افراد جاں بحق اور 97 زخمی بھارتی طرف اور 490 ہلاک اور 122 حیدرآبادی جانب زخمی ہوئے کہ اندازہ لگایا گیا ہے . اوراس اکتوبر 1948 6 ، پاکستان کے وزیر خارجہ ظفراللہ ، چارٹر ' پاکستان اقوام متحدہ کے آرٹیکل 31 کے مطابق حیدرآباد سوال کی بحث میں حصہ لینے کے لئے کی اجازت دی جائے کہ سلامتی کونسل اقوام متحدہ کے صدر کی درخواست .[4] پاکستان کی حکومت یہ اب بھی قرارداد کے لئے زیر التواء ہے کہاں آرٹیکل 31 ، کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کیس لیا؛ یہ فرماتے ہیں:

"اقوام متحدہ کے ایک رکن ہے اور اس کے مفادات خاص طور پر ایک ترقی یا ہے یا اقوام متحدہ کے ایک رکن نہیں ہے اور میں ووٹ کے بغیر شرکت کی دعوت دی جا سکتا ہے اس سوال کے تحت ایک تنازعہ پارٹی ہے کہ کسی بھی ریاست کی طرف سے متاثر کیا محسوس ہوتا ہے کہ کسی بھی ریاست سوال ( ے) . بالترتیب "کے بحث.

کوئی سرکاری ریفرنڈم منعقد کیا گیا تھا اور حکمران قبول نہیں کیا جہاں ، بھارت الحاق کرنے پر مجبور فوجی کارروائی کے بارے میں لایا حیدرآباد ، میں ، خاموش ہے خیال کیا جاتا تھا بنیادی طور پر ہندو آبادی کی منظوری . الحاق کے ہر معاملے میں ایک مختلف ترک ، لیکن اسی طرح مقصد ، علاقوں کی یعنی الحاق تھا . فوج کے استعمال فورس بھارت کی پالیسی میں صرف مستقل مزاجی فراہم . پرانی مغل لئے سب سے بہترین تھا کہ تمام برقرار رکھا جو ایک انتہائی مہذب اور ذہنی شاندار اشرافیہ کی طرف سے حکومت ایک بار اتنی اچھی طرح سے اس کے مذہبی اور نسلی رواداری کے لئے متنبہ کیا گیا تھا کہ ریاست ، ، نہیں تھا .

علم و ادب کی سر پرستی[ترمیم]

Hyderabad state in 1909

حیدر آباد چونکہ ایک دولت مند ریاست تھی اور اس کے حکمران علم دوست تھے اس لیے مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد بر صغیر میں علم و ادب کی سب سے زيادہ سرپرستی ریاست حیدر آباد میں کی گئی۔ نادر شاہ کے حملے کے دہلی کی تباہی کے بعد حیدر آباد وہ واحد شہر تھا جہاں سب سے زیادہ امن و سکون تھا اور جہاں کے حکمراں علم و ادب کے سب کے سب سے بڑے سرپرست تھے۔ چنانچہ بر صغیر کے ہر حصے سے اہل علم اور اہل کمال مسلمان کھنچ کھنچ کر حیدر آباد پہنچ گئے۔

اٹھارویں صدی کے ممتاز مصنفین میں جن کا حیدرآباد سے تعلق رہا شاہ نواز خاں (1700ء تا 1758ء) اور غلام علی آزاد (1704ء اور 1785ء) کے نام بہت نمایاں ہیں۔ شاہ نواز خاں ریاست کے ایک ممتاز عہدیدار تھے اور کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں سب سے اہم ماثر الامراء ہے۔ یہ دہلی کی مغلیہ سلطنت کے امراء اور عہدیداروں کا سب سے بڑا تذکرہ ہے۔ اس میں تقریباً تمام امیروں کے حالات ملتے ہیں۔ غلام علی آزاد بھی اپنے دور کے بہت بڑے سوانح نگار تھے۔ وہ سر و آزاد، ماثر الکرام، خزانہ عامرہ اور سیحہ المرجان نامی کتابوں کے مصنف تھے جو آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ ان میں ادیبوں، شاعروں اور اولیاء اللہ کے حالات ہیں۔

