مملکت آصفیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Featured article candidate.svg
یہ مضمون منتخب مقالہ بنائے جانے کے لیے امیدوار ہے۔ اس لیے اس مضمون کو خاص توجہ کی ضرورت ہے۔
ریاست کا پرچم

دہلی کی مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد مسلمانوں کی جو خود مختار ریاستيں بر صغیر میں قائم ہوئیں ان میں سب سے بڑی اور پائیدار حیدر آباد دکن کی مملکت آصفیہ (Hyderabad State) تھی۔ اس مملکت کے بانی نظام الملک آصف جاہ تھے اور اسی نام کی نسبت سے اس کو مملکت آصفیہ یا آصف جاہی مملکت کہا جاتا ہے۔ آصف جاہی مملکت کے حکمرانوں نے بادشاہت کا کبھی دعویٰ نہیں کیا۔ وہ خود کو نظام کہلاتے تھے اور وہ جب تک آزاد رہے مغل بادشاہ کی بالادستی تسلیم کرتے رہے اور اسی کے نام کا خطبہ اور سکہ جاری رکھا اور مسند نشینی کے وقت اس سے فرمان حاصل کرتے تھے۔ اس لحاظ سے دکن کی مملکت آصفیہ دراصل مغلیہ سلطنت ہی تھی جو دہلی کے زوال کے بعد دکن میں منتقل ہو گئی تھی۔ اس کے دور میں مغلیہ نظام حکومت نے اور مغلیہ سلطنت کے تحت پرورش پانے والی تہذیب نے دکن میں رواج پایا۔

نظام الملک[ترمیم]

از 1724ء تا 1748ء

نظام الملک کا اصل نام میر قمر الدین تھا اور یہ نام خود شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے رکھا تھا۔ نظام الملک کے اجداد کا تعلق ترکستان سے تھا۔ انہوں نے عالمگیر کی زیر نگرانی تربیت پائی تھی اور اپنی عادات و اطوار میں اور اپنی صلاحیتوں میں اس سے بہت ملتے جلتے تھے۔ نظام الملک میں وہ تمام صلاحیتں تھیں جو سلطنت مغلیہ کے زوال کو روک سکتی تھیں اور اگر ان کو موقع ملتا تو نظام الملک برصغیر میں وہی کردار ادا کرسکتے تھے جو سلطنت عثمانیہ میں سلیمان اعظم کے بعد وزیراعظم محمد صوقوللی اور محمد کوپریلی اور احمد کوپریلی نے ادا کیا۔ ان کو جب محمد شاہ کے دور میں 1722ء میں ہندوستان کا وزیراعظم بنایا گیا تو انہوں نے زوال سلطنت کو روکنے کے لیے ضروری اصلاحات کرنا چاہیں اور جب بادشاہ اور ان کے نا اہل مصاحبین نے ان اصلاحات کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں تو نظام الملک بد دل ہو کر دکن چلے گئے جہاں کے چھ صوبوں کا ان کو صوبہ دار بنادیا گیا تھا۔ یہاں انہوں نے ایک خود مختار حکمران کی حیثیت سے حکومت کی، مگر وہ مغل بادشاہ کا اتنا لحاظ کرتے تھے کہ اس کے حکم پر دہلی پہنچ جاتے تھے، چنانچہ نادر شاہ کے حملے کے موقع پر انہوں نے دہلی جاکر مغل بادشاہ کے حقوق کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔

نظام الملک نے جو وسیع ریاست قائم کی وہ دریائے نربدا سے راس کماری تک پھیلی ہوئی تھی اور مہاراشٹر کے مغربی اور شمال مشرقی حصوں اور موجودہ کیرالا کے علاوہ یہ سارا علاقہ ان کے قبضے میں تھا۔ حیدر آباد، اورنگ آباد، احمد نگر، بیجا پور، ترچناپلی، تنجور اور مدورا مملکت آصف جاہی کے مشہور شہر تھے۔ مملکت کا رقبہ تین لاکھ مربع میل سے کم نہ تھا۔ نظام الملک نے مغلیہ سلطنت کے بہت بڑے حصے کو مرہٹوں کی تباہ کاریوں سے محفوظ کردیا تھا اور ایک ایسے وقت میں جبکہ پورے بر صغیر میں انتشار پھیلا ہوا تھا انہوں نے دکن میں امن و امان کی فضا قائم کی۔

