تحریک ندوۃ العلماء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

تحریک ندوۃ العلماء برصغیر میں برطانوی دور میں برپا ہونے والی ایک اصلاحی تحریک ہے جس کا بنیادی مقصد اسلامی مدارس کے نظام و نصاب تعلیم کی اصلاح اور اسے زمانے کے مطابق تبدیل کرنا تھا۔

پس منظر[ترمیم]

جنگ آزادی ہند 1857ء کے بعد مسلمانوں میں مایوسی عام تھی۔ مسلمانوں کو پسپائی سے نکال کر بلندی تک لے جانے کے لیے دو عظیم لیکن ایک دوسرے کی متضاد تحریکیں وجود میں آچکی تھیں۔ ایک دیوبند کی تحریک اور دوسری علی گڑھ تحریک۔ لیکن ان دونوں تحریکوں میں اتنی دوری اور اتنا تضاد تھا کہ یہ خود مسلمانوں کے لیے بہت بڑا مسئلہ بن چکا تھا۔ مسلمان دو گروہوں (جدت پسند اور قدامت پسند) میں تقسیم ہوچکے تھے۔ علی گڑھ جدیدیت کو اختیار کرنے اور ہر قدیم فکر سے دست بردار ہونے کا داعی تھا۔

قدیم و جدید کی اس تقسیم کے علاوہ ایک اور خطرناک فرقہ بندی مسلمانوں میں پوری طرح پھیلی ہوئی تھی۔ وہ فرقہ بندی تھی تقلید اور عدم تقلید کی۔ آمین، رفع یدین اور قرات خلف الامام کے مسائل کی بنیاد پر خون خرابا، طعن و تشنیع اور فرقہ پرستی عام تھی۔ سیکڑوں سال پرانے ان مسائل پر روزانہ ایسے دسیوں مناظرے ہوتے تھے، جن کا حَکَم کوئی غیر مسلم ہوتا تھا۔

تیسری طرف تعظیم اولیاء، فاتحہ خوانی، صلاۃ و سلام جیسے معمولی مسائل پر ایک دوسرے کو کافر کہنے کی ناپسندیدہ روِش زوروں پر تھی۔

غرض یہ کہ مسلمانان ہند بے شمار خطرناک مسائل میں الجھے ہوئے تھے۔ ان مسائل کو سلجھانے کے لیے ایک ایسے شخص کی ضرورت تھی، جو علوم شرعیہ پر بھی مجتہدانہ نگاہ رکھتا ہو اور زمانے کی ضروریات کا بھی مکمل احساس رکھتا ہو۔ ایسے وقت میں مولانا سید محمد علی مونگیری کی شکل میں مذہبی شخصیت رونما ہوئی۔[1]

تحریک کا آغاز[ترمیم]

سید محمد علی مونگیری نے 1310ھ بہ مطابق 1892ء میں مدرسہ فیض عام، کانپور کے جلسۂ دستار بندی کے موقعے پر ندوۃ العلماء کا تخیل پیش کیا۔ اس موقع پر حاضر سبھی علما نے اس تجویز کو پسند کیا۔ اس مجلس کا نام "ندوۃ العلماء" تجویز ہوا اور اس کے محرکِ اول سید محمد علی مونگیری ہی کو اس کا ناظمِ اول مقرر کر دیا۔ یہ طے پایا کہ آئندہ سال اس مجلس کا ایک جلسۂ عام ہوگا، جس میں تمام مسالک کے ممتاز علما کو دعوت دی جائے۔[2] چناں چہ 15-17 شوال المکرم 1311ھ بہ مطابق 22-24 اپریل 1894ء کو مدرسہ فیض عام میں ندوۃ العلماء کا پہلا اجلاس عام منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں خلاف قیاس کئی مختلف مکاتب فکر کی شخصیات جمع تھے۔[3] بنیادی طور پر ندوۃ العلماء کے تین مقاصد قرار پائے:

  1. اصلاح نصاب
  2. رفع نزاع باہمی
  3. غیر مسلموں میں اسلام کا تعارف

دار العلوم کی تجویز[ترمیم]

محمد علی مونگیری نے محسوس کیا جس فکر اور تخیل کے وہ علم بردار ہیں، وہ اُس وقت تک عام نہیں کی جاسکتی، جب تک اس فکر کو نئی جہت اور زاویہ نہ ملے۔ لہٰذا انھوں نے 12 محرم الحرام 1313ھ کو جلسۂ انتظامیہ میں ایک دار العلوم کے قیام کی تجویز پیش کی۔ انھوں نے پہلے سے تیار شدہ ایک وسیع خاکہ برائے دار العلوم بھی مسودۂ دارالعلوم کے نام سے پیش کیا اور ملک کے ممتاز اہل علم کو ارسال بھی کیا۔ اسی اجلاس میں قیام دار العلوم کی یہ تجویز منظور بھی ہو گئی۔[4]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مقدمہ سیرت مولانا محمد علی مونگیری، از: سید ابوالحسن علی ندوی
  2. تاریخ ندوۃ العلماء، جلد اول، ص:30
  3. سیرت مولانا محمد علی مونگیری، ص:125
  4. سیرت مولانا محمد علی مونگیری، ص:146،147

بیرونی روابط[ترمیم]