اس دور کے جنوبی ہند کے علماء میں مولانا بحر العلوم (متوفی 1819ء) کا نام بھی بہت نمایاں ہے۔ ان کا تعلق کرناٹک سے تھا جو شروع میں ریاست حیدر آباد کا ایک صوبہ تھا۔ وہاں کے نواب محمد علی خاں ان کے سب سے بڑے سر پرست تھے۔ بحر العلوم کا خطاب بھی نواب محمد علی نے دیا تھا۔ وہ اس زمانے میں دینی علوم کے سب سے بڑے علم سمجھے جاتے تھے۔

بعد کے دور میں جب حیدر آباد میں برطانوی بالادستی قائم ہو گئی، جن علماء اور ادیبوں نے حیدر آباد سے وابستہ ہو کر علمی کام کیے ان میں شبلی نعمانی، مولوی چراغ علی، سید علی بلگرامی، ڈپٹی نذیر احمد، عبدالحلیم شرر، مولانا مناظر احسن گیلانی ، مولانا ظفر علی خاں اورجوش ملیح آبادی کے نام قابل ذکر ہیں۔ شاعروں کی کثیر تعداد اس کے علاوہ ہے۔

علمی کارنامے[ترمیم]

ریاست حیدر آباد کا ایک اور بڑا کارنامہ جامعہ عثمانیہ کا قیام ہے۔ 1856ء میں دارالعلوم کی حیثیت سے اس کا آغاز ہوا تھا، 1918ء میں اس کو جدید طرز کی جامعہ کی حیثیت دے دی گئی۔ جامعہ عثمانیہ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ پہلی جامعہ تھی جس نے اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا۔ مسلمانوں کے لیے اسلامی تعلیم اور ہندوؤں کے لیے اخلاقی تعلیم لازمی تھی۔ جامعہ عثمانیہ کے تحت ایک شعبہ تالیف و ترجمہ قائم کیا گیا تھا جس میں عربی، فارسی، انگریزی اور فرانسیسی کے ہر علم و فن پر کئی سو کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا اور اس طرح نہ صرف جامعہ کی درسی ضروریات کو پورا کیا گیا بلکہ اردو کے علمی ذخیرے میں قیمتی اضافہ کیا گیا۔ شعبۂ تالیف و ترجمہ نے جن علمی اور فنی اصطلاحات کا اردو میں ترجمہ کیا ان کی تعداد 5 لاکھ ہے۔

حیدرآباد میں دائرۃ المعارف کے نام سے ایک اور علمی ادارہ قائم تھا جس کا کام عربی کی نایات قلمی کتابوں کو جمع کرنا اور ان کی تصحیح کرکے ان کو شائع کرنا تھا۔ اس طرح ادارے نے تقریباً پانچ سو کتابیں شائع کیں۔ ان کتابوں کی وجہ سے حیدر آباد کا نام پوری اسلامی دنیا اور خاص طور پر عرب ممالک میں سر پرست علوم کی حیثیت سے عام ہو گیا۔

حیدر آباد کا کتب خانۂ آصفیہ بر صغیر کے سب سے بڑے کتب خانوں میں شمار ہوتا ہے۔ خاص طور پر عربی اور فارسی کتابوں کے قلمی نسخوں کے لحاظ سے یہ اب بھی بر صغیر کا سب سے بڑا کتب خانہ ہے۔ اس میں قلمی نسخوں کی تعداد 50 ہزار سے زیادہ ہے۔ مخطوطات کی اتنی بڑی تعداد استنبول کے کتب خانۂ سلیمانیہ کے علاوہ شاید دنیا کے کسی اور کتب خانے میں موجود نہیں۔ مختصر یہ کہ بیسویں صدی کے نصف اول میں بر صغیر میں اسلامی علوم اور ادب کا سب سے بڑا مرکز حیدر آباد تھا۔

