سلیم الزماں صدیقی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی (پیدائش: 19 اکتوبر 1897ء - 14 اپریل 1994ء) پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ کیمیائی سائنسدان تھے جو نے "نیم" اور پھول دار پودوں پر تحقیق کی وجہ سے مشہور ہیں۔ آپ "ایچ ای جے انسٹیٹیوٹ آف کیمسٹری" کے بانی ڈائریکٹر تھے۔ سائنسی تخصیص کے علاوہ آپ مصور اور شاعر بھی تھے اور آپ کی مصوری کی نمائش ریاستہائے متحدہ امریکہ، ہندوستان، جرمنی اور پاکستان میں ہوچکی ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

سلیم الزماں صدیقی 19 اکتوبر 1897ء کو لکھنؤ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم لکھنو ٔ میں حاصل کرنے کے بعد وہ علی گڑھ آگئے۔ انہوں نے 1919ء میں علی گڑھ سے گریجویشن کیا ۔ اُس وقت تک وہ ایم۔اے۔او۔ کالج تھا ۔ یونیورسٹی 1920ء میں بنی۔ پھر وہ لندن آگئے اور کچھ دنوں یونیورسٹی کالج لندن میں رہنے کے بعد فرینکفرٹ چلے گئے جہاں سے انہوں نے 1927ء میں پی ایچ ڈی کی تکمیل کی۔ ہندوستان واپس آتے ہی وہ دہلی آگئے اور وہاں کے طبیہ کالج میں حکیم اجمل خاں کی قیادت میں شعبۂ تحقیق برائے آیورویدک اور یونانی طب قائم کیا۔ یہ شعبہ 1931ء میں قائم ہو ا تھا۔ 1940ء میں انہوں نے انڈین کائونسل آف سائینٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ میں کام شروع کیا اور وہاں دس برس رہے۔ قائدِ ملت لیاقت علی خاں کے اصرار پر وہ 1951ء میں پاکستان آگئے۔ حکومت پاکستان کی ایما پر انہوں نے پاکستان کاؤنسل آف انڈسٹریل اینڈ سائینٹفک ریسرچ قائم کی جس کا مرکز کراچی میں تھا اور اسکی شاخیں ڈھاکہ، راجشاہی، چٹاگانگ، لاہور اور پشاور میں بھی قائم کیں۔ 1966ء میں وہ کائونسل سے ریٹائر ہوئے اور کراچی یونیورسٹی میں حاجی ابراہیم جمال انسٹیٹیوٹ آف کیمکل ریسرچ قائم کیا۔ 1990ء تک وہ وہاں رہے اور اسکے بعد بھی پرائیویٹ کام کرتے رہے۔

ہم جب کراچی یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے تو آتے جاتے کہیں نہ کہیں سلیم الزمان صاحب سے صاحب سلامت ہو ہی جاتی تھی۔ مرحوم ہمارے والد سے بھی بڑی عمر کے تھے۔ ہماری انکی کوئی ذاتی جان پہچان نہیں تھی۔ لیکن ہم نے ہمیشہ انکو بڑی عقیدت اور احترام کی نظروں سے دیکھا۔ محض ایک طالب علم سمجھتے ہوئے ہم نے ہمیشہ انکی آنکھوں میں اپنے لئے ایک جذبۂ شفقت پایا۔ انکے چہرہ پر ہر وقت ایک بہت ہی دعوت آمیز خفیف سی مسکراہٹ ہو تی تھی کہ جیسے کہہ رہے ہوں۔’آئو ہم سے بات کرو۔‘

ہندوستان میں تحقیق کے دوران سلیم الزماں نے ہندوستانی پودہ سرپاگندھا ﴿Rauvolfiaserpentina﴾ سے ایک دوا بنائی جسکا نام انہوں نے حکیم اجمل کی یاد میں اجملین رکھا۔ اسکا کیمیائی فارمولا (C21H24N2O3)ہے۔ یہ دل کی غیر منظم دھڑکنوں (ARRYTHMIA) کا علاج کرتی ہے۔ انہوں نے نیم کے درخت ، اسکی چھال اور اسکے پھل یعنی نمکوری پر تحقیق کی۔ انہوں نے نیم کے تیل سے تین دوائیں بنائیں اور انکا نام نیمبین، نیمبیدین اور نیمبینین رکھا۔ انہوں نے بتا یا کہ نیمبیدین میں جراثیم کُش اثرات ہوتے ہیں، اسطرح سے انکی تحقیق نے پہلی بار یونانی اور آیورویدک طب کو جدید کیمسٹری میں متعارف کروایا۔ 1961ء میں وہ رائل سوسائٹی کے ممبر منتخب ہوئے۔ سوویٹ اکیڈمی آف سائینس نے انکو ایک گولڈ میڈل دیا۔ ا ور حکومت برطانیہ نے 1946ء میں انکو او۔بی۔ای ۔ کا خطاب دیا۔ پاکستان میں سلیم الزماں کی خدمات کوبہت سراہا گیا۔ 1953ء میں وہ پاکستان اکیڈمی آف سائنس کے فیلو قرار پائے۔ 1958ء میں انکو تمغۂ پاکستان ملا۔ 1962ء میں انکو ستارۂ امتیاز ملا۔ 1966ء میں انکو صدر پاکستان کا امتیازی انعام صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی دیا گیا۔ 1980ء میں انکو ہلال امتیاز ملا۔ سلیم الزماں صدیقی تھرڈ ورلڈ اکیڈمی آف سائنس کے اساسی رکن بھی رہے۔ انکی پانچویں برسی پر پاکستان پوسٹ نے انکا یادگاری ٹکٹ جاری کیا۔

وفات[ترمیم]

ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کا انتقال 14 اپریل 1994ء کو کراچی میں ہوا اور انہیں کراچی یونیورسٹی کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