ظہور نظر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ظہور نظر
Zahoor-Nazar.jpg
پیدائشملک ظہور احمد
27 جولائی 1923(1923-07-27)ء
منٹگمری (ساہیوالصوبہ پنجاب
وفات7 ستمبر 1981(1981-90-07) (عمر  58 سال)
بہاولپور،پاکستان
قلمی نامظہور نظر
پیشہشاعر، صحافی
زباناردو
نسلپنجابی
شہریتFlag of پاکستانپاکستانی
اصنافغزل، نظم
ادبی تحریکترقی پسند تحریک
نمایاں کامبھیگی پلکیں
زنجیر وفا
ریزہ ریزہ

ظہور نظر (پیدائش: 27 جولائی، 1923ء - وفات: 7 ستمبر، 1981ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور ترقی پسند شاعر اور صحافی تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

ظہور نظر 27 جولائی، 1923ء کو منٹگمری (ساہیوالصوبہ پنجاب (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے[1][2][3]۔ ان کا اصل نا م ملک ظہور احمد تھا۔

انھوں نے الیکٹریشن کے فرائض انجام دیئے، ٹھیکیداری اورکاشتکاری کی، ہوٹل میں نوکری کی، مرغیاں پالیں اور مزدوری کی۔باقاعدہ تعلیم جاری رکھنا ممکن نہ تھا، مگر انھوں نے اپنے طور پر مطالعہ جاری رکھا۔ ہفت روزہ *’’ستلج‘‘* بہاول پور کے مدیر رہے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے سکریٹری بھی رہے۔وی شانتا رام کی فلم *’’پڑوسی‘‘* کے مقبول گانے ظہورنظر نے ہی لکھے تھے۔ زندگی کے آخری دنوں میں ریڈیو پاکستان ، ملتان اور ریڈیو پاکستان بہاول پور کے لیے ڈرامے لکھے۔ ظہورنظر کی نظموں کا انگریزی ،روسی، چینی ،ڈچ اور اطالوی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ [4]

وہ ہفت روزہ ستلج اور ہفت روزہ عدل کے مدیر رہے۔ وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے پلیٹ فارم سے بھی ادب میں فعال کردار ادا کرتے رہے۔ ان کا شمار اردو کے اہم نظم گو شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کے مجموعہ کلام بھیگی پلکیں، ریزہ ریزہ اور زنجیر وفا کے نام سے اشاعت پزیر ہوئے تھے۔ انہوں نے کئی فلموں کے لیے نغمات بھی لکھے جن میں سلمیٰ، صبح کہیں شام کہیں اور پڑوسی کے نام شامل ہیں۔ ان کی نظمیں انگریزی، روسی، چینی، ولندیزی اور اطالوی زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہیں۔[2]

ظہور نظر ادبی انعام کا اجرا[ترمیم]

ظہور نظر کی وفات لے بعد ان کی یاد میں ظہور نظر ادبی انعام کا اجرا کیا گیا۔[2]

تصانیف[ترمیم]

  • بھیگی پلکیں
  • زنجیر وفا
  • ریزہ ریزہ

ظہور نظر کے فن پر کتب[ترمیم]

  • ظہور نظر فن اور شخصیت، ڈاکٹر خالق تنویر، بیکن بکس، ملتان، اپریل 2015ء

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

عشق میں معرکے بلا کے رہے آخرش ہم شکست کھا کے رہے
یہ الگ بات ہے کہ ہارے ہم حشر اک بار تو اٹھا کے رہے
سفرِ غم کی بات جب بھی چلی​تذکرے تیرے نقشِ پا کے رہے
جب بھی آئی کوئی خوشی کی گھڑی دن غموں کے بھی یاد آ کے رہے
جس میں سارا ہی شہر دفن ہوا فیصلے سب اٹل ہوا کے رہے
اپنی صورت بگڑ گئی لیکن​ہم انہیں آئینہ دکھا کے رہے
ہونٹ تک سی دیے تھے پھر بھی نظر ظلم کی داستاں سنا کے رہے[5]

غزل

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیںہم تو سُلگتے ہی رہتے ہیں کیوں سلگائیں تمہیں
ترکِ محبت ترکِ تمنا کر بھی چکنے کے بعدہم پہ یہ مشکل آن پڑی ہے کیسے بھلائیں تمہیں
دل کے زخم کا رنگ تو شاید آنکھوں میں بھر آئے​روح کے زخموں کی گہرائی کیسے دکھائیں تمہیں
درد ہماری محرومی کا تم تب جانو گےجب کھانے آئے گی چُپ کی سائیں سائیں تمہیں
سناٹا جب تنہائی کے زہر میں بجھتا ہےوہ گھڑیاں کیونکر کٹتی ہیں کیسے بتائیں تمہیں
اُڑتے پنچھی، ڈھلتے سائے، جاتے پل اور ہمبیرن شام کا دامن تھام کے روز بلائی تمہیں
دور گگن پر ہنسنے والے نرمل کومل چاندبے کل من کہتا ہے آؤ ہاتھ لگائیں تمہیں
انہونی کی چنتا ہونی کا انیائے نظر دونوں بیری ہیں جیون کے ہم سمجھائیں تمہیں[6]

وفات[ترمیم]

ظہور نظر 7 ستمبر، 1981ء کو بہاولپور،پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ بہاولپور میں قبرستان بابا شیر شاہ میں آسودۂ خاک ہیں۔[1][2][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ، وفیات ناموران پاکستان، لاہور، اردو سائنس بورڈ، لاہور، 2006ء، ص 452
  2. ^ ا ب پ ت عقیل عباس جعفری، پاکستان کرونیکل، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء، ص 518
  3. ^ ا ب ظہور نظر، سوانح و تصانیف ویب، پاکستان
  4. بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:149
  5. عشق میں معرکے بلا کے رہے (غزل)، ظہور نظر، ریختہ ڈاٹ کام، بھارت
  6. دیپک راگ ہے چاہت اپنی کاہے سنائیں تمہیں (غزل)، ظہور نظر، ریختہ ڈاٹ کام، بھارت