نظام الملک ایک دیانتدار، دیندار اور صاحب کردار حکمران تھے۔ ان کی انتظامی صلاحیت اور تدبر کا مورخین نے کھل کر اعتراف کیا ہے۔ دکن میں نظام آباد کا شہر انہی کا آباد کیا ہوا ہے۔ ان کی علمی اور ادبی سرپرستی کی وجہ سے دارالحکومت حیدر آباد علم و ادب کا مرکز بن گیا۔ بر صغیر کی اسلامی تاریخ میں اورنگ زیب کے بعد ہم جن تین حکمرانوں کو عظیم کہہ سکتے ہیں ان میں ایک نظام الملک ہیں اور باقی دو حیدر علی اور ٹیپو سلطان۔

جانشیں[ترمیم]

نظام الملک آصف جاہ کے انتقال کے بعد ان کے بیٹوں ناصر جنگ اور مظفر جنگ کی باہمی خانہ جنگی سے مملکت آصفیہ کو بڑا نقصان پہنچا۔ انہوں نے اقتدار حاصل کرنے کے لیے انگریزوں اور فرانسیسیوں کا تعاون حاصل کیا اور اسی طرح انہوں نے پہلی مرتبہ یورپی قوموں کو بر صغیر کی سیاست میں مداخلت کرنے کا موقع فراہم کیا اور انگریزی اقتدار کے لیے راستہ ہموار کیا۔ اس خانہ جنگی سے دوسرا نقصان یہ ہوا کہ شمالی سر کار، کرناٹک اور جنوب کے کئی علاقے جن میں میسور بھی شامل تھا، نظام کے اقتدار سے باہر نکل گئے اور ریاست کے مشرقی اور شمالی حصوں پر مرہٹے قابض ہو گئے۔ اس طرح نظام الملک کے انتقال کے بعد 15 سال کے اندر ہی ریاست کی حدود نصف رہ گئیں۔

نظام علی خاں[ترمیم]

بعد کے حکمرانوں میں نظام علی خاں (1762ء تا 1803ء) کا 40 سالہ طویل دور اس لحاظ سے قابل ذکر ہے کہ اس نے باقی ماندہ ریاست کو استحکام بخشا لیکن حیدر علی اور ٹیپو سلطان سے نظام علی خاں کی لڑائیاں بر صغیر میں اسلامی اقتدار کے لیے تباہ کن ثابت ہوئیں۔ حیدر علی ٹیپو سلطان نے نظام علی خاں کے ساتھ متحدہ محاذ بنا کر انگریزوں کو نکالنے کا جو منصوبہ تیار کیا تھا اگر نظام علی خاں اس میں تعاون کرتا تو شاید آج بر صغیر کی تاریخ مختلف ہوتی۔ لیکن ٹیپو سلطان سے تعاون کرنے کے بجائے نظام علی خان نے 1798ء میں انگریزوں کی فوجی امداد کے نظام Subsidiary System کو قبول کرکے انگریزوں کی بالادستی قبول کرلی اور اس طرح حیدر آباد کی آصف جاہی مملکت اپنے قیام کے 74 سال بعد انگریزوں کی ماتحت ریاست بن گئی۔ یہ وہی نظام تھا جس کو قبول کرنے سے ٹیپو سلطان نے انکار کردیا تھا اور اس کے نتیجے میں انگریزوں کے حملے کا مردانہ وار مقابلہ کرکے جان دے دی۔

نظام علی خان کی مصلحت آمیز پالیسی نے اس کی جان بھی بچالی اور ریاست کو بھی محفوظ کرلیا۔ 1799ء میں ٹیپو سلطان کی شہادت کے ساتھ انگریزوں کا سب سے طاقتور حریف ختم ہو گیا اور نظام علی خاں ان کے مقابلے میں بے بس ہو گیا۔ اس کی رہی سہی آزادی 1800ء میں ختم کردی گئی۔ اب حیدر آباد برطانوی ہند کی ایک محکوم ریاست بن گئی۔

تقسیم ہند[ترمیم]

برطانوی ہند کی محکوم ریاست کی حیثیت سے حیدر آباد کا وجود تقریباً ڈیڑھ سو سال اور قائم رہا۔ رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے حیدر آباد برطانوی ہند کی سب سے بڑی ریاست تھی۔ اگست 1947ء میں جب بر صغیر سے برطانیہ کی بالادستی ختم ہوئی تو ریاست کے آخری نواب میر عثمان علی خاں نے معاہدے کے مطابق حیدر آباد کو ایک آزاد ریاست قرار دیا لیکن ہندوستان کی حکومت نے اس کی آزاد حیثیت کو تسلیم نہیں کیا اور ستمبر 1948ء میں فوجی کاروائی کرکے حیدر آباد کو ہندوستان میں ضم کرلیا۔ عثمان علی خان کو دیش پرمکھ کے نام سے چند سال ریاست کا سربراہ رہنے دیا گیا۔ اس کے بعد ریاست کو لسانی بنیادوں پر تین حصوں میں تقسیم کردیا گیا اور یہ حصے آندھرا پردیش، مہاراشٹر اور میسور کے متصلہ صوبوں میں ضم کردیے گئے۔ اس طرح حیدرآباد کی اس تاریخی ریاست کا 232 سال بعد خاتمہ ہو گیا۔ میر عثمانی علی خان کا انتقال 1956ء میں ہوا۔

