خلیل احمد انبہٹوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(خلیل احمد سہارنپوری سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
خلیل احمد انبہٹوی
معلومات شخصیت
پیدائش 1 دسمبر 1852  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
انبھٹہ، سہارنپور، برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 13 اکتوبر 1927 (75 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ[1][2][3]  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن جنت البقیع  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی مظاہر علوم سہارنپور  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
استاذ مولانا رشید احمد گنگوہی  ویکی ڈیٹا پر استاد (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص ادریس کاندھلوی  ویکی ڈیٹا پر شاگرد (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ الٰہیات دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک دیو بندی  ویکی ڈیٹا پر تحریک (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

خلیل احمد سہارنپوری انبھٹوی (پیدائش: دسمبر 1852ء— وفات: 13 اکتوبر 1927ء) مسلم عالم، دیو بندی مکتب فکر کے مشہور محدث، فقیہ، شیخ طریقت اور مصنف تھے۔

نام و نسب[ترمیم]

انبہٹہ، سہارن پور میں پیدا ہوئے۔ سلسلہ نسب صحابیء رسول حضرت ابو ایوب انصاری پر منتہی ہوتا ہے۔

تحصیل علوم[ترمیم]

پانچ برس کی عمر میں مملوک علی نے بسم اللہ کرائی۔ اردو اور فارسی کی تعلیم انبہٹہ اور نانوتہ میں حاصل کی عربی کی ابتدائی کتابیں اپنے قصبہ کے مشہور عالم مولوی سخاوت علی سے پڑھیں۔ بعد ازاں انگریزی تعلیم کے لیے سرکاری اسکول میں داخل ہو گئے۔
اس زمانے میں دارالعلوم دیوبند قائم ہوا۔ یہاں ان کے ماموں محمد یعقوب نانوتوی صدر مدرس تھے لہذا 1285ھ میں یہاں داخل ہو گئے اور قافیہ پڑھا۔ شرح تہذیب وغیرہ پڑھنے کے بعد مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور چلے گئے۔ یہاں حدیث، تفسیر، فقہ اور عقائد و علم کلام وغیرہ کی تحصیل کے بعد 1289ھ میں دار العلوم دیو بند میں آکر منطق، فلسفہ، ادب اور تاریخ کی اعلیٰ کتابیں پڑھ کر تعلیم سے فراغت حاصل کی۔ داروان تعلیم ہی ایک سال میں حفظ قرآن بھی کیا۔

تدریسی فرائض[ترمیم]

تحصیل علم کے بعد مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور میں بطور مدرس خدمات انجام دیں۔ مدرسہ مصباح العلوم بریلی اور بعد ازاں دارالعلوم دیوبند میں بھی تدریسی خدمات سر انجام دیں۔
مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور کے ناظم اعلیٰ بھی رہے۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

مولانا رشید احمد گنگوہی کے مرید و خلیفہ تھے۔ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے بھی آپ کو تحریری خلافت عطا کی۔

تصانیف[ترمیم]

سلسلہ شیوخ[ترمیم]

وفات و تدفین[ترمیم]

مدینہ منورہ میں جنت البقیع کے قبرستان میں مدفون ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]