بحر (شاعری)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

علم عروض کے وہ مقررہ پیمانے جن کے اوزان میں شعر کہا جا سکے۔

رسالة في نظم بحور الشعر.jpg
رسالة في نظم بحور الشعر 1.jpg

تاریخ[ترمیم]

عروض کی مروجہ بحروں کا مدون خلیل بن احمد عروضی ( متوفی 175ھ / 791ء ) ہے۔ اساتذہ نے وقتاً فوقتاً اس کی مدونہ بحروں میں ارکان و زحافات کا تغیر کر کے نئی بحریں نکالیں چنانچہ آج کل غزل، قصیدہ، قطعہ وغیرہ کے لیے 19 بحریں اور مثنوی کے لیے 7 بحریں رائج ہیں۔

ارتقا[ترمیم]

بیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں اردو شعراء نے ہندی عروض (پنگل) سے متاثر ہو کر نئی بحریں وضع کی جو لطافت و تاثر سے خالی نہیں۔ ان شعراء میں عظمت اللہ خان کا نام خصوصاً قابل ذکر ہے۔