علم و ادب کی سر پرستی[ترمیم]

Hyderabad state in 1909

حیدر آباد چونکہ ایک دولت مند ریاست تھی اور اس کے حکمران علم دوست تھے اس لیے مغلیہ سلطنت کے زوال کے بعد بر صغیر میں علم و ادب کی سب سے زيادہ سرپرستی ریاست حیدر آباد میں کی گئی۔ نادر شاہ کے حملے کے دہلی کی تباہی کے بعد حیدر آباد وہ واحد شہر تھا جہاں سب سے زیادہ امن و سکون تھا اور جہاں کے حکمراں علم و ادب کے سب کے سب سے بڑے سرپرست تھے۔ چنانچہ بر صغیر کے ہر حصے سے اہل علم اور اہل کمال مسلمان کھنچ کھنچ کر حیدر آباد پہنچ گئے۔

اٹھارہویں صدی کے ممتاز مصنفین میں جن کا حیدرآباد سے تعلق رہا شاہ نواز خاں (1700ء تا 1758ء) اور غلام علی آزاد (1704ء اور 1785ء) کے نام بہت نمایاں ہیں۔ شاہ نواز خاں ریاست کے ایک ممتاز عہدیدار تھے اور کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں سب سے اہم ماثر الامراء ہے۔ یہ دہلی کی مغلیہ سلطنت کے امراء اور عہدیداروں کا سب سے بڑا تذکرہ ہے۔ اس میں تقریباً تمام امیروں کے حالات ملتے ہیں۔ غلام علی آزاد بھی اپنے دور کے بہت بڑے سوانح نگار تھے۔ وہ سر و آزاد، ماثر الکرام، خزانہ عامرہ اور سیحہ المرجان نامی کتابوں کے مصنف تھے جو آج بھی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ ان میں ادیبوں، شاعروں اور اولیاء اللہ کے حالات ہیں۔

اس دور کے جنوبی ہند کے علماء میں مولانا بحر العلوم (متوفی 1819ء) کا نام بھی بہت نمایاں ہے۔ ان کا تعلق کرناٹک سے تھا جو شروع میں ریاست حیدر آباد کا ایک صوبہ تھا۔ وہاں کے نواب محمد علی خاں ان کے سب سے بڑے سر پرست تھے۔ بحر العلوم کا خطاب بھی نواب محمد علی نے دیا تھا۔ وہ اس زمانے میں دینی علوم کے سب سے بڑے علم سمجھے جاتے تھے۔

بعد کے دور میں جب حیدر آباد میں برطانوی بالادستی قائم ہو گئی، جن علماء اور ادیبوں نے حیدر آباد سے وابستہ ہو کر علمی کام کیے ان میں شبلی نعمانی، مولوی چراغ علی، سید علی بلگرامی، ڈپٹی نذیر احمد، عبدالحلیم شرر، مولانا مناظر احسن گیلانی اور مولانا ظفر علی خاں کے نام قابل ذکر ہیں۔ شاعروں کی کثیر تعداد اس کے علاوہ ہے۔

علمی کارنامے[ترمیم]

ریاست حیدر آباد کا ایک اور بڑا کارنامہ جامعہ عثمانیہ کا قیام ہے۔ 1856ء میں دارالعلوم کی حیثیت سے اس کا آغاز ہوا تھا، 1918ء میں اس کو جدید طرز کی جامعہ کی حیثیت دے دی گئی۔ جامعہ عثمانیہ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ پہلی جامعہ تھی جس نے اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا۔ مسلمانوں کے لیے اسلامی تعلیم اور ہندوؤں کے لیے اخلاقی تعلیم لازمی تھی۔ جامعہ عثمانیہ کے تحت ایک شعبہ تالیف و ترجمہ قائم کیا گیا تھا جس میں عربی، فارسی، انگریزی اور فرانسیسی کے ہر علم و فن پر کئی سو کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا اور اس طرح نہ صرف جامعہ کی درسی ضروریات کو پورا کیا گیا بلکہ اردو کے علمی ذخیرے میں قیمتی اضافہ کیا گیا۔ شعبۂ تالیف و ترجمہ نے جن علمی اور فنی اصطلاحات کا اردو میں ترجمہ کیا ان کی تعداد 5 لاکھ ہے۔

