علی سردار جعفری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
علی سردار جعفری
معلومات شخصیت
پیدائش 29 نومبر 1913[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بلرام پور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 1 اگست 2000 (87 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ممبئی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ علی گڑھ
دہلی یونیورسٹی
جامعہ لکھنؤ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ مصنف،  شاعر،  ادبی تنقید نگار،  غنائی شاعر،  نغمہ نگار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
گیان پیٹھ انعام  (1997)[3]
IND Padma Shri BAR.png پدم شری اعزاز برائے ادب و تعلیم 
جواہر لعل نہرو فیلوشپ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

علی سردار جعفری بھارت سے تعلق رکھنے والے اردو کے مشہور و معروف شاعر تھے۔ وہ ادب کی ترقی پسند تحریک اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا سے وابستہ تھے۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

علی سردار جعفری اترپردیش کے گونڈہ ضلع کے بلرامپور میں 1913 میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے لکھنؤ میں ایک مذہبی ماحول میں پرورش پائی تھی۔ تعلیمی اعتبار سے انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی سے ماسٹرز کیا تھا۔

ادبی سفر کا آغاز[ترمیم]

جعفری کی ذہانت کا یہ عالم تھا کہ آٹھ سال کی عمر میں وہ انیس کے مرثیوں میں سے 1000 اشعار روانی سے پڑھتے تھے۔ وہ صرف پندرہ برس کے تھے جب انہوں خامہ فرسائ شروع کی تھی۔ انہوں نے ان کا ادبی سفر افسانہ نگاری سے شروع کیا تھا۔ 1938 میں ان کا پہلا افسانوں کا مجموعہ "منزل" شائع ہوا تھا۔ مگر اس کے بعد انہوں نے شاعری کا رُخ کیا۔

سیاسی سرگرمیاں[ترمیم]

علی سردار جعفری نے انقلابی اور حب الوطنی سے جڑی شاعری کی تھی جس کے سبب 1940 میں گرفتار ہوئے تھے۔ وہ بھارت کی کمیونسٹ پارٹی کے ایک رکن کے طور پر کام کرتے تھے اور اس کی ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں میں مستعدی سے۔ اپنی شاعری کے ذریعے، وہ عوام میں سیاسی شعور پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔

ادبی اصناف کا ذوق[ترمیم]

شاعری کے علاوہ جعفری ڈرامے اور افسانہ نگاری میں بھی خاصا عبور رکھتے تھے۔ وہ ممبئ سے چھپنے والے سہ ماہی "نیا ادب" کے مدیر تھے۔ وہ شیکسپئر کی کچھ تحریروں کا اردو میں کامیاب ترجمہ کرچکے تھے۔ ہندی اور اردو میں حدفاصل کو گھٹانے کے ایک تجربے کے طور پر انہوں نے چار روایتی شعرا غالب، میر، کبیر اور میرا کے کلاموں کو ایک ہی کتاب میں یکجا کیا تھا۔ علی سردار جعفری کو ان کی ادبی خدمات کی وجہ سے 1967 میں پدماشری کا قومی اعزاز دیا گیا تھا۔

ہند پاک دوستی کی وکالت[ترمیم]

1999 میں جب اس وقت کے بھارت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی پاکستان کے تاریخی دورہ امن پر آئے تھے، تب انہوں اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف کو "سرحد" کے نغموں کا البم پیش کیا تھا جنہیں لکھا علی سردار جعفری نے تھا اور آواز سیما انیل سہگل کی تھی۔

انتقال[ترمیم]

علی سردار جعفری یکم اگست 2000 میں ممبئ شہر میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے تھے۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14561272g — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb14561272g — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. http://www.jnanpith.net/page/jnanpith-laureates
  4. https://rekhta.org/poets/ali-sardar-jafri/profile?lang=Ur

بیرونی روابط[ترمیم]