نیم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اضغط هنا للاطلاع على كيفية قراءة التصنيف

نیم

Neem (Azadirachta indica) in Hyderabad W IMG 6976.jpg
 

صورت حال   ویکی ڈیٹا پر (P141) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
! colspan = 2 | حیثیت تحفظ
کم تشویشناک انواع[1]
اسمیاتی درجہ نوع  ویکی ڈیٹا پر (P105) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت بندی  ویکی ڈیٹا پر (P171) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
superdomain  حیویات
عالم اعلی  حقیقی المرکزیہ
مملکت  نباتات
ذیلی مملکت  Viridiplantae
ذیلی مملکت  سٹرپٹوفیٹا
جزو گروہ  Embryophyte
تحتی گروہ  نباتات عروقی
ذیلی تقسیم  تخم بردار پودا
طبقہ  Sapindales
خاندان  مہو گنی
جنس  نيم
سائنسی نام
Azadirachta indica[2]  ویکی ڈیٹا پر (P225) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Adrien-Henri de Jussieu  ویکی ڈیٹا پر (P225) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
  ویکی ڈیٹا پر (P935) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نیم بکائن کی طرح ایک درخت جو گھنا سایہ رکھتا ہے، تاہم اس پر کرم بہت ہوتے ہیں۔ یہ درخت بکائن کی طرح محض سایہ کی خاطر ہر دلعزیز نہیں ہے بلکہ اس کے فوائد اور بھی ہیں۔ نیم کا پھل بھی بکائن کی طرح ہوتا ہے جس کو نمکولی کہتے ہیں۔ جب یہ پکنے پر آتا ہے تو اس میں قدرے مٹھاس سی آجاتی ہے۔ اس لیے پرندے اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ یہ درخت، بڑ کی مانند چاروں طرف پھیلتا ہے۔ اس کا تنا بھی موٹا ہوتا ہے۔ جب یہ درخت پرانا ہو جاتا ہے تو اس میں سے ایک قسم کی رطوبت خارج ہونا شروع ہو جاتی ہے جو نہایت شیریں ہوتی ہے۔ لوگ اس کو جمع کرکے بطور خوراک استعمال کرتے ہیں۔ اس کے پتے بھی طبی خواص رکھتے ہیں۔ اس کے جوشاندے میں نہانے سے خارش دور ہو جاتی ہے۔ زخموں پر بھی باندھے جاتے ہیں۔ یہ بہترین جراثیم کش درخت ہے اور جراثیم کشی میں استعمال ہوتا ہے۔ جوشاندہ معدے کو بھی درست کرتا اور خون کو صاف کرتا ہے۔ لیکن کڑوا ضرور ہوتا ہے۔ اس کی لکڑی بکائن سے مضبوط ہوتی ہے۔ اگر تختوں سے صندق بنا کر کپڑے رکھے جائیں تو ان کو کیڑا نہیں لگتا۔

نیم کا درخت

اس درخت کے پتے بکائن کی طرح دندانہ دار ہوتے ہیں لیکن ایک رخ سے ذرا پھٹے ہوتے ہیں اور بکائن کے پتوں کے خلاف خوشوں میں نکل آتے ہیں جس سے یہ درخت فوراً پہچانا جاتا ہے۔ یہ درخت طبی خواص کے لحاظ سے بہت مفید ہے اور پاک و ہند میں بخوبی پھلتا پھولتا ہے۔

استعمالات[ترمیم]

روایتی طور پر نیم کا استعمال مختلف بیماریوں سے بچنے اور ان کے علاج کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔ بچوں میں بخار یا چیچک جیسی بیماری کی صورت میں نیم کی پتّیاں ان کے بستر پر بچھائی جاتی ہیں۔

خارش، تیزابیت اور سورائسس جیسی بیماری میں نیم کو جلد پر لگانے سے آرام ملتا ہے اور ابال کر پینے سے اسہال کے مریض کو فائدہ ہوتا ہے۔

نیم کی چھاؤں کا درجہ حرارت دیگر درختوں کی چھاؤں سے کم ہوتا ہے

گرمیوں میں سردیوں کے کپڑوں کو کیڑوں سے بچانے کے لیے نیم کی پتیوں کو کپڑے میں رکھا جا تا ہے۔ خشک سالی کے سبب جن علاقوں میں چارہ نہیں اگتا وہاں جانور نیم کی پتّیاں کھاتے ہیں اور نمکولی سے عمدہ قدرتی کھاد بنائی جاتی ہے۔

نیم کا سب سے زیادہ اور عام استعمال مسواک کے طور پر کیا جاتا ہے۔

جدید سائنٹفک دریافت کے مطابق نیم کی چھال سے نکلنے والا تیل بہت اہم ہوتا ہے اوراس میں موجود بعض زہریلے مادوں کا استعمال فنگس کے لیے بہت مفید ہوتا ہے۔ پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی وہ پہلے سائنس دان ہیں، جو نیم کے درخت سے کیڑے مار،پھپوندی کش اور بیکڑیا مارنے والے اجزاءتیار کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 1942ء میں انھوں نے نیم کے تیل سے تین مرکبات نمب-ین، نمب-نین اور نمب-دین تیار کیے۔ یہ مرکبات نیم میں کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔

چند تصاویر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. بین الاقوامی اتحاد برائے تحفظ قدرت ٹیکسن شناخت: 61793521 — اخذ شدہ بتاریخ: 12 جولا‎ئی 2020 — عنوان : The IUCN Red List of Threatened Species 2020.2
  2.   ویکی ڈیٹا پر (P830) کی خاصیت میں تبدیلی کریں"معرف Azadirachta indica دائراۃ المعارف لائف سے ماخوذ". eol.org. اخذ شدہ بتاریخ 12 جولا‎ئی 2020ء. 

بیرونی روابط[ترمیم]