حیدرآباد میں دائرۃ المعارف کے نام سے ایک اور علمی ادارہ قائم تھا جس کا کام عربی کی نایات قلمی کتابوں کو جمع کرنا اور ان کو تصحیح کرکے ان کو شائع کرنا تھا۔ اس طرح ادارے نے تقریباً پانچ سو کتابیں شائع کیں۔ ان کتابوں کی وجہ سے حیدر آباد کا نام پوری اسلامی دنیا اور خاص طور پر عرب ممالک میں سر پرست علوم کی حیثیت سے عام ہو گیا۔

حیدر آباد کا کتب خانۂ آصفیہ بر صغیر کے سب سے بڑے کتب خانوں میں شمار ہوتا ہے۔ خاص طور پر عربی اور فارسی کتابوں کے قلمی نسخوں کے لحاظ سے یہ اب بھی بر صغیر کا سب سے بڑا کتب خانہ ہے۔ اس میں قلمی نسخوں کی تعداد 50 ہزار سے زیادہ ہے۔ مخطوطات کی اتنی بڑی تعداد استنبول کے کتب خانۂ سلیمانیہ کے علاوہ شاید دنیا کے کسی اور کتب خانے میں موجود نہیں۔ مختصر یہ کہ بیسویں صدی کے نصف اول میں بر صغیر میں اسلامی علوم اور ادب کا سب سے بڑا مرکز حیدر آباد تھا۔

حیدر آباد کی علمی سرپرستی صرف ریاست تک محدود نہیں تھی، بر صغیر کے تقریباً تمام تعلیمی، علمی، مذہبی اور معاشرتی اداروں کوبھی ریاست کی طرف سے امداد ملتی تھی۔ دارالعلوم دیوبند، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کو باقاعدہ مالی امداد ملتی تھی۔ علاہ ازیں بے شمار صاحب کمال اور اہل علم ایسے تھے جن کے ریاست کی طرف سے وظیفے مقرر تھے۔ امداد کا یہ سلسلہ اسلامی ممالک تک پھیلا ہوا تھا اور اس میں مسلم اور غیر مسلم سب شامل تھے۔


حکمران مملکت آصفیہ (حیدر آباد)[ترمیم]

تصویر خطاب نام پیدايش دور حکومت وفات
Asaf Jah I.jpg نظام‌الملک آصف جاہ اول میر قمر الدین خان 20 اگست 1671ء 31 جولائی 1720 تا 1 جون 1748ء 1748
ناصرجنگ میر احمد علی خان 26 فروری 1712ء 1 جون 1748ء تا 16 دسمبر 1750ء 16 دسمبر ء1750
Dupleix meeting the Soudhabar of the Deccan.jpg مظفرجنگ میر حدایت محی الدین سعداللہ خان ؟ 16 دسمبر 1750ء تا 13 فروری 1751ء 13 فروری 1751ء
صلابت جنگ میر سعید محمد خان 24 نومبر 1718ء 13 فروری 1751ء تا 8 جولائی 1762ء 16 ستمبر 1763ء
نظام‌الملک آصف جاہ دوم میر نظام علی خان 7 مارچ 1734ء 8 جولائی 1762ء تا 6 اگست 1803ء 6 اگست 1803ء
سکندر جاہ ،آصف جاہ تریہم میر اکبر علی خان 11 نومبر 1768ء 6 اگست 1803ء تا 21 مئی 1829ء 21 مئی 1829ء
Nasir-ud-dawlah, Nizam of Hyderabad 1794-1857.jpg ناصر الدولہ ،آصف جاہ چارہم میر فرقندہ علی خان 25 اپریل 1794ء 21 مئی 1829ء تا 16 مئی 1857ء 16 مئی 1857ء
افضل الدولہ ،آصف جاہ پنجم میر تاھنیت علی خان 11 اکتوبر 1827ء 16 مئی 1857ء تا 26 فروری 1869ء 26 فروری 1869ء
Asaf Jah VI.jpg آصف جاہ شیشم میر محبوب علی خان 17 اگست 1866ء 26 فروری 1869ء تا 29 اگست 1911ء 29 اگست 1911ء
NezamHaydarabad.jpg آصف جاہ ہفتم میر عثمان علی خان 6 اپریل 1886ء 31 اگست 1911ء تا 1956ء 24 فروری 1967ء