مجنوں گورکھپوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مجنوں گورکھپوری
معلومات شخصیت
پیدائش 10 مئی 1904  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
گورکھپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 4 جون 1988 (84 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن سخی حسن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ الٰہ آباد
کلکتہ یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد ماسٹر آف آرٹس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیمی اسناد (P512) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ادبی تنقید نگار،  پروفیسر،  افسانہ نگار،  مترجم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو،  انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل افسانہ،  انگریزی ادب،  ادبی تنقید،  غالبیات،  ترجمہ،  ناول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت جامعہ علی گڑھ،  جامعہ کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
P literature.svg باب ادب

پروفیسر مجنوں گورکھپوری (پیدائش: 10 مئی1904ء - وفات: 4 جون 1988ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز محقق، افسانہ نگار، نقاد، مترجم اور پروفیسر تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

مجنوں گورکھپوری 10 مئی 1904ء کو گورکھپور، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔</ref>[2][3] ان کا اصل نام احمد صدیق تھا۔ انہوں نے انگریزی اور اردو میں ایم اے کیا۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ کراچی سے بطور استاد وابستہ رہے۔[4]

ادبی خدمات[ترمیم]

مجنوں گورکھپوری کا شمار اردو کے چند بڑے نقادوں میں ہوتا ہے۔ ان کی تنقیدی کتب میں نقوش و افکار، نکات مجنوں، تنقیدی حاشیے، تاریخ جمالیات، ادب اور زندگی، غالب شخص اور شاعر، شعر و غزل اور غزل سرا کے نام اہم ہیں[5]۔ وہ ایک اچھے افسانہ نگار بھی تھے اوران کے افسانوں کے مجموعے خواب و خیال، مجنوں کے افسانے، سرنوشت، سوگوار شباب اور گردش کے نام سے اشاعت پزیر ہوئے۔ وہ انگریزی زبان و ادب پر بھی گہری نظر رکھتے تھے اور انہوں نے شیکسپیئر، ٹالسٹائی، بائرن، برنارڈشا، آسکر وائلڈ اور جان ملٹن کی تخلیقات کو بھی اردو میں منتقل کیا۔[5]

تصانیف[ترمیم]

  • تین مغربی ڈرامے (ترجمہ)
  • سراب
  • دُوش و فردا (تنقید)
  • سمن پوش اور دوسرے افسانے (افسانے)
  • آغاز ہستی (ترجمہ)
  • مریم مجدلانی (ترجمہ)
  • سالومی (ترجمہ)
  • سرنوشت (ناول)
  • سوگوار شباب (افسانے)
  • شعر و غزل
  • گردش(ناولٹ)
  • غزل سرا
  • خواب و خیال
  • نقوش و افکار (تنقید)
  • نکات ِ مجنوں (تنقید)
  • تنقیدی حاشیے (تنقید)
  • اقبال اجمالی تبصرہ (تنقید)
  • تاریخ ِ جمالیات
  • مجنوں کے افسانے (افسانے)
  • زہر عشق
  • پردیسی کے خطوط
  • غالب شخص اور شاعر (غالبیات)
  • انتخاب دیوان شمس تبریز
  • ادب اور زندگی
  • ارمغان ِ مجنوں

وفات[ترمیم]

مجنوں گورکھپوری 4 جون، 1988ء کو کراچی، پاکستان میں انتقال کر گئے اور سخی حسن کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔[4][3][2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. او ایل آئی ڈی: https://openlibrary.org/works/OL6725785A — بنام: Aḥmad Siddīq Majnūn Gorakhpūrī — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — مصنف: آرون سوارٹز — اجازت نامہ: اے جی پی ایل-3.0
  2. ^ ا ب پروفیسر محمد اسلم، خفتگانِ کراچی، ادارہ تحقیقات پاکستان، دانشگاہ پنجاب لاہور، نومبر 1991، ص 273
  3. ^ ا ب مجنوں گورکھپوری،بائیو ببلوگرافی ڈاٹ کام، پاکستان
  4. ^ ا ب پاکستان کرونیکل، عقیل عباس جعفری، ورثہ / فضلی سنز، کراچی، 2010ء، ص 633
  5. ^ ا ب دی کوزہ اردو، کیلیگری، کینیڈا، 4 جون 2014ء