گلزار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گلزار
Gulzar 2008 - still 38227.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 18 اگست 1934 (84 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
دینہ، پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ راکھی گلزار (1973–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
اولاد میگنا گلزار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ فلم ہدایت کار[1]،منظر نویس[1]،فلم پیش کار،شاعر،مصنف،غنائی شاعر،نغمہ نگار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
فلم فیئر اعزاز برائے بہترین غنائی شاعر (2011)
زی سائن اعزاز برائے بہترین غنائی شاعر (برائے:ستیہ) (2003)
فلم فیئر اعزاز برائے بہترین ہدایت کار (1977)
فلم فیئر اعزاز برائے بہترین مکالمہ (1972)
فلم فیئر اعزاز برائے بہترین مکالمہ
فلم فیئر اعزاز برائے بہترین غنائی شاعر
فلم فیئر اعزاز برائے بہترین مکالمہ
فلم فیئر اعزاز 
IND Padma Bhushan BAR.png پدم بھوشن 
ساہتیہ اکیڈمی اعزاز 
دادا صاحب پھالکے ایوارڈ [2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

گلزار ایک نامور شاعر اور ہدایت کار ہیں۔ وہ پاکستان کے شہر جہلم کے قریب دینہ میں 1936ء میں پیدا ہوئے۔ اصلی نام سمپیورن سنگھ ہے۔ تقسیم برصغیر کے وقت وہ بھارت چلے گئے۔ ابتدائی زندگی میں موٹر مکینک تھے۔ شاعری اور فلمی دنیا کی طرف رحجان انھیں فلمی صنعت کی طرف لے گیا۔ گلزار نے فلمی اداکارہ راکھی سے شادی کی۔

بطور ہدایت کار[ترمیم]

گلزار نے بطور ہدایتکار اجازت، انگور، دل سے، معصوم آندھی، پریچے، موسم اور ماچس جیسی فلمیں بنائیں۔ ان کا ٹیلی ڈراما مرزا غالب ایک کلاسیک کی حیثت رکھتا ہے۔

بطور شاعر[ترمیم]

گلزار نے بطور شاعر بے شمار فلموں میں کے لیے گیت لکھے۔ ان کی فلمی شاعری میں بھی ایک اچھوتا پن پایا جاتا ہے۔ ان کے انوکھے اور نادر تشہبات کا استعمال ان کے گیتوں میں نئے رنگ بھر دیتا ہے۔ ان کے گیت نہ صرف ماضی میں پسند کیے جاتے رہے ہیں بلکہ آج کے دور میں بھی ان کے گانوں کو نوجوان شوق سے سنتے ہیں۔ سنیمابین چار سال قبل ریلیز ہوئی مشہور فلم بنٹی اور ببلی کے سپرہٹ گانے ’کجرا رے’ کو نہیں بھولے یا پھر فلم اوم کارا کا انتہائی مقبول گانا ’بیڑی جلائی لے‘ یا پھر حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم کمینے کا ہٹ نغمہ ’رات کے بارہ بجے’ ہو جو آج بھی ٹاپ دس گانوں کی فہرست میں شامل رہتا ہے، گلزار کی قلم سے نکلا ہر نغمہ عوام کے دل و دماغ پر مخصوص چھاپ چھوڑ جاتا ہے۔ فلم سلم ڈاگ ملینئیر کے لیے لکھے گئے گیتوں پر ان کو آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

نمونہ کلام[ترمیم]

فلم اجازت میں سے ان کا ایک گانا میرا کچھ سامان تمھارے پاس پڑا ہے شاعری، گلوکاری اور موسیقی کا اچھا نمونہ ہے۔

ایک دفعہ وہ یاد ہے تم کو

بن سائیکل کی بتی کا چالان ہوا تھا

ہم نے کیسے بھوکے،بے چاروں سی ایکٹنگ کی تھی

حوالدار نے الٹا ایک اٹھنی دے کر بھیج دیا تھا

ایک چوونی میری تھی

وہ بھیجوا دو

میرا کچھ سامان تمھارے پاس پڑا ہے

وہ لوٹا دو

ساون کے کچھ بھیگے بھیگے دن رکھے ہیں

اور میرے اک خط میں لپٹی رات پڑی ہے

وہ رات بجھادو

میرا وہ سامان لوٹا دو

پت جھڑ ہیں کچھ۔۔۔ ہیں نا

پت جھڑ میں کچھ پتوں

کے

گرنے کی آہٹیں

کانوں میں اک بار پہن کے لوٹ آئی تھی

پت جھڑ کی وہ شاخ ابھی تک کانپ رہی ہے

وہ شاخ گرا دو

میرا وہ سامان لوٹا دو

ایک اکیلی چھتری میں جب

آدھے آدھے بھیگ رھے تھے

آدھے سوکھے،ادھے گیلے،

سوکھا تو میں لے آئی تھی

گیلا من شاید بستر کے پاس پڑا ھو

وہ بھیجوا دو

میرا وہ سامان لوٹا دو

ایک سو سولہ چاند کی راتیں

ایک تمھارے کاندھے کا تل

گیلی مہندی کی خوشبو

جھوٹ موٹ کے شکوے کچھ

جھوٹ موٹ کے وعدے بھی

سب یاد دلا دو

سب بھیجوا دو

میرا وہ سامان لوٹا دو

ایک "اجازت "دے دو بس

جب اس کو دفناو ¿ں گی

میں بھی وہیں سو جاؤں گی

اعزازات[ترمیم]

گلزار نے اردو میں شاعری کی اور گیت لکھے جو ہمیشہ کانوں میں رس گھولتے رہتے ہیں۔ انھیں 2004ء میں بھارتی حکومت کی طرف سے پدما بھوشن کا خطاب ملا۔ اُن کی بے لوث خدمات کے لیے 11ویں اوسِیانز سِنے فین فلم فیسٹیول کی جانب سے 2009ء کا لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ دینے کا اعلان کیا۔ ان کی گیتوں کے تراجم کی انگریزی میں کتاب بھی شائع ہو چکی ہے۔ گلزار صاحب کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیور سٹی،حیدرآباد ننے 3 مارچ 2012 کواپنے چوتھے کانوکیشن میں ڈی۔ لٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا جبکہ 2013ء انہیں ہندوستانی سینما کا سب سے بڑا اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ دیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]