سلیم الزماں صدیقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


سلیم الزماں صدیقی
معلومات شخصیت
پیدائش 19 اکتوبر 1897  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لکھنؤ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 14 اپریل 1994 (97 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کراچی  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش کراچی، سندھ
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
رکن رائل سوسائٹی  ویکی ڈیٹا پر رکن (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مقام_تدریس پاکستان جوہری توانائی کمیشن (PAEC)
Pakistan Council of Scientific and Industrial Research (PCSI)
H.E.J Institute of Chemistry
جامعہ کراچی
پاکستان اکیڈمی آف سائنسز
مادر علمی جامعہ علی گڑھ
گوئٹے یونیورسٹی فرینکفرٹ
یونیورسٹی کالج لندن  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈاکٹری مشیر Julius Von Bram
پیشہ کیمیادان، سائنس دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل نامیاتی کیمیا
اعزازات
Hilal-i-Imtiaz Pakistan.svg ہلال امتیاز  (1980)
Pride of Performance (ribbon).gif تمغائے حسن کارکردگی  (1966)
Sitara-i-Imtiaz Pakistan.svg ستارۂ امتیاز  (1962)
رائل سوسائٹی فیلو  (1961)
عالمی سائنس اکادمی فیلو  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی (پیدائش: 19 اکتوبر 1897ء (بارہ بنکی)- 14 اپریل 1994ء) پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ کیمیائی سائنس دان تھے جو "نیم" اور پھول دار پودوں پر تحقیق کی وجہ سے مشہور ہیں۔ آپ "ایچ ای جے انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری" کے بانی ڈائریکٹر تھے۔ سائنسی تخصیص کے علاوہ آپ مصور اور شاعر بھی تھے اور آپ کی مصوری کی نمائش ریاستہائے متحدہ امریکا، ہندوستان، جرمنی اور پاکستان میں ہوچکی ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

سلیم الزماں صدیقی 19 اکتوبر، 1897ء کو لکھنؤ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم لکھنؤ ٔ میں حاصل کرنے کے بعد وہ علی گڑھ آ گئے۔ انہوں نے 1919ء میں علی گڑھ سے گریجویشن کیا۔ اُس وقت تک وہ ایم۔ اے۔ او۔ کالج تھا۔ یونیورسٹی 1920ء میں بنی۔ پھر وہ لندن آ گئے اور کچھ دنوں یونیورسٹی کالج لندن میں رہنے کے بعد فرینکفرٹ چلے گئے جہاں سے انہوں نے 1927ء میں پی ایچ ڈی کی تکمیل کی۔ ہندوستان واپس آتے ہی وہ دہلی آ گئے اور یہاں کے طبیہ کالج میں حکیم اجمل خاں کی قیادت میں شعبۂ تحقیق برائے آیورویدک اور یونانی طب قائم کیا۔ یہ شعبہ 1931ء میں قائم ہو ا تھا۔ 1940ء میں انہوں نے انڈین کائونسل آف سائینٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ میں کام شروع کیا اور وہاں دس برس رہے۔ قائدِ ملت لیاقت علی خاں کے اصرار پر وہ 1951ء میں پاکستان آ گئے۔ حکومت پاکستان کے ایما پر انہوں نے پاکستان کاؤنسل آف انڈسٹریل اینڈ سائینٹفک ریسرچ قائم کی جس کا مرکز کراچی میں تھا اور اس کی شاخیں ڈھاکہ، راجشاہی، چٹاگانگ، لاہور اور پشاور میں بھی قائم کیں۔ 1966ء میں وہ کائونسل سے ریٹائر ہوئے اور کراچی یونیورسٹی میں حاجی ابراہیم جمال انسٹی ٹیوٹ آف کیمکل ریسرچ قائم کیا۔ 1990ء تک وہ وہاں رہے اور اس کے بعد بھی پرائیویٹ کام کرتے رہے۔

ہندوستان میں تحقیق کے دوران سلیم الزماں نے ہندوستانی پودہ سرپاگندھا ﴿Rauvolfiaserpentina﴾ سے ایک دوا بنائی جس کا نام انہوں نے حکیم اجمل کی یاد میں اجملین رکھا۔ اس کا کیمیائی فارمولا (C21H24N2O3)ہے۔ یہ دل کی غیر منظم دھڑکنوں (ARRYTHMIA) کا علاج کرتی ہے۔ انہوں نے نیم کے درخت، اس کی چھال اور اس کے پھل یعنی نمکوری پر تحقیق کی۔ انہوں نے نیم کے تیل سے تین دوائیں بنائیں اور انکا نام نیمبین، نیمبیدین اور نیمبینین رکھا۔ انہوں نے بتا یا کہ نیمبیدین میں جراثیم کُش اثرات ہوتے ہیں، اس طرح سے ان کی تحقیق نے پہلی بار یونانی اور آیورویدک طب کو جدید کیمسٹری میں متعارف کروایا۔ 1961ء میں وہ رائل سوسائٹی کے ارکان منتخب ہوئے۔ سوویٹ اکیڈمی آف سائنس نے انکو ایک گولڈ میڈل دیا۔ ا ور حکومت برطانیہ نے 1946ء میں انکو او۔ بی۔ ای۔ کا خطاب دیا۔ پاکستان میں سلیم الزماں کی خدمات کوبہت سراہا گیا۔ 1953ء میں وہ پاکستان اکیڈمی آف سائنس کے فیلو قرار پائے۔ 1958ء میں انکو تمغۂ پاکستان ملا۔ 1962ء میں انکو ستارۂ امتیاز ملا۔ 1966ء میں انکو صدر پاکستان کا امتیازی انعام صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی دیا گیا۔ 1980ء میں انکو ہلال امتیاز ملا۔ سلیم الزماں صدیقی تھرڈ ورلڈ اکیڈمی آف سائنس کے اساسی رکن بھی رہے۔ ان کی پانچویں برسی پر پاکستان پوسٹ نے انکا یادگاری ٹکٹ جاری کیا۔ یہ قراردادِ پاکستان کی حمایت کرنے والے چوہدری خلیق الزماں صدیقی کے چھوٹے بھائی تھے۔