حیدر آباد کی علمی سرپرستی صرف ریاست تک محدود نہیں تھی، بر صغیر کے تقریباً تمام تعلیمی، علمی، مذہبی اور معاشرتی اداروں کوبھی ریاست کی طرف سے امداد ملتی تھی۔ دارالعلوم دیوبند، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کو باقاعدہ مالی امداد ملتی تھی۔ علاہ ازیں بے شمار صاحب کمال اور اہل علم ایسے تھے جن کے ریاست کی طرف سے وظیفے مقرر تھے۔ امداد کا یہ سلسلہ اسلامی ممالک تک پھیلا ہوا تھا اور اس میں مسلم اور غیر مسلم سب شامل تھے۔

حکمران مملکت آصفیہ (حیدر آباد)[ترمیم]

تصویر خطاب نام پیدايش دور حکومت وفات
Asaf Jah I.jpg نظام‌الملک آصف جاہ اول میر قمر الدین خان 20 اگست 1671ء 31 جولائی 1720ء تا 1 جون 1748ء 1748ء
ناصرجنگ میر احمد علی خان 26 فروری 1712ء 1 جون 1748ء تا 16 دسمبر 1750ء 16 دسمبر 1750ء
Dupleix meeting the Soudhabar of the Deccan.jpg مظفرجنگ میر حدایت محی الدین سعداللہ خان ؟ 16 دسمبر 1750ء تا 13 فروری 1751ء 13 فروری 1751ء
صلابت جنگ میر سعید محمد خان 24 نومبر 1718ء 13 فروری 1751ء تا 8 جولائی 1762ء 16 ستمبر 1763ء
نظام‌الملک آصف جاہ دوم میر نظام علی خان 7 مارچ 1734ء 8 جولائی 1762ء تا 6 اگست 1803ء 6 اگست 1803ء
سکندر جاہ ،آصف جاہ تریہم میر اکبر علی خان 11 نومبر 1768ء 6 اگست 1803ء تا 21 مئی 1829ء 21 مئی 1829ء
Nasir-ud-dawlah, Nizam of Hyderabad 1794-1857.jpg ناصر الدولہ ،آصف جاہ چارہم میر فرقندہ علی خان 25 اپریل 1794ء 21 مئی 1829ء تا 16 مئی 1857ء 16 مئی 1857ء
افضل الدولہ ،آصف جاہ پنجم میر تاھنیت علی خان 11 اکتوبر 1827ء 16 مئی 1857ء تا 26 فروری 1869ء 26 فروری 1869ء
Asaf Jah VI.jpg آصف جاہ شیشم میر محبوب علی خان 17 اگست 1866ء 26 فروری 1869ء تا 29 اگست 1911ء 29 اگست 1911ء
Mir osman ali khan.JPG آصف جاہ ہفتم میر عثمان علی خان 6 اپریل 1886ء 31 اگست 1911ء تا 1956ء 24 فروری 1967ء
حیدرآباد کی حالت علامات
سرکاری زبان اردو حیدرآباد پاکستان دولت مشترکہ ریاست
ریاست جانور Blackbuck Blackbuck male female.jpg
ریاست پرندوں Indian roller Coracias benghalensis - Kaeng Krachan.jpg
ریاست درخت نیم Neem tree.JPG
ریاست پھول Blue Water lily Blue water lilly flower.jpg
آئین سابق انتظامی اکائیوں ڈویژن
اورنگ آباد
گلبرگہ
میڈک
وارنگل

امریکہ 1956 ء میں دوبارہ سے منظم کیا گیا تھا کے بعد ، اورنگ آباد کا حصہ بن گیا مہاراشٹر ، اور گلبرگہ کرناٹک ، باقی بن گیا آندھرا پردیش کا حصہ بن گیا .


  1. ^ مردِ حریت سلطان ٹیپو، ڈاکٹر وائی، یس، خان ، بنگلور، صفحہ: 176 ناشر: کرناٹک اردو اکادمی بنگلور
  2. ^ Benichou (2000), p. 230
  3. ^ Benichou (2000), p. 231
  4. ^ United Nations Security Council Document S/1031