قافیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

اردو شاعری میں قافیہ سے مراد شعر کے آخر میں آنے والے ہم آواز الفاظ ہیں۔ یاد رکھیے قافیہ شعر کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے اور ردیف قافیہ کے بھی بعد آتا ہے اور وہ تمام مصرعوں میں یکساں رہتا ہے۔ قافیے کی مثالیں:

ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے





ہر اک ہے مجھ سےتنگ تو میرا ہے کیا قصور!

مجھ کو نہیں ہے ڈھنگ تو میرا ہے قصور!


خوشیوں کو کرلیں عام کہ ہے عید کا یہ دن

سب کو کریں سلام کہ ہے عید کا یہ دن

شاعر : محمد اسامہ سَرسَریؔ