یوسف حمید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یوسف حمید
معلومات شخصیت
پیدائش 25 جولائی 1936ء (عمر 83 سال)
ولنیس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
رہائش ممبئی، India
قومیت Indian
رکن رائل سوسائٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
زوجہ Farida
اولاد none
والدین Khwaja Abdul Hamied
عملی زندگی
مادر علمی کرائسٹ کالج، کیمبرج
پیشہ کارجو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
کل دولت US$1.59 billion (فروری 2018)[1]
اعزازات
پدم بھوشن

یوسف خواجہ حمید (پیدائش 25جولائی 1936ء) ایک بھارتی سانئسدان اور ارب پتی کاروباری شخص ہے۔ کیپلا عام دوا ساز کمپنی کے چئیرمین ہیں جو 1935ء میں اس کے والد عبدالحمید نے قائم کی۔[2] حمید ولنیس، لتھونیا میں پیدا ہوا اور بمبئی (موجودہ ممبئی) میں پرورش پائی۔ اس کے شمالی ہندوستانی باپ اور ریسوفون لیتھونین یہودی ماں کی ملاقات برلن جنگ میں ہوئی جہاں وہ یونیورسٹی کے طلبہ تھے۔ حمید نے کتھوڈرل ، جان کینناسکول اور سینٹ زایویر کالج ممبئی سے تعلیم حاصل کی۔

اس کے بعد وہ انگلینڈ گیا اور کیمیاء میں کرسٹ کالج کیمبرج سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ کیمبرج یونیورسٹی سے ہی ایک نوٹ بک اپنے ساتھ رکھتا تھا جس میں وہ بےہوشی کی دوا کے نت نئے تجزیات لکھتا رہتا تھا۔

حمید بھارت سے باہر غریب ملکوں کے متاثرہ لوگوں کے پاس عام ایڈز کی دوائیاں اور بڑی مغربی دواساز کمپنیوں کی ادویات فراہم کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ حمید ترقی پزیر دنیا میں ایڈز کے مریضوں کو زندگی بچانے والی ادویات فراہم کرتا ہے اس بات سے بے نیاز ہو کر کہ وہ قیمت ادا کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اس کی اس خاصیت کی وجہ سے وہ آج کے جدید دور کا "رابن ہڈ " قرار دیا جاتا ہے۔ حمید کا بیان ہے کہ میں ان بیماریوں سے رقم نہیں بنانا چاہتا جو معاشرے کو بری طرح کچل رہی ہیں۔ ستمبر 2011ء میں اس کے بارے میں آیا کہ وہ ذیابیطس، کینسر اور دیگر لا علاج بیماریوں کی ادویات کی قیمتوں میں کمی کے لیے کوشش کر رہا ہے۔

نیویارک ٹائمز حمید کے بارے میں لکھتا ہے:

"ڈاکٹر یوسف کے - حمید بھارتی دوا ساز کمپنی کیپلا کے چئیرمین ہیں۔ حمید نے ایک دہائی قبل گلوبل ہیلتھ کمیونٹی کو یہ کہہ کر شکست دی کہ وہ 1$ سے ایک دن کی ایڈز کی دوا تیار کر سکتے ہیں۔ اس قیمت کی وجہ سے معیاری دوا ساز کمپنیوں کی 20 سینٹ قیمت تک گر گئی۔ اور اب ترقی پزیر دنیا کے چھ ملین سے زائد لوگ علاج حاصل کر رہے ہیں۔ 2001ء میں یہ تعداد 2,000 سے تھوڑی اوپر تک گئی۔ حمید نے ادویات کی ترقی کے لیے بااثر رہنما کے طور (ایف ڈی سی ) پر ایچ آئی وی، ایڈز، دمہ یعنی ٹی بی اور دیگر بیماریوں کی ادویات ترقی پزیر ممالک میں پہنچانے کے لیے کام کیا۔ خاص طور پر طب اطفال کی ادویات کے ذریعے لوگوں کو فائدہ پہنچایا اور کئی اقدامات کی وجہ سے ادویات تک رسائی حاصل ہونے کی وجہ سے انہیں وسیع پیمانے پر پھیلایا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Yusuf Hamied"۔ فوربس میگزین۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 فروری 2018۔
  2. Sarah Boseley۔ "Yusuf Hamied, generic drugs boss | World news"۔ London: The Guardian۔ مورخہ 7 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-09-01۔