گوپی چند نارنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
گوپی چند نارنگ
Fellowship-Photograph.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 11 فروری 1931 (88 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ضلع دوکی، پاکستان  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت[1]
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی دہلی یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ماہرِ لسانیات، مصنف، مصنف  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو[2]، ہندی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت دہلی یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:Sakhtiyat, Pas-Sakhtiyat Aur Mashriqi Sheriyat) (1995)[3]
IND Padma Shri BAR.png پدم شری اعزاز برائے ادب و تعلیم 
Sitara-i-Imtiaz Pakistan.svg ستارۂ امتیاز 
IND Padma Bhushan BAR.png پدم بھوشن 
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ   ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

گوپی چند نارنگ 11 فروری 1931ء کو ڈکی، زیریں پنجاب میں پیدا ہونے والے پروفیسر گوپی چند نارنگ کو عہد حاضر کا صف اول کا اردو نقاد، محقق اور ادیب مانا جاتا ہے۔ گو کہ پروفیسر گوپی چند نارنگ دہلی میں مقیم ہیں مگر وہ باقاعدگی سے پاکستان میں اردو ادبی محافل میں شریک ہوتے ہیں جہاں ان کی علمیت کو نہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اردو کے جلسوں اور مذاکروں میں شرکت کرنے کے لیے وہ ساری دنیاکا سفر کرتے رہتے ہیں او رانہیں سفیر اردو کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ جہاں انہیں بھارت میں پدم بھوشن کا خطاب مل چکا ہے وہیں انہیں پاکستان میں متعدد انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ چند ماہ قبل تک وہ بھارت کے سب سے اہم ادبی ادارے ساہتیہ اکادمی کے صدر کے عہدے پر فائز تھے۔

سوانحی خاکہ اور تعلیم[ترمیم]

پروفیسر گوپی چند نارنگ نے بچپن کوئٹہ میں گزارا۔ انہوں نے سنہ 1954ء میں یونیورسٹی آف دہلی سے اردو میں ایم اے اور اسی جامعہ سے سنہ 1958ء میں لسانیات میں پی ایچ ڈی کی اسناد حاصل کیں۔ گوپی چند نارنگ نے سنہ 1957ء میں سینٹ اسٹیفینس کالج، دہلی میں لیکچرر کے طور پہ پڑھانا شروع کیا اور 1995ء تک دہلی یونیورسٹی میں پروفیسر کے طور پہ تدریس سے وابستہ رہے۔ وہ آج بھی دہلی یونیورسٹی کے اعزازی پروفیسر، پروفیسر ای میریٹس، ہیں۔

تصنیف و تالیف[ترمیم]

پروفیسر گوپی چند نارنگ چونسٹھ کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کتابوں میں پینسالیس اردو میں، بارہ انگریزی میں اور سات ہندی میں لکھی گئی ہیں۔

گوپی چند نارنگ کی کتاب "ساختیات، پس ساختیات، مشرقی شعریات" پر سرقہ ہونے کا الزام ہے۔ ان کی متعدد تحریروں کو سرقہ اور مشکوک قرار دیا جاچکا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ انگریزی کے یہ حوالہ جات نارنگ کے مابعد جدید مفکروں کے براہِ راست مطالعے کا نتیجہ نہیں ہیں۔ قارئین آگے چل کر دیکھیں گے کہ سیلڈن کی جس کتاب سے نارنگ نے جن ابواب کا سرقہ کیا ہے، ان ابواب میں جو Quotations سیلڈن نے قاری کی افہام و ترسیل کے لیے مابعد جدید مفکروں کی کتابوں سے استعمال کیے ہیں، نارنگ نے بھی ان کو بالکل اسی طرح لکھ دیا ہے۔ یہ حوالہ جات سیلڈن یا دوسرے شارحین نے پیش کیے ہیں۔ نارنگ انٹرویو میں دروغ گوئی سے کام لے رہے ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://catalogue.bnf.fr/ark:/12148/cb12086148t — اخذ شدہ بتاریخ: 26 مارچ 2017
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12086148t — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#URDU

بیرونی روابط[ترمیم]