گلزار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
گلزار
گلزار
Gulzar at Tera Bayaan Ghalib.jpg
پیدائش Sampooran Singh Kalra18 اگست 1934 (1934-08-18) ‏(82)[lower-alpha 1]دینہ، پنجاب، ہندوستان
(اب پاکستان)
قومیت Indian
نسل Punjabi
پیشہ فلمی ہدایت کار، lyricist، منظر نویس، فلم پروڈیوسر، شاعر، author
سالہائے فعالیت

1971–99 (as director) (retired)

1956–تاحال (as lyricist)
مذہب سکھ مت
شریک حیات راکھی گلزار (ش. 1973)
بچے Meghna Gulzar
والدین Makhan Singh Kalra and Sujan Kaur
دستخط
Gulzar signature

گلزار ایک نامور شاعر اور ہدایت کار ہیں۔ وہ پاکستان کے شہر جہلم کے قریب دینہ میں 1936ء میں پیدا ہوۓ۔ اصلی نام سمپیورن سنگھ ہے۔ تقسیم برصغیر کے وقت وہ بھارت چلے گۓ۔ ابتدائی زندگی میں موٹر مکینک تھے۔ شاعری اور فلمی دنیا کی طرف رحجان انھیں فلمی صنعت کی طرف لے گیا۔ گلزار نے فلمی اداکارہ راکھی سے شادی کی۔

بطور ہدایت کار[ترمیم]

گلزار نے بطور ہدایتکار اجازت ، انگور ، دل سے ، معصوم آندھی، پریچے، موسم اور ماچس جیسی فلمیں بنائیں ۔ ان کا ٹیلی ڈراما مرزا غالب ایک کلاسیک کی حیثت رکھتا ہے۔

بطور شاعر[ترمیم]

گلزار نے بطور شاعر بے شمار فلموں میں کے لیے گیت لکھے۔ ان کی فلمی شاعری میں بھی ایک اچھوتا پن پایا جاتا ہے۔ ان کے انوکھے اور نادر تشہبات کا استعمال ان کے گیتوں میں نئے رنگ بھر دیتا ہے۔ ان کے گیت نہ صرف ماضی میں پسند کیے جاتے رہے ہیں بلکہ آج کے دور میں بھی ان کے گانوں کو نوجوان شوق سے سنتے ہیں۔سنیمابین چار سال قبل ریلیز ہوئی مشہور فلم بنٹی اور ببلی کے سپرہٹ گانے ’کجرا رے’ کو نہیں بھولے یا پھر فلم اوم کارا کا انتہائی مقبول گانا ’بیڑی جلائی لے‘ یا پھر حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم کمینے کا ہٹ نغمہ ’رات کے بارہ بجے’ ہو جو آج بھی ٹاپ دس گانوں کی فہرست میں شامل رہتا ہے، گلزار کی قلم سے نکلا ہر نغمہ عوام کے دل و دماغ پر مخصوص چھاپ چھوڑ جاتا ہے۔ فلم سلم ڈاگ ملینئیر کے لیے لکھے گئے گیتوں پر ان کو آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

نمونہ کلام[ترمیم]

فلم اجازت میں سے ان کا ایک گانا میرا کچھ سامان تمھارے پاس پڑا ہے شاعری، گلوکاری اور موسیقی کا اچھا نمونہ ہے۔

ایک دفعہ وہ یاد ہے تم کو

بن سائیکل کی بتی کا چالان ہوا تھا

ہم نے کیسے بھوکے،بےچاروں سی ایکٹنگ کی تھی

حوالدار نے الٹا ایک اٹھنی دے کر بھیج دیا تھا

ایک چوونی میری تھی

وہ بھیجوا دو

میرا کچھ سامان تمھارے پاس پڑا ہے

وہ لوٹا دو

ساون کے کچھ بھیگے بھیگے دن رکھے ہیں

اور میرے اک خط میں لپٹی رات پڑی ہے

وہ رات بجھادو

میرا وہ سامان لوٹا دو

پت جھڑ ہیں کچھ۔۔۔ ہیں نا

پت جھڑ میں کچھ پتوں

کے

گرنے کی آہٹیں

کانوں میں اک بار پہن کے لوٹ آئی تھی

پت جھڑ کی وہ شاخ ابھی تک کانپ رہی ہے

وہ شاخ گرا دو

میرا وہ سامان لوٹا دو

ایک اکیلی چھتری میں جب

آدھے آدھے بھیگ رھے تھے

آدھے سوکھے،ادھے گیلے،

سوکھا تو میں لے آئی تھی

گیلا من شاید بستر کے پاس پڑا ھو

وہ بھیجوا دو

میرا وہ سامان لوٹا دو

ایک سو سولہ چاند کی راتیں

ایک تمھارے کاندھے کا تل

گیلی مہندی کی خوشبو

جھوٹ موٹ کے شکوے کچھ

جھوٹ موٹ کے وعدے بھی

سب یاد دلا دو

سب بھیجوا دو

میرا وہ سامان لوٹا دو

ایک "اجازت "دے دو بس

جب اس کو دفناو ¿ں گی

میں بھی وہیں سو جاؤں گی

اعزازات[ترمیم]

گلزار نے اردو میں شاعری کی اور گیت لکھے جو ہمیشہ کانوں میں رس گھولتے رہتے ہیں۔ انھیں 2004ء میں بھارتی حکومت کی طرف سے پدما بھوشن کا خطاب ملا۔ اُن کی بے لوث خدمات کے لیے 11ویں اوسِیانز سِنے فین فلم فیسٹیول کی جانب سے 2009ء کا لائف ٹائم اچیومینٹ ایوارڈ دینے کا اعلان کیا۔ ان کی گیتوں کے تراجم کی انگریزی میں کتاب بھی شائع ہو چکی ہے۔ گلزار صاحب کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیور سٹی،حیدرآباد ننے 3 مارچ 2012 کواپنے چوتھے کانوکیشن میں ڈی۔لٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا جبکہ 2013ء انہیں ہندوستانی سینما کا سب سے بڑا اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ دیا گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

سانچہ:Gulzar


خطا در حوالہ: <ref> tags exist for a group named "lower-alpha", but no corresponding <references group="lower-alpha"/> tag was found, or a closing </ref> is missing