ان کے مطابق ہرمل نامی جڑی بوٹی میں غالباٗ بارہ فیصد تک بے رنگ بے بو اور بے ذائقہ خوردنی آئل ہوتا ہے جس پر اگر کام کیا جائے تو ہماری مارکیٹ کی ضرورت بہت حد تک پوری ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹرعطاءالرحمِن جب پی ایچ ڈی کے لیے باہر جانا چاہتے تھے تو ان کی یونیورسٹی نے شرط رکھی تھی کہ اگر وہ ڈاکٹر صدیقی سے لیٹر لکھوا لائیں تو انکو داخلہ دے دیا جائے گا۔ بعد ازاں ڈاکٹر عطاالرحمان انہی کے قائم کردہ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر بھی رہے۔

چاند یا چھوٹی چندن نامی بوٹی سے انہوں نے متعدد الکلائڈ دریافت کیے ۔۔۔۔۔ ان میں سے ایک الکلائڈ کا نام اجملین رکھا گیا تھا ۔۔۔۔۔ اس وقت وہ حکیم اجمل خان کی لیبارٹری میں ہی تحقیق کر رہے تھے ۔۔۔۔۔۔ چھوٹی چندن کا بایولوجیکل نام راولفیا ہے۔ ۔۔۔۔ اس کے علاوہ انہوں نے نیم پر بھی قابل قدر تحقیق کی۔ اجملین اور آئسو اجملین جیسے الکلائڈ امراض قلب خصوصاً Arrhythmia کے علاج میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر الکلائڈ ذہنی امراض کے علاج میں کارآمد ہیں۔ نیم کے پتوں، چھال اور جڑوں سے انہوں نے 50 سے زائد دریافتیں کیں اور انہیں پیٹنٹ کرایا۔ یہ دریافتیں، بیکٹیریا، وائرس، فنگس اور کیڑوں کے خلاف موثر پائی گئیں

عہدے اور اعزازت[ترمیم]

کیمسٹری میں ڈاکٹریٹ " 1927ء جرمنی ریسرچ سائنٹسٹ، انڈین کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ 1940ء ڈائریکٹر نیشنل کیمیکل لیبارٹریز، انڈیا، فروری 1947ء پاکستان آمد : 1951ء (لیاقت علی خان کی دعوت پر) بانی، ڈائریکٹر، صدر ۔۔۔۔ پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ : 1953ء تا 1966ء بانی پاکستان اکیڈمی آف سائنسز 1953ء ممبر ٹیکنیکل، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن 1956ء پروفیسر اینڈ ڈائریکٹر ریسرچ، کراچی یونیورسٹی 1966ء بانی حسین ابراہیم جمال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف کیمسٹری فیلو رائل سوسائٹی آف لندن 1961ء ممبر ویٹی کن اکیڈمی آف سائنس 1964ء سوویت اکیڈمی آف سائنسز سے گولڈ میڈل لیڈز یونیورسٹی برطانیہ سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری 1967ء کراچی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری 1967ء برطانوی حکومت کی جانب سے "ایم بی ای" کا اعزاز 1964ء حکومت پاکستان سے ستارہ امتیاز 1962، صدارتی تمغا 1966، ہلال امتیاز 1980ء بانی رکن، تھرڈ ورلڈ اکیڈمی آف سائنسز 1983ء

شاعر اور فنکار[ترمیم]

سائنس دان ہونے کے علاوہ ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی ایک اچھے شاعر، موسیقار اور مصور بھی تھے۔ 1924ء اور 1927ء میں ان کی پینٹنگز کی نمائشیں فرینکفرٹ جرمنی میں ہوئیں۔ ان کا کیا ہوا جرمن شاعری کا اردو ترجمہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مجلے میں بھی شائع ہوا۔ سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف آرٹس اینڈ کرافٹس کراچی کے قیام میں بھی ان کا اہم کردار تھا۔

وفات[ترمیم]

ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کا انتقال 14 اپریل 1994ء کو کراچی میں ہوا اور انہیں کراچی یونیورسٹی کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